مرکز کی سرگرمیاں

Children categories

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کا اہم اجلاس اختتام پذیر ملک وملت وانسانیت سے متعلق مسائل زیر غور

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کا اہم اجلاس اختتام پذیر ملک وملت وانسانیت سے متعلق مسائل زیر غور (0)

۳۴ویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس بنگلور میں
نئی دہلیـ۱۹مارچ۲۰۱۷ء
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی پریس ریلیز کے مطابق آج مورخہ۱۹مارچ۲۰۱۷ء کو مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت جناب حافظ محمد عبدالقیوم نائب امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند بمقام اہل حدیث کمپلیکس، اوکھلا، نئی دہلی منعقد ہوا جس میں تقریبا ۲۱ صوبوں سے بڑی تعداد میں اراکین مجلس عاملہ ومدعوئین خصوصی نے شرکت کی۔ اور ملک وملت نیزجماعت کو درپیش مسائل کاجائزہ لیا ۔ناظم عمومی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند کی ہمہ جہت دعوتی، تعلیمی، ملی وانسانی خدمات سے متعلق رپورٹ اور ناظم مالیات الحاج وکیل پرویز صاحب نے سالانہ حساب کتاب پیش کیا جس پر موقر اراکین نے اظہار اطمینان و مسرت فرمایا۔ اجلاس میں من جملہ دیگر امور کے طے پایا کہ ۳۴ویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس بنگلور میں ہوگی۔ نیز یہ کہ صوبائی جمعیات کے انتخابات وقت کے اندر ہوں۔جمعیت کی تعمیر وترقی کے لیے منصوبے زیر غور آئے۔ اتفاق رائے سے کئی اہم ملی، ملکی اور جماعتی حالات کے پیش نظر فیصلے کئے گئے اور کافی غور وخوض کے بعد ملک وملت اور انسانیت سے متعلق درج ذیل قرار دادیں پاس کی گئیں۔

sمجلس عاملہ کی قرارداد میں اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے اور برادران وطن کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کرانی، امن وشانتی کا پیغام عام کرنے ،بھائی چارہ وقومی یکجہتی کے کوشش کرنے پر زوردیاگیا۔اجلاس میںبابری مسجد قضیہ کے جلد ازفیصل کرانے ، بے قصور مسلم نوجوانوں کو ہراساں کرنے والے خاطی پولس افسران کو قانون کے دائرے میں لانے اور ملک میں بڑھتی مہنگائی پر قابو پانے کی اپیل کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں برادران وطن اورمسلمانوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ شراب نوشی ودیگر منشیات سے پرہیز کریں اورنوجوانوں میں پائی جانے والی اخلاق باختہ برائیوں کو دور کرنے کے لئے مخلصانہ کوشش کریں۔
مجلس عاملہ کی قرارداد میں انسداد فرقہ وارانہ فساد بل کو پاس کرانے اور انتظامیہ کو فسادات میں جواب دہ بنانے کی اپیل اور ملک میں عصمت دری کے واقعات پر اظہار تشویش کیا گیاہے۔ قرار داد میں پولس اورنیم فوجی دستوں میں مسلم نمائندگی کویقینی بنانے کے حکومتی فیصلہ کا خیر مقدم کیا گیاہے۔ مسلمانوں کے خلاف دھمکی آمیز و نفرت انگیز بیانات پراظہار تشویش کیا گیا۔اجلاس میںجماعت کے اندر انتشار وخلفشار پیداکرنے والوں اورتنظیمی امور کو سبوتاژ کرنے والوںنیزجمعیت کے ذمہ داران پربے سروپاالزام لگانے والوں کی بھی مذمت کی گئی اور وسیع تر جماعتی مفادات کے پیش نظرانہیں اپنی حرکتوں سے باز رہنے کی تلقین کی گئی۔
مجلس عاملہ کی قرارداد میں داعش اور اس کی دہشت گردی کی مذمت اور مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیراہتمام ’’داعش اوردہشت گردی کی بیخ کنی میں قومی یکجہتی کا کردار‘‘ کے عنوان پر منعقدہ سیمینارکو وقت کی ضرورت قرار دیا گیا ہے۔
قرارداد میں اسرائیلی جارحیت، اسلامی مقدسات کی بے حرمتی اور فلسطینیوں پہ عرصہ حیات تنگ کرنے کی مذمت اورفلسطینیوں سے اظہار ہمدردی اوران کے کاز کی حمایت کی گئی ہے ،اسی طرح سے عراق افغانستان وغیرہ میں مسلسل ہورہے جانی ومالی نقصانات پراظہار تشویش کیا گیا ہے اور انصاف پسند اقوام عالم سے یہ اپیل کی گئی ہے کہ متعلقہ ممالک میں اقتدار اعلیٰ کو عوام کے حوالہ کیا جائے۔قرارداد میں ملی وجماعتی اہم شخصیات کی وفیات پر بھی اظہار رنج وغم اور ان کے پسماندگان سے اظہار تعزیت کیاگیا

View items...

