ائمہ کرام الفت و محبت اور امن وانسانیت کے پیامبر ہیں؍مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی ۳۳؍ویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس کے دوسرے دن مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام اور سیاسی و سماجی شخصیات کی شرکت اور اظہار خیال۔ داعش وغیرہ پر خصوصی شمارہ کا اجراء

Photoنئی دہلی: ۱۳؍مارچ ۲۰۱۶ء
ملک کے اندر موجود مختلف تنظیمیں چمن کے رنگ برنگے پھولوں کی طرح ہیں۔ اور یہ اپنے اپنے میدانوں میں قوم وملت اور انسانیت کی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اور جب ملک وملت کوئی اہم مسئلہ اور چیلنج در پیش ہوتا ہے تو یہ ساری تنظیمیں اٹھ کھڑی ہوتی ہیں۔ یہ ساری تنظیمیں ملک کے گنگا جمنا تہذیب کی نگہبان ہیں۔ ملک و انسانیت کو آج جب داعش وغیر ہ دہشت گرد تنظیموں سے خطرہ لاحق ہے تو اس کی روک تھام کے لیے مرکزی جمعیت کی دعوت اور پہل پر اکابرین ملک وملت جمع ہوئے ہیں۔ اس کے لیے ہم انہیں مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی ناظم عمومی مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند نے کیا ۔ موصوف مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند کے زیر اہتمام ۳۳؍ویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس کے دوسرے دن رام لیلا میدان میں پورے ملک سے آئے ہوئے جم غفیر سے خطاب کررہے تھے۔ انہو ں نے کہا کہ ائمہ کرام و خطباء عظام جو ملت کی صحیح رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں اور وطن عزیز میں امن وشانتی کے پیامبر ہیں انہیں ملت وانسانیت کی خدمت اور دہشت گردانہ کارروائیوں کی مذمت و بیخ کنی کے تئیں مزید متحرک ہوکر اپنی خدمات پیش کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ حکومت سعودی عرب کا نظام اسلامی ہے اور وہ امن پر یقین رکھتی ہے۔
صوبائی جمعیت اہلحدیث گجرات کے ناظم مولانا شعیب میمن جوناگڈھی نے ائمہ وخطباء کو مزیدقوت وعمل کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ائمہ وخطباء دنیا میں قابل عزت ہونے کے ساتھ آخرت میں بھی قابل تکریم ہوں گے۔ انہوں نے ائمہ وخطباء کے موضوع پر کانفرنس کے انعقاد پرمرکزی جمعیت کے ذمہ داران کو مبارکباد دی۔
صوبائی جمعیت اہل حدیث بہارکے قائم مقام امیرمولانا خورشید عالم مدنی نے اتنی عظیم الشان کانفرنس کے انعقاد پر مرکزی جمعیت کی قیادت کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ کانفرنس کا موضوع ملک وملت کے لئے بڑی اہمیت کا حامل اور ملک کے موجودہ حالات کا تقاضا ہے۔ 
مغربی بنگال کی صوبائی جمعیت کے ناظم مولانا سجاد حسین نے خطاب کرتے ہوئے کانفرنس کے دوررس اثرات پر اظہار یقین کیا اورائمہ وخطباء کے حوصلہ کی ستائش کی۔
ہریانہ کی صوبائی جمعیت اہل حدیث کے ناظم مولاناعبدالرحمن سلفی نے اس کانفرنس کے پیغام کو وسیع پیمانے پر پہنچانے اورعملی طورپر کرنے کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے مرکزی جمعیت کو مبارکباد پیش کیا۔
مولانا عبدالعلیم عمری نے کہا کہ یہ کانفرنس مساجد کے ائمہ اورخطیبوں کے لیے ایک بہترین نصیحت کا سامان ہے۔ انہوں نے ائمہ مساجدکی معمولی تنخواہوں پر افسوس کرتے ہوئے کہا کہ دور خلافت میں ائمہ کی تنخواہیں فوجیوں کی تنخواہوں کے برابر ہوا کرتی تھیں۔
