۳۳؍ویںآل انڈیا اہل حدیث کانفرنس بسلسلہ دہشت گردی کے خلاف ائمہ کا کردار بحسن وخوبی اختتام پذیر اختتامی اجلاس میں اکابر علماء کرام اور زعمائے ملک و ملت نے رام لیلا میدان میں پورے ملک سے امڈے ہوئے عوامی سیلاب سے خطاب کیا ملک و ملت اور انسانیت کی خدمت ا

Photo

۱۴؍مارچ ۲۰۱۶ء 
دہشت گردی عصر حاضر کا سب سے بڑا ناسور ہے۔ داعش اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بڑی سازش ہے یہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے ۔ اس کا اسلام اور مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جماعت اہل حدیث کا عقیدہ و منہج دہشت گردی کے خلاف ہے ہم دہشت گردی کی بھر پور مذمت کرتے ہیں ۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند ۲۰۰۴ء سے ہی دہشت گردی کے خلاف مہم چھیڑے ہوئی ہے۔ یہ دو روزہ عظیم الشان ۳۳؍ویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس اسی سلسلہ کی اہم کڑی ہے۔ ان خیالات کا اظہار مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی ناظم عمومی مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے کیا۔ موصوف کل رات یہاں تاریخی رام لیلا میدان میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام تینتیسویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس کے اختتامی اجلاس میں پورے ملک سے امڈے ہوئے عوامی سیلاب سے خطاب کررہے تھے۔ 
انہوں نے کہا ائمہ کرام ملک و ملت اور انسانیت کے معمار ہیں یہی وجہ ہے کہ ملک و ملت اور انسانیت کو جب کوئی اہم مسئلہ یا چیلنج درپیش ہوتا ہے تو یہ آگے بڑھ کر اپنا تاریخی و منصبی کردارادا کرتے ہیں۔ کانفرنس میں موجود ائمہ کرام کی بھاری تعداد نے ثابت کردیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے مقابلہ کے لیے کافی سنجیدہ اور پوری طرح تیار ہیں۔
اس اجلاس میں مولانا محمد ہارون سنابلی ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث مغربی یوپی نے ’’صالح معاشرہ کی تشکیل میں ائمہ کا کردار ‘‘، ڈاکٹر سعید احمد عمری امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث آندھراپردیش نے فتنہ و فساد کے دور میں ائمہ کا کردار ، مولانا عبدالرحیم مکی، امیر صوبائی جمعیت اہلحدیث تلنگانہ نے ’’خطباء کے اوصاف قرآن وحدیث کی روشنی میں‘‘، مولانا ابو زید ضمیر پونہ نے ’’انسانیت کے فروغ میں ائمہ و خطباء کا کردار‘‘، مولانا شاہ ولی اللہ عمری نائب امیر صوبائی جمعیت اہلحدیث کرناٹک نے’’ ہندوستا ن میں مساجد کا تحفظ مسائل اور تدابیر ‘‘، مولانا معراج مدنی نے ’’ازالہ اوہام ورسوم میں مساجد کا کردار‘‘ ، مولانا جرجیس سراجی نے ’’مساجد اسلامی تشخص کے امین ‘‘ ، مولانا ثناء اللہ مدنی نے ’’رسم و رواج کے خاتمہ میں ائمہ و خطباء کا کرادار‘‘ ، مولانا مطیع اللہ حقیق اللہ استاذ مدرسہ خدیجۃالکبریٰ للبنات، جھنڈا نگر نیپال نے ’’ ائمہ کی ناقدری ۔ذمہ دار کون؟ ‘‘ ، مولانا عبدالغنی القوفی نیپال نے ’’خطابت کے اصول و مبادی ‘‘ کے موضوعات پر مغز خطاب کیا اور اس کانفرنس کے انعقاد پر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ذمہ داران کو مبارک باد پیش کیا۔


