مرکز کی سرگرمیاں

Children categories

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کا اہم اجلاس اختتام پذیر ملک وملت وانسانیت سے متعلق مسائل زیر غور

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کا اہم اجلاس اختتام پذیر ملک وملت وانسانیت سے متعلق مسائل زیر غور (0)

۳۴ویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس بنگلور میں
نئی دہلیـ۱۹مارچ۲۰۱۷ء
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی پریس ریلیز کے مطابق آج مورخہ۱۹مارچ۲۰۱۷ء کو مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت جناب حافظ محمد عبدالقیوم نائب امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند بمقام اہل حدیث کمپلیکس، اوکھلا، نئی دہلی منعقد ہوا جس میں تقریبا ۲۱ صوبوں سے بڑی تعداد میں اراکین مجلس عاملہ ومدعوئین خصوصی نے شرکت کی۔ اور ملک وملت نیزجماعت کو درپیش مسائل کاجائزہ لیا ۔ناظم عمومی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند کی ہمہ جہت دعوتی، تعلیمی، ملی وانسانی خدمات سے متعلق رپورٹ اور ناظم مالیات الحاج وکیل پرویز صاحب نے سالانہ حساب کتاب پیش کیا جس پر موقر اراکین نے اظہار اطمینان و مسرت فرمایا۔ اجلاس میں من جملہ دیگر امور کے طے پایا کہ ۳۴ویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس بنگلور میں ہوگی۔ نیز یہ کہ صوبائی جمعیات کے انتخابات وقت کے اندر ہوں۔جمعیت کی تعمیر وترقی کے لیے منصوبے زیر غور آئے۔ اتفاق رائے سے کئی اہم ملی، ملکی اور جماعتی حالات کے پیش نظر فیصلے کئے گئے اور کافی غور وخوض کے بعد ملک وملت اور انسانیت سے متعلق درج ذیل قرار دادیں پاس کی گئیں۔

sمجلس عاملہ کی قرارداد میں اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے اور برادران وطن کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کرانی، امن وشانتی کا پیغام عام کرنے ،بھائی چارہ وقومی یکجہتی کے کوشش کرنے پر زوردیاگیا۔اجلاس میںبابری مسجد قضیہ کے جلد ازفیصل کرانے ، بے قصور مسلم نوجوانوں کو ہراساں کرنے والے خاطی پولس افسران کو قانون کے دائرے میں لانے اور ملک میں بڑھتی مہنگائی پر قابو پانے کی اپیل کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں برادران وطن اورمسلمانوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ شراب نوشی ودیگر منشیات سے پرہیز کریں اورنوجوانوں میں پائی جانے والی اخلاق باختہ برائیوں کو دور کرنے کے لئے مخلصانہ کوشش کریں۔
مجلس عاملہ کی قرارداد میں انسداد فرقہ وارانہ فساد بل کو پاس کرانے اور انتظامیہ کو فسادات میں جواب دہ بنانے کی اپیل اور ملک میں عصمت دری کے واقعات پر اظہار تشویش کیا گیاہے۔ قرار داد میں پولس اورنیم فوجی دستوں میں مسلم نمائندگی کویقینی بنانے کے حکومتی فیصلہ کا خیر مقدم کیا گیاہے۔ مسلمانوں کے خلاف دھمکی آمیز و نفرت انگیز بیانات پراظہار تشویش کیا گیا۔اجلاس میںجماعت کے اندر انتشار وخلفشار پیداکرنے والوں اورتنظیمی امور کو سبوتاژ کرنے والوںنیزجمعیت کے ذمہ داران پربے سروپاالزام لگانے والوں کی بھی مذمت کی گئی اور وسیع تر جماعتی مفادات کے پیش نظرانہیں اپنی حرکتوں سے باز رہنے کی تلقین کی گئی۔
مجلس عاملہ کی قرارداد میں داعش اور اس کی دہشت گردی کی مذمت اور مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیراہتمام ’’داعش اوردہشت گردی کی بیخ کنی میں قومی یکجہتی کا کردار‘‘ کے عنوان پر منعقدہ سیمینارکو وقت کی ضرورت قرار دیا گیا ہے۔
قرارداد میں اسرائیلی جارحیت، اسلامی مقدسات کی بے حرمتی اور فلسطینیوں پہ عرصہ حیات تنگ کرنے کی مذمت اورفلسطینیوں سے اظہار ہمدردی اوران کے کاز کی حمایت کی گئی ہے ،اسی طرح سے عراق افغانستان وغیرہ میں مسلسل ہورہے جانی ومالی نقصانات پراظہار تشویش کیا گیا ہے اور انصاف پسند اقوام عالم سے یہ اپیل کی گئی ہے کہ متعلقہ ممالک میں اقتدار اعلیٰ کو عوام کے حوالہ کیا جائے۔قرارداد میں ملی وجماعتی اہم شخصیات کی وفیات پر بھی اظہار رنج وغم اور ان کے پسماندگان سے اظہار تعزیت کیاگیا