مولانا عبدالوہاب حجازی نے کہا اللہ کی یادہماری اصل طاقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ برائی مادہ پرستانہ سوچ کا نتیجہ ہے ۔ عدل وانصاف پوری دنیا کی تسلیم شدہ حقیقت ہے۔
مسلم مجلس مشاورت کے صدرڈاکٹر نویدحامد نے کہا کہ یہ کانفرنس مسلمانوں کے دلوں کی آواز ہے اور مسلمانوں پر دہشت گردی کا الزام لگانے والوں کو یہ معلوم ہوچکا ہے کہ داعش کی پشت پناہی صیہونی طاقتیں کر رہی ہیں۔ یہ ہندوستانی مسلمانوں کا اعزاز ہے کہ وہ جیلوں میں پندرہ بیس سالوں تک قید رہنے کے باوجود آئین کی عزت اوراس پربھروسہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہندوستانی مسلمانوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں بلکہ ملک سے اپنا رشتہ مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ کے صدرمولانا عطاء الرحمن قاسمی نے کانفرنس کے موضوع کی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ کانفرنس کا موضوع بڑا اہم ہے جس کی اہمیت کو جمعیت اہل حدیث نے محسوس کیا۔ قرآن نے یہ صاف پیغام دیا ہے کہ دین کے معاملہ میں کوئی زبردستی نہیں ہے۔ ہندوستانی ثقافت اور رواداری کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی ثقافت کو نظرانداز کرکے ہم ترقی نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستان کی حکومت اسی نقطہ نظر پر چل سکتی ہے جو قطب الدین ایبک نے قطب مینار پر قرآن کی آیت ’’لکم دینکم ولی دین‘‘ لکھوا کر پیش کیا تھا اور سیکولرزم کی بہترین مثال قائم کی تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک وملت کے مسائل اور ضرورت کو مرکزی جمعیت پہلے محسوس کرتی ہے۔یہ کانفرنس اسی سلسلہ کی اہم کڑی ہے۔
پنڈت یوگل کشو ر شاستری ایڈیٹر ’’ایودھیا کی آواز‘‘ نے ذمہ داران جمعیت خصوصا مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اہل حدیث محبت سے اپنی بات شروع کرتے ہیں ان کے عادات و اطوار مجھے بہت اچھے لگتے ہیں۔ انہوں نے مجھے بیحد متاثر کیا۔ جبکہ فرقہ پرست اپنی گفتگو کا آغاز نفرت سے کرتے ہیں ۔ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرنے کے لئے انسداد دہشت گردی قانون بنایا گیا ہے ایک سازش کے تحت مسلم نوجوانوں کی گرفتاری پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی گرفتاری بند ہونی چاہیے انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی ایس امریکہ اورباطل طاقتوں کی دین ہیں۔اس سے مسلمانو ں کا کوئی تعلق نہیں۔
راجیہ سبھا کے ممبرپارلیمنٹ جناب سالم انصاری نے کہا کہ مذہب کے نام پر ہندومسلم کے بیچ دیوار کھڑی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اشتعال انگیز بیانات کا سلسلہ جاری ہے اور ان پر حکومت کی طرف سے قدغن لگانے کی کوشش نہیں ہورہی ہے ۔اتحاد واتفاق کی بقا کے بعدہی ملک باقی رہے گا۔انہوں نے گرفتاری پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں حکومت کارویہ انتہائی غیرمنصفانہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ائمہ وخطباء انتشارکوختم کرسکتے ہیں ان کوتقریر وخطابت میں زور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