Photo

۱۴؍مارچ ۲۰۱۶ء 
دہشت گردی عصر حاضر کا سب سے بڑا ناسور ہے۔ داعش اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بڑی سازش ہے یہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے ۔ اس کا اسلام اور مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جماعت اہل حدیث کا عقیدہ و منہج دہشت گردی کے خلاف ہے ہم دہشت گردی کی بھر پور مذمت کرتے ہیں ۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند ۲۰۰۴ء سے ہی دہشت گردی کے خلاف مہم چھیڑے ہوئی ہے۔ یہ دو روزہ عظیم الشان ۳۳؍ویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس اسی سلسلہ کی اہم کڑی ہے۔ ان خیالات کا اظہار مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی ناظم عمومی مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے کیا۔ موصوف کل رات یہاں تاریخی رام لیلا میدان میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام تینتیسویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس کے اختتامی اجلاس میں پورے ملک سے امڈے ہوئے عوامی سیلاب سے خطاب کررہے تھے۔ 
انہوں نے کہا ائمہ کرام ملک و ملت اور انسانیت کے معمار ہیں یہی وجہ ہے کہ ملک و ملت اور انسانیت کو جب کوئی اہم مسئلہ یا چیلنج درپیش ہوتا ہے تو یہ آگے بڑھ کر اپنا تاریخی و منصبی کردارادا کرتے ہیں۔ کانفرنس میں موجود ائمہ کرام کی بھاری تعداد نے ثابت کردیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے مقابلہ کے لیے کافی سنجیدہ اور پوری طرح تیار ہیں۔
اس اجلاس میں مولانا محمد ہارون سنابلی ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث مغربی یوپی نے ’’صالح معاشرہ کی تشکیل میں ائمہ کا کردار ‘‘، ڈاکٹر سعید احمد عمری امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث آندھراپردیش نے فتنہ و فساد کے دور میں ائمہ کا کردار ، مولانا عبدالرحیم مکی، امیر صوبائی جمعیت اہلحدیث تلنگانہ نے ’’خطباء کے اوصاف قرآن وحدیث کی روشنی میں‘‘، مولانا ابو زید ضمیر پونہ نے ’’انسانیت کے فروغ میں ائمہ و خطباء کا کردار‘‘، مولانا شاہ ولی اللہ عمری نائب امیر صوبائی جمعیت اہلحدیث کرناٹک نے’’ ہندوستا ن میں مساجد کا تحفظ مسائل اور تدابیر ‘‘، مولانا معراج مدنی نے ’’ازالہ اوہام ورسوم میں مساجد کا کردار‘‘ ، مولانا جرجیس سراجی نے ’’مساجد اسلامی تشخص کے امین ‘‘ ، مولانا ثناء اللہ مدنی نے ’’رسم و رواج کے خاتمہ میں ائمہ و خطباء کا کرادار‘‘ ، مولانا مطیع اللہ حقیق اللہ استاذ مدرسہ خدیجۃالکبریٰ للبنات، جھنڈا نگر نیپال نے ’’ ائمہ کی ناقدری ۔ذمہ دار کون؟ ‘‘ ، مولانا عبدالغنی القوفی نیپال نے ’’خطابت کے اصول و مبادی ‘‘ کے موضوعات پر مغز خطاب کیا اور اس کانفرنس کے انعقاد پر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ذمہ داران کو مبارک باد پیش کیا۔

Photoنئی دہلی: ۱۳؍مارچ ۲۰۱۶ء