View items...

مرکزی وزیر کپل سبل نے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکی تعلیمی خدمات اور دہشت گردی مخالف سرگرمیوں کی تعریف کی
نئی دہلی‘ 2 مارچ:  آج یہاں امام حرم مکہ مکرمہ ڈاکٹر شیخ سعود بن ابراہیم الشریم  نے رام لیلا گراونڈ میںمرکزی جمعیت اہل حدیث کے زیر اہتمام دو روزہ اکتیسویں اہل حدیث کانفرنس کے موقع پر نماز جمعہ کے خطبہ کے دوران ملت اسلامیہ ہند میں اتحاد و یگانگت کی تلقین کی اور کہا کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ دین اسلام کو مکمل طور پرہر قسم کی بدعتوں سے بچتے ہوئے معاشرے میں پیش کیا جائے ۔
امام حرم شریف جو کہ سعودی عرب میں جج کے عہدے پر بھی فائز رہ چکے ہیں  اور ام القری یونیورسٹی مکہ سے پی ایچ ڈی کرنے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعدفقہ کے پروفیسر کی خدمت انجام دے رہے ہیں ، نیز بین الاقوامی شہرت یافتہ ممتاز فقیہ ہیں نے کہاکہ  ایک ایسے وقت میں جب کہ پوری انسانیت مختلف مسائل اور مصائب سے کراہ رہی ہے اور ذہنی کرب و اذیت سے دوچا ر ہی‘ اسلام سسکتی ہوئی انسانیت کے لئے سب سے بہترین نظام حیات اور دین رحمت کے طور پر تمام مسائل کا حل پیش کرتا ہی۔امام حرم نے کہا کہ اسلام کوا س کی حقیقی شکل میں پیش کیا جائے اور اس کا عملی نمونہ معاشرے کے سامنے لایا جائے جس سے معاشرے میں امن و آشتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ حاصل ہو۔