ممبرپارلیمنٹ طارق انور نے کانفرنس کے موضوع کووقت اورحالات کے مطابق قراردیتے ہوئے کہا مذہب کے نام پر دہشت گردی کا جو کھیل کھیلا جارہا ہے اس کا مقابلہ کرنا سب کی ذمہ داری ہے ۔ فرقہ پرستی کسی بھی مذہب میں ہو وہ قابل مذمت ہے۔ کسی بھی مذہب میں دہشت گردی کی اجازت نہیں ہے۔ لوگ اپنے فائدے کے لئے مذہب کا غلط استعمال کرتے ہیں ایسے لوگوں کے چہرہ کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے جہاد کی غلط تشریح کرنے پرکڑی تنقید کی۔
جماعت اسلامی ہند کے امیر مولانا سیدجلال الدین عمری نے کہا کہ انتشار ہماری سب سے بڑی کمزوری ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اندر بکھراؤ نہ پیدا ہونے دیں اور اتفاق واتحاد پر زور دیں۔ قرآن کی تعلیم ہے کہ اخوت وبھائی چارگی کے ساتھ رہو، قرآن نے متحدہونے کا سبق دیا اوریہ تلقین کی ہے کہ اگرمنتشررہوگے تونقصان اٹھاؤگے انہوں نے ائمہ وخطباء کو تلقین کی کہ امت کوکتاب وسنت کی اطاعت کی بنیاد پر متحد کیا جاسکتا ہے۔ قرآنی تعلیمات پرعمل نہ کرنے کے سبب ہم کمزور ہوئے ہیں ۔ائمہ وخطباء کی ذمہ داری ہے کہ ایسے حالات پیدا کریں کہ اتحاد واتفاق کی فضا پیدا ہو۔
جنتادل یوکے جنرل سیکریٹری اور ممبرپارلیامنٹ راجیہ سبھاکے سی تیاگی نے تقسیم ہند کے المناک باب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا قانون سب کویکساں حقوق عطا کرتا ہے ، انہوں نے کہا کہ مذہب کے نام پر کسی کے ساتھ امتیاز نہیں ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت حالات ۱۹۴۷ء سے بھی زیادہ مختلف ہیں انہوں نے سامر اجی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت عالمی حالات اچھے نہیں ہیں۔ ہمارے جوہندو رواداری سے ہٹ کر شدت پسندی کی طرف چلے گئے ہیں ان کو واپس لانا ہمارا بھی کام ہے۔ ملک کی مذہبی روایات کو مخدوش کرنے کی کوششوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس طرح کے رویہ کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ 
ویلفیر پارٹی آف انڈیا کے صدر ڈاکٹر سیدقاسم رسول الیاس نے کہا کہ آج ملک میں ہرکوئی پریشان ہے یہ صرف امت کا مسئلہ نہیں ہے ، ہم پردہشت گردی کے الزامات لگائے جارہے ہیں انہوں نے کہا کہ آج ملک کے آدی واس ، کسان پریشان ہیں، پورا ملک پریشانی میں مبتلا ہے ۔آج خواتین عزت وعصمت کے لئے فکر مند ہیں اس ملک کی تعمیر میں ہمارا بھی رول رہا ہے۔ ہم کو اپنے خیر امت کا فریضہ نبھانا ہوگا ملک کے موجودہ بحران کے خاتمہ کے لئے ہمیں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ہم یہ عہد کریں کہ ہم ناانصافی نہیں ہونے دیں گے انہوں نے کہا کہ امت کو انصاف کے لئے جمعیت کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔
پروفیسراخترالواسع کمشنر برائے اقلیتی السنہ حکومت ہند نیذمہ داران کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ دین کے معاملے میں کوئی زورزبردستی نہیں ہے توپھر مسلک کے بارے میں کیونکر زور زبردستی ہوسکتی ہے انہوں نے کہا کہ کتاب وسنت ہمارے عقیدہ کا محورہیں، خودغرضی پر چلنے والوں کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا تفرقہ بازی سے اوپر اٹھ کر کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے دہشت گردی اورداعش کے خلاف پہل پرمبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس امت کو اللہ کی تائید حاصل ہے ہم پوری انسانیت کی فلاح کے لیے کام کریں گے جواسلام کے نام پر دہشت پھیلارہے ہیں ہم ان کی مذمت کرتے ہیں۔