ملک کے اندر موجود مختلف تنظیمیں چمن کے رنگ برنگے پھولوں کی طرح ہیں۔ اور یہ اپنے اپنے میدانوں میں قوم وملت اور انسانیت کی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اور جب ملک وملت کوئی اہم مسئلہ اور چیلنج در پیش ہوتا ہے تو یہ ساری تنظیمیں اٹھ کھڑی ہوتی ہیں۔ یہ ساری تنظیمیں ملک کے گنگا جمنا تہذیب کی نگہبان ہیں۔ ملک و انسانیت کو آج جب داعش وغیر ہ دہشت گرد تنظیموں سے خطرہ لاحق ہے تو اس کی روک تھام کے لیے مرکزی جمعیت کی دعوت اور پہل پر اکابرین ملک وملت جمع ہوئے ہیں۔ اس کے لیے ہم انہیں مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی ناظم عمومی مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند نے کیا ۔ موصوف مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند کے زیر اہتمام ۳۳؍ویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس کے دوسرے دن رام لیلا میدان میں پورے ملک سے آئے ہوئے جم غفیر سے خطاب کررہے تھے۔ انہو ں نے کہا کہ ائمہ کرام و خطباء عظام جو ملت کی صحیح رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں اور وطن عزیز میں امن وشانتی کے پیامبر ہیں انہیں ملت وانسانیت کی خدمت اور دہشت گردانہ کارروائیوں کی مذمت و بیخ کنی کے تئیں مزید متحرک ہوکر اپنی خدمات پیش کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ حکومت سعودی عرب کا نظام اسلامی ہے اور وہ امن پر یقین رکھتی ہے۔
صوبائی جمعیت اہلحدیث گجرات کے ناظم مولانا شعیب میمن جوناگڈھی نے ائمہ وخطباء کو مزیدقوت وعمل کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ائمہ وخطباء دنیا میں قابل عزت ہونے کے ساتھ آخرت میں بھی قابل تکریم ہوں گے۔ انہوں نے ائمہ وخطباء کے موضوع پر کانفرنس کے انعقاد پرمرکزی جمعیت کے ذمہ داران کو مبارکباد دی۔
صوبائی جمعیت اہل حدیث بہارکے قائم مقام امیرمولانا خورشید عالم مدنی نے اتنی عظیم الشان کانفرنس کے انعقاد پر مرکزی جمعیت کی قیادت کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ کانفرنس کا موضوع ملک وملت کے لئے بڑی اہمیت کا حامل اور ملک کے موجودہ حالات کا تقاضا ہے۔ 
مغربی بنگال کی صوبائی جمعیت کے ناظم مولانا سجاد حسین نے خطاب کرتے ہوئے کانفرنس کے دوررس اثرات پر اظہار یقین کیا اورائمہ وخطباء کے حوصلہ کی ستائش کی۔
ہریانہ کی صوبائی جمعیت اہل حدیث کے ناظم مولاناعبدالرحمن سلفی نے اس کانفرنس کے پیغام کو وسیع پیمانے پر پہنچانے اورعملی طورپر کرنے کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے مرکزی جمعیت کو مبارکباد پیش کیا۔
مولانا عبدالعلیم عمری نے کہا کہ یہ کانفرنس مساجد کے ائمہ اورخطیبوں کے لیے ایک بہترین نصیحت کا سامان ہے۔ انہوں نے ائمہ مساجدکی معمولی تنخواہوں پر افسوس کرتے ہوئے کہا کہ دور خلافت میں ائمہ کی تنخواہیں فوجیوں کی تنخواہوں کے برابر ہوا کرتی تھیں۔
مولانا عبدالوہاب حجازی نے کہا اللہ کی یادہماری اصل طاقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ برائی مادہ پرستانہ سوچ کا نتیجہ ہے ۔ عدل وانصاف پوری دنیا کی تسلیم شدہ حقیقت ہے۔