سعودی سفارت خانہ کے شیخ احمد علی الرومی نے کہا کہ میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی اس بابرکت کانفرنس میں اپنی موجودگی کو باعث سعادت جانتا ہوں اور اس موضوع کے انتخاب پر ناظم عمومی مولاناا صغرعلی امام مہدی سلفی کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اسلام وسطیت اور اعتدال کا مذہب ہے اور مساجد کے ائمہ اسلام کے پیغام امن وانسانیت کو عام کرتے ہیں۔ مولانا ابوطالب رحمانی کولکاتہ نے کہا کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے ائمہ و خطباء مساجد کے عنوان پر نہایت موزوں اور بروقت کانفرنس منعقد کی ہے اس کے لیے ہم ذمہ داران کو مبارباد پیش کرتے ہیں۔
ناخدا مسجد کولکاتہ کے شاہی امام و خطیب مولانا شفیق قاسمی نے کہا مجھے بڑی خوشی ہورہی ہے کہ رام لیلا میدان میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے بینر تلے تمام مکتب فکر کے علماء جمع ہیں۔ یقیناًمولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی و ذمہ داران جمعیت مبارک باد کے مستحق ہیں۔ ان کا مقصد اتحاد پیدا کرنا ہے۔ 
انجمن منہاج رسول کے صدر مولانا سید اطہر حسین دہلوی نے کہا کہ میں یہ بات پوری ذمہ داری کے ساتھ کہتا ہوں کہ جب مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی صاحب کسی پروگرام میں موجود ہوتے ہیں تو مجھے بڑا حوصلہ ملتا ہے۔ انہوں نے ائمہ و خطباء کو فروعی مسائل سے نکال کر دہشت گردی کے خلاف رام لیلا میدان میں اکٹھا کردیا ہے، اس کے لیے میں ان کو دلی مبارکباد دیتا ہوں۔ ڈاکٹر عبداللطیف الکندی ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث جموں و کشمیر نے کہا کہ ایسے وقت میں جبکہ پوری دنیا مشکل ترین مسائل سے دو چار ہے ، ائمہ وخطباء کے موضوع پر تاریخی اور عظیم الشان کانفرنس کا انعقاد نہایت اہم ہے ۔ اس کی سخت ضرورت تھی۔
اس موقع پر صوبائی جمعیت اہل حدیث کیرالہ کے نائب ناظم مولانا عبدالرحمن سلفی، رکن مجلس شوریٰ مولانا عبدالجلیل انصاری (ممبئی) ، شیخ عبدالرحمن العیدان، مولانا رضوان اللہ ریاضی، ڈاکٹر عمر عبدالرحمن العمر اور کنوینراجلاس مولانا اقبال احمد محمدی وغیرہ نے بھی اپنے تاثرات پیش کئے اور مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ذمہ داران خصوصا مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی کو مبارک باد پیش کی اور اس کانفرنس اور اس کے موضوع کو وقت کی بڑی ضرورت قراردیا۔ 
اجلاس کے مہمان خصوصی ڈاکٹر سلیمان بن سلیم اللہ الرحیلی واعظ مسجد نبوی نے کانفرنس کے موضوع کی اہمیت و ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے مرکزی جمعیت اہل حدیث کے ذمہ داران کو مبارک باد پیش کی اور ائمہ مساجد کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ تمام مسائل و مشکلات خواہ کتنی بڑی ہوں صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے اور ہمیشہ نرمی اختیار کرنی چاہئے۔ تشدد اور اشتعال انگیزی خوارج کا طریقہ ہے۔ اسلام امن وشانتی کی تعلیم دیتا ہے اور ہر طرح کی بربریت اور ظلم و تشدد اور دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔ 
اس اجلاس میں ’’محمد بن عبدالوہاب اور داعش سے برأت‘‘ ، تحر یک ختم نبوت ۲۴ ؍ویں جلد، تاریخ اہل حدیث ۷؍ ویں جلد، داعش کے خلاف اجتماعی فتویٰ پر مشتمل انگریزی مجلہ دی سمپل ٹروتھ، اردو مجلہ جریدہ ترجمان اور ہندی مجلہ اصلاح سماج کا خصوصی شمارہ ، علم المیراث، مدارس اہلحدیث دہلی، اسلامی اعتدال امن عالم اور فلاح انسانیت کا ضامن مجموعہ مقالات وغیرہ کتابوں کا اکابرین ملک وملت کے ہاتھوں اجراء بھی عمل میں آیا۔ نیز داعش وغیرہ کے خلاف علماء کرام کی خدمات کے اعتراف میں بلا تفریق مسلک ائمہ مساجد کو توصیفی سند سے بھی نوازا گیا۔ 
