مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کا اجلاس بحسن وخوبی اختتام پذیر۔چونتیسویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس کی تیاریاں زوروں پر کرنے کی تلقین۔ سلسلہ پروگرام’’ قوم وملت داعش ودہشت گردی کے تعاقب میں ‘‘کومزیدتوانائی کے ساتھ جاری رکھنے پرزور۔اہم ملی،ملکی

دہلی، ۱۹نومبر۲۰۱۷ء بروز ہفتہ
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی پریس ریلیز کے مطابق آج اہل حدیث کمپلیکس،اوکھلا،نئی دہلی میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کی ایک اہم میٹنگ امیرجمعیت محترم مولانااصغرعلی امام مہدی سلفی حفظہ اللہ کی صدارت میں منعقد ہوئی جس میں ملک کے بیشتر صوبوں سے آئے اراکین اور صوبائی ذمہ داران نے شرکت کی۔امیرمحترم نے اپنے خطاب میں تعلیم وتزکیہ ،تقوی للہیت ،اتحاد واتفاق ،خیرسگالی، قومی یکجہتی ،فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور انسان دوستی پرزور دیا اورکہا کہ اتحاد ویکجہتی کے ساتھ ہی داعش ودہشت گردی کا تعاقب ہے ۔اس اجلاس میں ناظم عمومی مولانامحمد ہارون سنابلی نے کار کردگی رپورٹ پیش کی جس کی توثیق کی گئی اورناظم مالیات الحاج وکیل پرویز نے حسابات پیش کیے جس پر ہائوس نے اطمینان وخوشی کا اظہار کیا۔ میٹنگ میںجمعیت کے کاموں کا بھی جائزہ لیا گیااور آئندہ دعوتی،تعلیمی، تنظیمی ،تعمیراتی اوررفاہی منصوبوں اورانسانی خدمات کومہمیزدینے کے لئے غور کیا گیا۔مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام چونتیسویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس کی تیاریاں زوروں پر کرنے کی تلقین کی گئی۔ نیز طے پایا کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے سلسلہ پروگرام ’’قوم وملت داعش ودہشت گردی کے تعاقب میں ‘‘کومزید توانائی کے ساتھ جاری رکھا جائے۔ علاوہ ازیں جمعیت کے مالی استحکام بالخصوص اہل حدیث کمپلیکس میں زیر تعمیر کثیرالمقاصدعمارت کے لئے ملکی سطح پر اہل خیر حضرات کا زیادہ سے زیادہ تعاون حاصل کرنے کی اپیل کی گئی ہے اورمرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیراہتمام ۱۲نومبر۲۰۱۷ء سے جاری آل انڈیا ریفریشرکورس برائے ائمہ دعاۃ ومعلمین کے انعقاد کی تحسین کرتے ہوئے ذمہ داروں کومبارکبادپیش کیا گیا اور اسے وقت کی ضرورت قرار دیاگیا۔ ملک وملت اور عالمی مسائل سے متعلق قرار داد وتجاویز منظور کی گئیں۔
مجلس عاملہ کی قرارداد میں میانمارمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اورروہنگیائی مسلمانوں کی نسل کشی کی سخت مذمت کی گئی ہی،سیاسی پارٹیوں سے عوامی مسائل پرانتخاب لڑنے کی اپیل اور مذہبی امور کو بنیاد بناکر الیکشن لڑنے سے گریز کرنے کی بھی اپیل کی گئی ہے ۔ مجلس عاملہ کی قرار داد میں کہا گیا کہ ملک مخالف سرگرمیوں سے مسلم نوجوانوںکا کوئی تعلق نہیں ہے اورحکومت سے مطالبہ کیا گیاہے کہ عدالت نے جن نوجوانوں کو باعزت بری کردیا ہے ان کو بھرپور معاوضہ دیا جائے۔ علاوہ ازیں مسلم تنظیموں اورملی اداروں کے سربراہوں سے ایک دوسرے پر الزام اورجوابی الزام سے احتراز کرنے کی اپیل کی اور داعش کی دہشت گردانہ کار وائیوں اور دہشت گردی کی مذمت کی گئی ہے۔ قرارداد میں ملک میں امن وامان کی بگڑتی صورت حال اوراجتماعی بھیڑکے ذریعہ قتل کے رجحان پر اظہار تشویش کیا گیا ۔ اسی طرح موقر ہائوس نے ذمہ داران جمعیت کے خلاف غلط پروپیگنڈہ کرنے والوں کی سخت مذمت کے ساتھ ساتھ انہیں تنبیہ کی گئی۔
مجلس عاملہ نے بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرنے کی ضرورت پرزوردیتے ہوئے کہا کہ اس سے عدالتی نظام پر عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہوگا اوربابری مسجد ملکیت معاملہ میںسپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کرنا چاہئے اور کہا گیا کہ اس مسئلہ میں ہر آدمی کو اپنی اپنی رائے دینے کے بجائے فریقین ہی اس سلسلہ میں بات کرنے کے مجاز و مختار ہیں، چونکہ بابری مسجد کی ملکیت کا معاملہ عدالت میں ہے اور ۵دسمبر سے مسلسل سنوائی ہونے جارہی ہے اس سلسلہ میں ہماری رائے مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ساتھ ہے۔ قراداد میں بہار، یوپی، بنگال، آسام اورملک کے دیگر حصوں میں سیلاب متاثرین کی مدداور بازآبادکاری کی اپیل اورمرنے والوںکے اہل خانہ سے اظہارتعزیت کیا گیاہے ۔ عاملہ کی قرارداد میں حوثی باغیوں کی طرف سے ریاض ایئرپورٹ پر میزائل حملہ کی مذمت کی گئی ہے۔
قراردادمیں بہار میں جہیز پر پابندی کی ستائش کی گئی ہے اور ملی اورجماعتی اعیان کے انتقال پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیاگیاہے

The Collective Fatwa against Daish and those of its ilk

ہمارے رسائل وجرائد

http://ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/al-isteqamah2gk-is-214.jpglink
http://ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/islahe-samaj2gk-is-214.jpglink
http://ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/jareeda-tarjumah2gk-is-214.jpglink
http://ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/the-symple-truth2gk-is-214.jpglink
«
»
Loading…