مسلم مجلس مشاورت کے صدرڈاکٹر نویدحامد نے کہا کہ یہ کانفرنس مسلمانوں کے دلوں کی آواز ہے اور مسلمانوں پر دہشت گردی کا الزام لگانے والوں کو یہ معلوم ہوچکا ہے کہ داعش کی پشت پناہی صیہونی طاقتیں کر رہی ہیں۔ یہ ہندوستانی مسلمانوں کا اعزاز ہے کہ وہ جیلوں میں پندرہ بیس سالوں تک قید رہنے کے باوجود آئین کی عزت اوراس پربھروسہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہندوستانی مسلمانوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں بلکہ ملک سے اپنا رشتہ مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ کے صدرمولانا عطاء الرحمن قاسمی نے کانفرنس کے موضوع کی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ کانفرنس کا موضوع بڑا اہم ہے جس کی اہمیت کو جمعیت اہل حدیث نے محسوس کیا۔ قرآن نے یہ صاف پیغام دیا ہے کہ دین کے معاملہ میں کوئی زبردستی نہیں ہے۔ ہندوستانی ثقافت اور رواداری کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی ثقافت کو نظرانداز کرکے ہم ترقی نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستان کی حکومت اسی نقطہ نظر پر چل سکتی ہے جو قطب الدین ایبک نے قطب مینار پر قرآن کی آیت ’’لکم دینکم ولی دین‘‘ لکھوا کر پیش کیا تھا اور سیکولرزم کی بہترین مثال قائم کی تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک وملت کے مسائل اور ضرورت کو مرکزی جمعیت پہلے محسوس کرتی ہے۔یہ کانفرنس اسی سلسلہ کی اہم کڑی ہے۔
پنڈت یوگل کشو ر شاستری ایڈیٹر ’’ایودھیا کی آواز‘‘ نے ذمہ داران جمعیت خصوصا مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اہل حدیث محبت سے اپنی بات شروع کرتے ہیں ان کے عادات و اطوار مجھے بہت اچھے لگتے ہیں۔ انہوں نے مجھے بیحد متاثر کیا۔ جبکہ فرقہ پرست اپنی گفتگو کا آغاز نفرت سے کرتے ہیں ۔ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرنے کے لئے انسداد دہشت گردی قانون بنایا گیا ہے ایک سازش کے تحت مسلم نوجوانوں کی گرفتاری پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی گرفتاری بند ہونی چاہیے انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی ایس امریکہ اورباطل طاقتوں کی دین ہیں۔اس سے مسلمانو ں کا کوئی تعلق نہیں۔
راجیہ سبھا کے ممبرپارلیمنٹ جناب سالم انصاری نے کہا کہ مذہب کے نام پر ہندومسلم کے بیچ دیوار کھڑی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اشتعال انگیز بیانات کا سلسلہ جاری ہے اور ان پر حکومت کی طرف سے قدغن لگانے کی کوشش نہیں ہورہی ہے ۔اتحاد واتفاق کی بقا کے بعدہی ملک باقی رہے گا۔انہوں نے گرفتاری پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں حکومت کارویہ انتہائی غیرمنصفانہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ائمہ وخطباء انتشارکوختم کرسکتے ہیں ان کوتقریر وخطابت میں زور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