مرکزی وزیر کپل سبل نے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکی تعلیمی خدمات اور دہشت گردی مخالف سرگرمیوں کی تعریف کی
نئی دہلی‘ 2 مارچ:  آج یہاں امام حرم مکہ مکرمہ ڈاکٹر شیخ سعود بن ابراہیم الشریم  نے رام لیلا گراونڈ میںمرکزی جمعیت اہل حدیث کے زیر اہتمام دو روزہ اکتیسویں اہل حدیث کانفرنس کے موقع پر نماز جمعہ کے خطبہ کے دوران ملت اسلامیہ ہند میں اتحاد و یگانگت کی تلقین کی اور کہا کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ دین اسلام کو مکمل طور پرہر قسم کی بدعتوں سے بچتے ہوئے معاشرے میں پیش کیا جائے ۔
امام حرم شریف جو کہ سعودی عرب میں جج کے عہدے پر بھی فائز رہ چکے ہیں  اور ام القری یونیورسٹی مکہ سے پی ایچ ڈی کرنے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعدفقہ کے پروفیسر کی خدمت انجام دے رہے ہیں ، نیز بین الاقوامی شہرت یافتہ ممتاز فقیہ ہیں نے کہاکہ  ایک ایسے وقت میں جب کہ پوری انسانیت مختلف مسائل اور مصائب سے کراہ رہی ہے اور ذہنی کرب و اذیت سے دوچا ر ہی‘ اسلام سسکتی ہوئی انسانیت کے لئے سب سے بہترین نظام حیات اور دین رحمت کے طور پر تمام مسائل کا حل پیش کرتا ہی۔امام حرم نے کہا کہ اسلام کوا س کی حقیقی شکل میں پیش کیا جائے اور اس کا عملی نمونہ معاشرے کے سامنے لایا جائے جس سے معاشرے میں امن و آشتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ حاصل ہو۔
انہوںنے کہا کہ آج دنیا میں جونسلی امتیاز پایا جاتاہے وہ ختم ہونا چاہےی۔ انہوںنے مزید کہا کہ اسلام نے اس ضمن میں جوشاندار مثال قائم کی ہے وہ تاریخی ہی۔اس کے تحت کالے کوگورے پراورگورے کوکالے پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ہی۔
امام حرم مکہ مکرمہ نے ہندوستان میں اپنی آمد کو اپنے لئے باعث سعادت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان جیسے عظیم ملک اور یہاں کے عوام کے لئے ان کے دل میں ہمیشہ محبت و احترام کا جذبہ رہا ہے وہ سرزمین ہند پر آکر خودکو اپنے گھر میں محسوس کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کی ضرورت ہے کہ صحابہ کو رول ماڈل کے طور پر بلاتفریق مذہب و ملت اور مسلک ہر شخص کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ ان کی آئیڈیل تعلیمات سے ہر کوئی استفادہ کرسکی۔
امام حرم نے نماز جمعہ کی امامت کی جس میں تقریباََ چار لاکھ افراد نے شرکت کی ۔ نماز جمعہ کے دوران پورا رام لیلا میدان کھچا کھچ بھرا ہواتھا۔ امام محترم بعد نماز کل مغرب وعشاء کی امامت اورایمان افروز خطاب فرمائیںگے اور عشا کی نماز کی امامت بھی کریں گی۔واضح رہے کہ ڈاکٹر الشریم 1991 سے مکہ مکرمہ میں حرم شریف کے امام و خطیب ہیں۔

shaikh-shuraimعدالۃ الصحابۃ’’صحابہ ٔ کرام ـاخلاق وکردار کے حقیقی معیار اورانسانیت کے سچے معمار‘‘
کے عنوان پر