کمیونسٹ پارٹی آف انڈیاکے جنرل سیکریٹری جناب اتل کمار انجان نے ملک میں بڑھتی مہنگائی پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حقوق دینا سرکاروں کی ذمہ داری ہے۔ لیکن ہمیں ضروریات زندگی کہاں مل رہی ہے ، ترقی کا دعوی کیا جارہا ہے انہوں نے کہا اگرملک کی دولت کی منصفانہ تقسیم نہیں ہوگی توغربت نہیں ختم ہوگی انہوں نے ہندوستان کی تاریخ کو بدلنے والوں کی کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک کی ترقی میں سب کا رول رہاہے۔ حقوق کے لئے لڑائی جاری رہے گی۔
دارالعلوم دیوبند کے نمائندے مولانا مفتی راشد قاسمی صاحب نے ذکر کی تعریف بیان کرتے ہوئے کہا کہ سب سے بہترین ذکر وہ ہے جو قرآن وحدیث کی روشنی میں بیان کیا جائے۔ اس کے لئے ائمہ وخطباء کی ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن وحدیث کی روشنی میں مسئلہ استنباط کریں اور اپنے مسلک کو ترجیح دینا فرض سے کوتاہی کے زمرے میں آتا ہے۔ 
ڈاکٹر سعید احمد مدنی نے ذمہ داران جمعیت کو مبارکباد دیتے ہوئے ایک حساس موضوع کے انتخاب پر ان کی ستائش کی اورکہا کہ آپ نے ان لوگوں کو آوازدی ہے جن کا معاشرہ میں نمایاں کردار ہے ۔یہی ائمہ ہیں جنہوں نے دہشت گردی اور نامساعد حالات کا مقابلہ کیاہے۔
ڈاکٹر عبدالدیان انصاری پنجاب نے ذمہ داران جمعیت کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ یہ بڑی سعادت کی بات ہے کہ پہلی بار ائمہ وخطباء کو ان کا بھولا ہوا سبق یاد دلانے کے لئے آواز دی گئی ہے۔ انہوں نے متولیان مساجدسے ائمہ وخطباء کے احترام کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ائمہ وخطباء قرآن وحدیث کی روشنی میں خطاب کریں اورمتولیان حضرات ائمہ کی اقتصادی صورت حال کا بھی خیال رکھیں۔
مدھیہ پردیش صوبائی جمعیت کے امیر مولانا عبدالقدوس عمری نے کہا کہ ہندوبیرون ملک جب بھی کسی فتنہ نے سرا بھارا ہے جمعیت اس کی سرکوبی کے لئے تیار رہی ہے۔ انہوں نے کہا مرکزی جمعیت نے ائمہ وخطباء کے موضوع پر کانفرنس کرکے بڑا کارنامہ انجام دے دیاہے۔
اس کانفرنس سے ٹی حمزہ، انڈمان نکوبار، صوبائی جمعیت اہل حدیث دہلی کے امیر مولانا عبدالستار سلفی، جناب شعیب انصاری، ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث اڑیشہ نے خطاب کیا۔ آج کی پہلی نشست کے اختتام پر ناظم عمومی نے مہمانان گرامی و حاضرین کا تہہ شکریہ ادا کیا اور نشست کے اختتام کا اعلان کیا۔

The Collective Fatwa against Daish and those of its ilk

ہمارے رسائل وجرائد

http://ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/al-isteqamah2gk-is-214.jpglink
http://ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/islahe-samaj2gk-is-214.jpglink
http://ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/jareeda-tarjumah2gk-is-214.jpglink
http://ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/the-symple-truth2gk-is-214.jpglink
«
»
Loading…