ممبرپارلیمنٹ طارق انور نے کانفرنس کے موضوع کووقت اورحالات کے مطابق قراردیتے ہوئے کہا مذہب کے نام پر دہشت گردی کا جو کھیل کھیلا جارہا ہے اس کا مقابلہ کرنا سب کی ذمہ داری ہے ۔ فرقہ پرستی کسی بھی مذہب میں ہو وہ قابل مذمت ہے۔ کسی بھی مذہب میں دہشت گردی کی اجازت نہیں ہے۔ لوگ اپنے فائدے کے لئے مذہب کا غلط استعمال کرتے ہیں ایسے لوگوں کے چہرہ کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے جہاد کی غلط تشریح کرنے پرکڑی تنقید کی۔
جماعت اسلامی ہند کے امیر مولانا سیدجلال الدین عمری نے کہا کہ انتشار ہماری سب سے بڑی کمزوری ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اندر بکھراؤ نہ پیدا ہونے دیں اور اتفاق واتحاد پر زور دیں۔ قرآن کی تعلیم ہے کہ اخوت وبھائی چارگی کے ساتھ رہو، قرآن نے متحدہونے کا سبق دیا اوریہ تلقین کی ہے کہ اگرمنتشررہوگے تونقصان اٹھاؤگے انہوں نے ائمہ وخطباء کو تلقین کی کہ امت کوکتاب وسنت کی اطاعت کی بنیاد پر متحد کیا جاسکتا ہے۔ قرآنی تعلیمات پرعمل نہ کرنے کے سبب ہم کمزور ہوئے ہیں ۔ائمہ وخطباء کی ذمہ داری ہے کہ ایسے حالات پیدا کریں کہ اتحاد واتفاق کی فضا پیدا ہو۔
جنتادل یوکے جنرل سیکریٹری اور ممبرپارلیامنٹ راجیہ سبھاکے سی تیاگی نے تقسیم ہند کے المناک باب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا قانون سب کویکساں حقوق عطا کرتا ہے ، انہوں نے کہا کہ مذہب کے نام پر کسی کے ساتھ امتیاز نہیں ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت حالات ۱۹۴۷ء سے بھی زیادہ مختلف ہیں انہوں نے سامر اجی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت عالمی حالات اچھے نہیں ہیں۔ ہمارے جوہندو رواداری سے ہٹ کر شدت پسندی کی طرف چلے گئے ہیں ان کو واپس لانا ہمارا بھی کام ہے۔ ملک کی مذہبی روایات کو مخدوش کرنے کی کوششوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس طرح کے رویہ کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ 
ویلفیر پارٹی آف انڈیا کے صدر ڈاکٹر سیدقاسم رسول الیاس نے کہا کہ آج ملک میں ہرکوئی پریشان ہے یہ صرف امت کا مسئلہ نہیں ہے ، ہم پردہشت گردی کے الزامات لگائے جارہے ہیں انہوں نے کہا کہ آج ملک کے آدی واس ، کسان پریشان ہیں، پورا ملک پریشانی میں مبتلا ہے ۔آج خواتین عزت وعصمت کے لئے فکر مند ہیں اس ملک کی تعمیر میں ہمارا بھی رول رہا ہے۔ ہم کو اپنے خیر امت کا فریضہ نبھانا ہوگا ملک کے موجودہ بحران کے خاتمہ کے لئے ہمیں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ہم یہ عہد کریں کہ ہم ناانصافی نہیں ہونے دیں گے انہوں نے کہا کہ امت کو انصاف کے لئے جمعیت کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔
پروفیسراخترالواسع کمشنر برائے اقلیتی السنہ حکومت ہند نیذمہ داران کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ دین کے معاملے میں کوئی زورزبردستی نہیں ہے توپھر مسلک کے بارے میں کیونکر زور زبردستی ہوسکتی ہے انہوں نے کہا کہ کتاب وسنت ہمارے عقیدہ کا محورہیں، خودغرضی پر چلنے والوں کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا تفرقہ بازی سے اوپر اٹھ کر کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے دہشت گردی اورداعش کے خلاف پہل پرمبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس امت کو اللہ کی تائید حاصل ہے ہم پوری انسانیت کی فلاح کے لیے کام کریں گے جواسلام کے نام پر دہشت پھیلارہے ہیں ہم ان کی مذمت کرتے ہیں۔