۱۳ویں دوروزہ آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس کاانعقاددہلی میں ۲ـ۳مارچ۲۱۰۲ئ؁ کو
 مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کا اجلاس اختتام پذیر
ملک وملت جماعت اورانسانیت کی بھلائی سے متعلق متعدداہم مسائل پر غوروخوض
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کا ایک غیرمعمولی اجلاس گذشتہ ۲۲جنوری ۲۱۰۲ئ؁ کواہل حدیث کمپلیکس اوکھلا نئی دہلی میں زیر صدار ت جناب حافظ محمد یحییٰ دہلوی حفظہ اللہ منعقد ہوا جس میں ملک بھر سے بڑی تعداد میں اراکین ومدعوئین خصوصی شریک ہوئے ۔اجلاس کا ایجنڈاحسب ذیل تھا۔
(۱)        گذشتہ کارروائی کی خواندگی و توثیق
(۲)       رپورٹ ناظم عمومی
(۳)   اجلاس مجلس شوریٰ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند منعقدہ ۷۱اکتوبر ۰۱۰۲ء میں منظور شدہ عظمت صحابہ کانفرنس کے انعقاد پر غور وخوض
(۴)  جمعیت کے بعض دعوتی ،تربیتی، تنظیمی اورتعمیری مسائل پر غور وخوض
(۵) بعض صوبائی جمعیات اہل حدیث کے انتخابات پر غور وخوض
(۶) جمعیت کے مالی استحکام پر غور و خوص
(۷) ملکی، ملی وجماعتی مسائل پر غور
(۸) دیگر امور باجازت صدر
منجملہ دیگرامورکے طے پایا کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیراہتمام صحابہ کرام اخلاق وکردار کے حقیقی معیار اورانسانیت کے سچے معمارکے عنوان پر  عظیم الشان ۱۳ویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس ان شاء اللہ ۲ـ۳مارچ ۲۱۰۲ئ؁ کو دہلی کے رام لیلا گرائونڈ میںمنعقد ہوگی جس میں امام حرم شریف مکہ مکرمہ سماحۃ الشیخ علامہ ڈاکٹر سعود ابراہیم الشریم حفظہ اللہ شرکت فرمائیں گے اور اپنے بصیرت افروز ، دل نشیں اور روح پرور خطاب سے سامعین کے قلوب وارواح کو جلا بخشیں گے ۔ نیز مغرب وعشاء کی امامت بھی فرمائیں گی۔نیزامام محترم کی اقتدامیں نما ز جمعہ بھی ادا کی جائے گی۔نیز مؤقراراکین ومدعوئین خصوصی نے کانفرنس کو بہرصورت کامیاب کرنے کا عہد کیا اورصحابہ کرام حوالے سے منعقدہونے والی اس کانفرنس کو وقت کی سب سے اہم ضرورت قرار دیا۔ عاملہ کے اس اجلاس میں قومی ملی اورانسانی مسائل پر بھی غوروخوض ہوا۔ اور اخیر میں ملک وملت اور انسانیت کے متعلق متعدد امور زیر غور آئے اور درج ذیل قرارداد پاس کی گئیں:
۱ـ  مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کے اس اجلاس کایہ احساس ہے کہ عصر حاضرمیں مسلمانوں کی تمام پریشانیوں کاسبب قرآن وحدیث سے دوری ہی۔ اس لئے مسلمان اپنے جملہ مسائل کے حل کے لئے قرآن وحدیث کواپناآئیڈیل بنائیں۔
۲ـ  مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کایہ اجلاس اقلیتوں کے لئے 4.5فیصدریزرویشن کا خیر مقدم کرتاہی۔ لیکن یہ کوٹہ آبادی کے تناسب سے ناکافی ہی۔ اگرحکومت مسلمانوں کی سماجی ترقی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے تووہ سچرکمیٹی اورمشرا کمیشن کی سفارشات جلد ازجلد نافذ کری۔