اخیر میں ملک وملت اور انسانیت کے مسائل سے متعلق بیس نکاتی قرار داد بھی منظور کی گئی۔ جس میں اس موقف کا اظہار کیا گیا کہ امامان دین قابل احترام ہیں اور ان کی شان میں کسی طرح کی گستاخی عقیدہ و منہج سلف کے منافی ہے۔ مساجد و مکاتب اور مدارس اسلامیہ میں ائمہ اور اساتذہ کی کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متولیان مساجد اور سماج کے مالدار طبقہ سے اپیل کی گئی کہ ان کو معقول تنخواہیں دی جائیں۔اسی طرح ملی تنظیموں اور ملی رہنماؤں سے اپیل کی گئی کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی سے گریز کریں ۔ اس لیے کہ اس میں عوام وخواص میں اختلا ف وانتشار کو ہوا ملتی ہے جو کہ کسی بھی طرح ملک و ملت کے مفاد میں نہیں ہے۔ اتحاد و اتفاق اور قومی یکجہتی کے فروغ اور کسی بھی طرح کی نفرت آمیزی سے گریز کی تلقین کرتے ہوئے کانفرنس میں سماج میں بڑھتے ہوئے اخلاقی بگاڑ، فساد ، اباحیت پسندی، شراب نوشی، اور شدت پسندی وغیرہ پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ۔ اسی طرح علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی بابت مرکزی حکومت کے موقف میں تبدیلی پر اظہار تشویش کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ اس کے مقصد قیام اور تاریخی پس منظر کے مد نظر اس کی اقلیتی کردار کو باقی رکھا جائے۔ نیز یونیورسٹیوں میں سیاسی تگ وتاز اور عمل دخل پر روک لگائی جائے۔ قرار داد میں دہشت گرد تنظیموں خصوصا داعش وغیرہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی اور اسے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی مذموم سازش قرار دیا گیا۔ نیز داعش کے نام پر وطن عزیز میں ہونے والی گرفتاریوں پر اظہار تشویش کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ اس معاملہ میں شفافیت لائے اور قرطاس ابیض جاری کرے۔ اور مسلم نوجوانوں کی گرفتاریوں اور دہشت گردانہ واقعات میں ان کے ملوث ہونے کی غیر جانبدارانہ انکوائری اور جیلوں میں بند نوجوانوں کے خلاف مقدمات کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ اہل وطن کو ان کے خلاف الزامات کی حقیقت کا علم ہوسکے۔ 
قرار داد میں دہشت گردی اور داعش کے خلاف مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی طرف سے سب سے پہلے جاری اجتماعی فتویٰ کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس کانفرنس میں اسے دوبارہ جاری کئے جانے کی تحسین کی گئی۔ نیز ’’انسانیت کے فروغ اور پر امن معاشرہ کے تشکیل میں ائمہ وخطباء کا کردار اور ان کے حقوق ‘‘ کے موضوع پر کانفرنس کے انعقاد کو وقت کی بڑی ضرورت قرار دیتے ہوئے ذمہ داران کو مبارک باد پیش کی گئی۔ نیز ائمہ کرام کو قرآن وسنت کی روشنی میں ان کی بے لوث ملکی ، ملی اور انسانی خدمات کے لیے ہدیہ تبریک پیش کیا گیا اور تلقین کی گئی کہ وہ ملک ومعاشرہ کی تعمیرو اصلاح اور دہشت گردی وانتہاء پسندی کے خاتمے اور نئی نسل کو اسلام کی امن وآشتی پر مبنی تعلیمات سے روشناس کرانے اور بہترین رہنمائی کے لیے مزید متحرک و فعال ہوجائیں۔ 
قرار داد میں مشرقی وسطی خصوصا خلیجی ممالک میں امن و امان کی بگڑتی صورتِ حال پر تشویش کا اظہا رکرتے ہوئے حکومت سعودی عرب کی تمام تر اصلاحی، تعلیمی اور رفاہی سرگرمیوں کی تائید و حمایت کی گئی اور خدمت انسانیت اور دہشت گردی کے خلاف اس کی کوششوں کو سراہا گیا خاص طو ر پر یمن میں دہشت گردوں کے سلسلہ میں بہترین حکمت عملی اور دہشت گردوں کو قرار واقعی سزا دینے میں ان کی مساعی جمیلہ کی تائید کی گئی اور ان کو بنظر استحسان دیکھا گیا ۔ اسی طرح حالیہ دنوں اہم ملی و جماعتی شخصیات کے انتقال پر اظہار تعزیت کیا گیا۔ 
اختتامی اجلاس تقریبا ۱۱؍ بجے شب تک جاری رہا۔ صدارت قاری نجم الحسن فیضی رکن شوریٰ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند(ممبئی) اور مولانا شمیم احمد ندوی ناظم اعلیٰ جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈا نگر نیپال نے فرمائی ۔ نظامت مولانا انصار زبیر محمدی(ممبئی ) نے کی۔ ڈاکٹر عتیق اثر ندوی اور مولانا جمیل اختر شفیق تیمی وغیرہ شعراء نے دہشت گردی کے خلاف منظوم کلام پیش کئے۔ اس موقع پر مقالہ نگاران نے بھی بہترین مقالات بھی جمع ہوئے۔ ڈاکٹر محمد شیث ادریس تیمی نے قرار داد کا متن پڑھ کر سنایا ۔ناظم عمومی مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے فردا فردا کلمات تشکر پیش کئے۔

The Collective Fatwa against Daish and those of its ilk

ہمارے رسائل وجرائد

http://ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/al-isteqamah2gk-is-214.jpglink
http://ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/islahe-samaj2gk-is-214.jpglink
http://ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/jareeda-tarjumah2gk-is-214.jpglink
http://ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/the-symple-truth2gk-is-214.jpglink
«
»
Loading…