کمیونسٹ پارٹی آف انڈیاکے جنرل سیکریٹری جناب اتل کمار انجان نے ملک میں بڑھتی مہنگائی پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حقوق دینا سرکاروں کی ذمہ داری ہے۔ لیکن ہمیں ضروریات زندگی کہاں مل رہی ہے ، ترقی کا دعوی کیا جارہا ہے انہوں نے کہا اگرملک کی دولت کی منصفانہ تقسیم نہیں ہوگی توغربت نہیں ختم ہوگی انہوں نے ہندوستان کی تاریخ کو بدلنے والوں کی کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک کی ترقی میں سب کا رول رہاہے۔ حقوق کے لئے لڑائی جاری رہے گی۔
دارالعلوم دیوبند کے نمائندے مولانا مفتی راشد قاسمی صاحب نے ذکر کی تعریف بیان کرتے ہوئے کہا کہ سب سے بہترین ذکر وہ ہے جو قرآن وحدیث کی روشنی میں بیان کیا جائے۔ اس کے لئے ائمہ وخطباء کی ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن وحدیث کی روشنی میں مسئلہ استنباط کریں اور اپنے مسلک کو ترجیح دینا فرض سے کوتاہی کے زمرے میں آتا ہے۔ 
ڈاکٹر سعید احمد مدنی نے ذمہ داران جمعیت کو مبارکباد دیتے ہوئے ایک حساس موضوع کے انتخاب پر ان کی ستائش کی اورکہا کہ آپ نے ان لوگوں کو آوازدی ہے جن کا معاشرہ میں نمایاں کردار ہے ۔یہی ائمہ ہیں جنہوں نے دہشت گردی اور نامساعد حالات کا مقابلہ کیاہے۔
ڈاکٹر عبدالدیان انصاری پنجاب نے ذمہ داران جمعیت کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ یہ بڑی سعادت کی بات ہے کہ پہلی بار ائمہ وخطباء کو ان کا بھولا ہوا سبق یاد دلانے کے لئے آواز دی گئی ہے۔ انہوں نے متولیان مساجدسے ائمہ وخطباء کے احترام کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ائمہ وخطباء قرآن وحدیث کی روشنی میں خطاب کریں اورمتولیان حضرات ائمہ کی اقتصادی صورت حال کا بھی خیال رکھیں۔
مدھیہ پردیش صوبائی جمعیت کے امیر مولانا عبدالقدوس عمری نے کہا کہ ہندوبیرون ملک جب بھی کسی فتنہ نے سرا بھارا ہے جمعیت اس کی سرکوبی کے لئے تیار رہی ہے۔ انہوں نے کہا مرکزی جمعیت نے ائمہ وخطباء کے موضوع پر کانفرنس کرکے بڑا کارنامہ انجام دے دیاہے۔
اس کانفرنس سے ٹی حمزہ، انڈمان نکوبار، صوبائی جمعیت اہل حدیث دہلی کے امیر مولانا عبدالستار سلفی، جناب شعیب انصاری، ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث اڑیشہ نے خطاب کیا۔ آج کی پہلی نشست کے اختتام پر ناظم عمومی نے مہمانان گرامی و حاضرین کا تہہ شکریہ ادا کیا اور نشست کے اختتام کا اعلان کیا۔

Photo f

نئی دہلی: ۱۲؍مارچ ۲۰۱۶ء