 

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیراہتمام
سہ روزہ اجتماع علماء ودعاۃ برائے اصلاح معاشرہ اختتام پذیر
اسلام میں اصلاح ودعوت کی بڑی اہمیت ہی۔ دعوت الی اللہ اسلام کی تبلیغ واشاعت کی بنیاد اورقیام دین کارکن ہی۔ اگردعوت الی اللہ کا وجود معاشرہ میں نہیں ہے تودین کا قیام بھی ناممکن ہی۔ یہ وہی اسلامی فریضہ ہے جس کے ذریعہ عبادت الہٰی کی دعوت دی جاتی ہے اورلوگوں کو راہ ہدایت پر لایا جاتاہی۔ جب انسان توحید عبادت الہٰی واحکام شریعت کی معرفت حاصل کرتاہے توحدود شریعت کو جان لیتاہی۔ لوگوں کے معاملات درست ہوجاتے ہیں، لوگوں کے معاشرتی وعائلی معاملات ٹھیک ہوتے ہیں، اسی دعوت کے نتیجہ میں ان کے اخلاق میں بہتری اوراختلافات میں کمی آتی ہی۔ ان کے قلب میں پاکیزگی آتی ہے اورامراض قلوب ختم ہوجاتے ہیں، ایک دوسرے کواذیت رسانی کا جذبہ سرد پڑجاتاہی۔
دعوت الی اللہ اوراصلاح معاشرہ کی اہمیت کے پیش نظر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند اس طرح کی مجلسیں، کانفرنسیں اورندوات کے انعقاد پرتوجہ دیتی ہی۔ دینی کتابوں، رسالوں، پمفلٹس اورفولڈرس کی نشرواشاعت اورطباعت وتوزیع کا کام کرتی ہی۔ دراصل ایسے پروگراموں میں اسلامی دعوت کی اہمیت بتائی جاتی ہے اور دعاۃ کی اہم ذمہ داریوں کا احساس وشعور جگایا جاتاہی، مشکل مسائل پر علمی مناقشہ پیش کیاجاتاہی۔ اسلام ، مسلمان اور انسان کو درپیش شدید چیلنجز کو ملکی وعالمی سطح پر بیان کرکے ان کا حل ڈھونڈھا جاتاہی۔ فردی دعوت کواہمیت دینے دعوتی جمعیات ومؤسسات کی کوششوں کوسراہنے میدان دعوت میں کام کرنے والوں کی عملی کوششوں کومنظم کرنی، ان کے نشاطات اورسرگرمیوں کو پائیدار بنانے اورحقیقی دعوتی عمل سے روشناس کرانی، میدان دعوت کے اندر آنے والی دشواریوں اور موانع کو دورکرنے ،ان پر قابوپانے کے لیے عملی خطہ تیارکرنے ،اوردینی ،تعلیمی اوررفاہی تنظیمات ومؤسسات اورسوسائٹیوں کے ذریعہ تنفیذی عمل میں مشارکت پرغوروفکر کرنے جیسے امورپرکیا جاتاہی۔ مملکت سعودی عرب کی اسلام مسلمان اور پوری انسانیت کے لیے پیش کردہ بھرپور کارنامہ کا تعارف ہوتاہے اورامت اسلامیہ ، وطن عزیز اور پوری انسانیت کی خدمت کے لیے حوصلہ بخش دعاۃ کی تیاری میں ان کی بیش قیمت خدمات کو اجاگر کیاجاتاہی۔ زندگی کے تمام شعبوں میں اس مملکت توحید کی جوخدمات ہیں تاریخ ان کی کوئی ایک مثال پیش نہیں کرسکتی۔ چنانچہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے ہندوستان ونیپال کی سطح پردعوتی وتعلیمی خدمات انجام دینے والے اشخاص کودعوت دی اورملتقی العلماء والدعاۃ کے نام سے ۸۱۔۰۲ نومبر۱۱۰۲ء بروز جمعہ سنیچرواتوار بمقام اہل حدیث کمپلیکس ابوالفضل انکلیو اوکھلا نئی دہلی میں سہ روزہ اجتماع منعقد کیا۔
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے اس پروگرام کو اہمیت دیتے ہوئے علماء اوردعاۃ حضرات کی خدمت میں لیٹر ایشوکئے ، مہمانوں کے طعام وقیام کا عمدہ بندوبست کیا، اس کے لیے مختلف کمیٹیاں بنائی ، ایک آفس استقبالیہ بھی جومہمانوں کی ضرورتوں کوپوری کرنے اورپروگرام کوعمدہ طریقے سے انجام تک پہنچانے میں معاون ثابت ہوئی۔ الحمدللہ سہ روزہ اجتماع کے تمام پروگراموں میں کوئی مشکل پیش نہ آئی اورملتقی حسن وخوبی کے ساتھ اختتام پذیرہوا۔
ملتقی العلماء والدعاۃ کا یہ پروگرام ۸۱نومبر ۱۱۰۲ئ؁ بروزجمعہ بعدنماز مغرب جامعہ خیرالعلوم ڈومریا گنج یوپی کے پرنسپل شیخ عبدالرحمن لیثی حفظہ اللہ کی صدارت میں منعقدہوا۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر عبیدالرحمن مدنی نے انجام دیئی۔ حافظ محمد عرفان حبیب اللہ (استاددارالعلوم احمدیہ سلفیہ دربھنگہ) کی تلاوت قرآن کریم سے پروگرام کا آغاز ہوا۔ اس میں چند علماء ودعاۃ نے اپنے گراں قدر تاثرات کوپیش کیا:
علماء اوردعاۃ کا یہ ملتقی چھ نشستوں پرمشتمل تھا۔
واضح رہے کہ اجتماع کا افتتاحی اجلاس مورخہ۸۱نومبر ۱۱۰۲ء کو بعدنماز مغرب منعقد ہوا جس میں ناظم عمومی مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے کلمہ استقبالیہ پیش کیا ۔انہوںنے عصر حاضر میں ملک وملت کو درپیش مسائل اور معاشرے میں پھیلی ہوئی انگنت برائیوں اور بگاڑ کاتذکرہ کرتے ہوئے اصلاح معاشر ہ اور اتحاد واتفاق کی اہمیت وضرورت پر زور دیا ۔ افتتاحی اجلاس میں شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ کے صدر مفتی عطاء الرحمن قاسمی او ر جماعت اسلامی کے سکریٹری محمد احمد نے بھی خطاب کیا اور جمعیت اہل حدیث کے ذمہ داران کواس اہم اجتماع کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔اس موقع پر علماء کرام نے بھی اپنے تاثرات بیان کئے اور مرکزی جمعیت اہل حدیث اور اس کے ذمہ داران کو اس اجتماع کے انعقاد پر مبارکباد پیش کیا۔
اس پروگرام میںملک بھر سے مختلف جماعتوں کے مقتدر علماء و مصلحین نے شرکت کی، ملک وملت اور انسانیت کو درپیش مسائل پر غورو خوض کیا،ملک ومعاشرے میں پھیلی ان گنت سماجی و اخلاقی برائیوں پر تشویش کا اظہار کیااور ان کے سدباب اور روک تھام کے لیے مناسب لائحہ عمل تیار کیا۔
اختتامی اجلاس میں مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے ناظم عمومی نے کہا کہ علماء ومصلحین ملک وقوم اور انسانیت کے سب سے بڑے بہی خواہ ہیں، آج ضرورت اس بات کی ہے کہ علماء ومصلحین اپنی صلاحیتوں او رتوانائیوں کو اکٹھا کر کے ملک میں پھیلی ہوئی بے حیائی ، جنسی بے راہ روی ، اخلاقی بگاڑ، ناجائز استحصال، کرپشن، شراب نوشی، قماربازی، دھوکہ دہی، ناانصافی، دہشت گردی، اختلاف وانتشار اور ظلم وجور کے خاتمہ کے لیے آگے بڑھیں اور صالح معاشرہ کی تعمیر میں اپنا منصبی کردار نبھائیں۔ بلاشبہ یہ نہایت مشکل اور صبر آزما کام ہے اس کے لیے نرم خوئی، بلند حوصلگی، خوش اخلاقی اور اعلیٰ کردار کی ضرورت ہی۔ اصلاح وتربیت انبیائی کام ہے اور اس کام میں انبیاء کرام کے اسوہ کو پیش نظر رکھنا چاہئی۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلام کے انسانیت نواز پیغام کو وسیع پیمانے پر عام کیا جائی۔ لوگوں کا تعلق ان کے خالق ومالک سے جوڑا جائے اور فساد وبگاڑ اور دیگر معاشرتی خرابیوں اوربیماریوں کا خاتمہ کرکے صالح ، صحت مند اور پرا من سماج ومعاشرہ کی تعمیر کی جائی، یہ دینی وملکی ہی نہیں بلکہ انسانی ضرورت ہی۔
ناظم عمومی نے کہا کہ علماء اہل حدیث نے ہر دور میں ملک ومعاشرہ اور انسانیت کی بے مثال خدمت کی ہے اور یہ خدمت جماعت اہل حدیث کے منہج واصول کی امتیازی خصوصیات میں سے ہی۔
اختتامی اجلاس میں علماء سے خطاب کرتے ہوئے ممبر پارلیامنٹ (راجیہ سبھا) جناب محمد ادیب صاحب نے کہا کہ آپ علماء کی جماعت ہیں، آپ معاشرہ کے بہتر لو گ ہیں، اور آپ کے ذہن میں انسانیت کی اصلاح وتربیت کا خاکہ موجود ہے ان کی روشنی میں نئی نسل کی اصلاح وتربیت کا کام انجام دیں۔
سفارت ِ خادم حرمین شریفین سعودی عرب کے شیخ احمد علی رومی نے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کو اس اجتماع کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہاکہ اس طرح کے اجتماعات کا مقصد زیور علم سے خود کو آراستہ کرنا، قافلہ توحید کو سرگرم بنانا، مصلحین کے اندر صلاحیتیں پیدا کرنااور مسلمانوں کے اندر اتحاد واتفاق پیدا کرنا ہی۔ اصلاح کاکام سب سے بہتر کام ہے اور مصلحین کی باتیں سب سے بہترباتیں ہیں۔
شیخ صلاح الدین مقبول احمد صاحب نے کہا کہ علماء کرام کے اوپرہی قوم کی اصلاح کی ذمہ داری ہی۔ اس کا شعور ہمیں ہونا چاہئی۔ اجلاس کے اختتام پرملک وملت اور انسانیت سے متعلق قرارداد پاس کی گئی جو درج ذیل ہے ۔
۱ـیہ اجتماع ہندوستان میں وسیع پیمانے پر اسلام کے انسانیت نواز پیغام کو عام کرنے ،اس سلسلے میں کوششیں تیز کرنے اور اصلاحی کاموں کی اہمیت، اس کے دائرہ کار کووسعت دینے اور ملک وانسانیت کی ضرورت کے پیش نظر مصلحین کے مابین تعلقات کو مضبوط کرنے کی اپیل کرتا  ہی۔
۲ـیہ اجتماع اصلاحی کاموں کی انجام دہی کے لیے مصلحین کے مابین باہمی مشورے اور تعاون کی ضرورت پرزور دیتا ہی۔
۳ـیہ اجتماع اسلام کے پیغام انسانی کو حکمت اور اچھی نصیحت کے ذریعہ وسطیت واعتدال کی بنیاد پر انتہا ، غلو وشذوذ پسندی سے اجتناب کرتے ہوئے عام کرنے کی دعوت دیتا ہی۔
۴ـیہ اجتماع اسلام کے پیغام انسانی کو عام کرنے اور اصلاحی کاموں کی انجام دہی کے لیے مناسب وسائل اور متنوع اسالیب اختیار کرنے کی تلقین کرتا ہی۔
۵ـیہ اجتماع علماء ومصلحین کو تلقین کرتا ہے کہ وہ اصلاحی کاموں میں مقررہ اصول اور منہجیت کو ملحوظ رکھیں۔
۶ـیہ اجتماع پر امن بقائے باہم اور صحافت ، ریڈیو او ردیگر جدید ذرائع ابلاغ جیسے وسائل کے ذریعہ اصلاح کے افق کو معاشرہ کے تمام طبقوں تک وسیع کرنے کی ترغیب دیتا ہی۔
۷ـیہ اجتماع تمام شرکائے اجتماع سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اسلام کے پیغام انسانی کی نشرواشاعت اور اس کی ضرورت کے پیش نظر تالیف وترجمے کے کام میں مزید توجہ صرف کریں اور اپنی مطبوعہ علمی کاوشوں کو انسانیت کی بھلائی کے لیے عام کریں۔
۸ ـیہ اجتماع علماء ومصلحین کو نصیحت کرتا ہے کہ منحرف افکار، تخریبی رجحانات ،اباحیت اور اس جیسی دیگر برائیوںکو ختم کرنے کی کوشش کریں۔
۹ـیہ اجتماع علماء ومصلحین کو اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ وہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین جو خدمت انسانیت کے بڑے علم بردار اور اصلاح ورہنما ئی کے قافلہ سالار تھے کے مقام سے انسانیت کو متعارف کرائیں اور ان کی طر ف سے احسن طریقہ سے دفاع کا حق ادا کریں۔
۰۱ـیہ اجتماع تمام مسلمانوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور فرقہ و گروہ بندی ، اور اختلاف و انتشارکو اپنے درمیان راہ پانے نہ دیں۔
۱۱ـیہ اجتماع تمام انسانی برادری سے اپیل کرتا ہے کہ وہ منشیات ،نشہ آور اشیاء، فواحش اور منکرات سے اجتناب کریں اور اسلام کے اعتدال پر مبنی اصول و مبادی کو مضبوطی سے تھام لیں، اور زندگی کے ہر مرحلے میں بلند اخلاق و کردار کا مظاہرہ کریں۔
۲۱ـیہ اجتماع ہر طرح کی دہشت گردانہ کارروائیوں کی مذمت کرتا ہے جن میں جان ومال کا نقصان ہوتا ہے اور تمام لوگوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کی بہر صورت مخالفت کریں۔
۳۱ـعلماء ومصلحین کا یہ اجلاس اس اجتماع کو اپنے مقصد میں بہت کامیاب قرار دیتا ہے اور مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی اس طرح کی کوششوںکو بنظر استحسان دیکھتا ہی۔ ٭

Page 16 of 16

The Collective Fatwa against Daish and those of its ilk

ہمارے رسائل وجرائد

http://ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/al-isteqamah2gk-is-214.jpglink
http://ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/islahe-samaj2gk-is-214.jpglink
http://ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/jareeda-tarjumah2gk-is-214.jpglink
http://ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/the-symple-truth2gk-is-214.jpglink
«
»
Loading…