’’ائمہ کرام صلح وآشتی ، محبت و اخوت کے علمبردار ہیں۔یہ دہشت گردی اور فتنہ وفساد کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ دنیا کے پالنہار سے بندوں کا رشتہ استوار کرتے ہیں ، اتحاد و یکجہتی کی تعلیم دیتے ہیں، قومی، ملی اور مسلکی تفریق مٹاتے ہیں یہ مصلحین قوم وملت حضرات ائمہ کرام پھر سے تیار ہوگئے۔ داعش اس ملک میں قدم نہیں رکھ سکے گا۔ ‘‘ان خیالات کا اظہار مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے کہا موصوف آج یہاں دہلی کے تاریخی رام لیلا میدان میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی دو روزہ عظیم الشان بین الاقوامی تینتیسویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس بعنوان ’’ انسانیت کے فروغ اور پر امن معاشرہ کی تشکیل میں ائمہ وخطباء کا کردار اور ان کے حقوق‘‘ کے افتتاحی اجلاس میں خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے اپنے کلیدی خطبہ میں کہا کہ آج پوری عالم انسانیت کو مختلف چیلنجوں ا ور مسائل کا سامنا ہے۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند ا ن مسائل کے حل کے لیے سرگر م عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم امن وشانتی کے علمبردار ہیں اور داعش اور اس جیسی دہشت گرد تنظیموں کی مذمت کرتے ہیں۔ اپنے پر مغز کلیدی خطبہ میں ناظم عمومی نے پر زور انداز میں کہا کہ امام نظم و ضبط اور امن وسلامتی کا ضامن ہے۔ دہشت گردی کا خاتمہ ہوکر رہے گا۔ داعش اس ملک میں قدم نہیں رکھ سکے گا۔ وہ اپنی ظلم وبربریت کی وجہ سے ہلاکو وچنگیز کی جماعت سے جاملا ہے۔ وہ ابن صبا اور خارجی وصبائی ٹولہ سے رشتہ استوار کرنے کی وجہ سے دہشت گردی کا منحوس طوق گلے میں ڈال چکا ہے۔ ایسی صورت میں ائمہ کرام کی ذمہ داری اور زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ محبت ،نرم دلی، شفقت و مودت کا درس دیں۔ وہ جس دین کو ماننے والے ہیں وہ اسلام ہے۔ اس کے معنی امن وسلامتی کے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسی ایک خاص طبقہ کو نشانہ بنانا افسوسناک ہے۔ آپ اتحاد کا داعی بنیں۔ ہندو مسلم سکھ عیسائی آپس میں سب بھائی بھائی ہیں۔ جماعت اہل حدیث ہند کے جنگ آزادی میں قابل فراموش کارنامہ انجام دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امامت کی اہمیت وضرورت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قابل اور باصلاحیت صحابہ کرام کو امام بننے کا مشورہ دیا کرتے تھے۔ 
ناظم عمومی نے فرمایا کہ امام معاشرے کا امین اور نگہبان ہوتا ہے۔اس تعلق سے چند تجاویز پیش کرتے ہوے کہا کہ نوجوانوں کی خصوصا تربیت اسلامی کریں جو ملک وملت اور انسانیت کے صالح ترین عنصر ہی نہیں بلکہ کل کے مرد میدان اور صالح رجال کار ہیں۔ وہ امن کے علمبردار بنیں اور فتنہ وفساد اور دہشت گردی وآتنگ واد کے درپے آزار ہوں۔ صادق وامین بنیں۔ 
کانفرنس کی مجلس استقبالیہ کے صدر مولانا عبدالرحمن مبارکپوری نے کہا کہ ہمارے اسلاف نے زندگی کے تمام گوشوں میں ایسی درخشندہ وتابندہ روایات چھوڑی ہیں جو ہماری روشن تاریخ کے سنہرے اوراق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اہل حدیث ایک ایسی تحریک ہے جو ہر دور میں انسانیت کو مختلف مسائل سے نجات دینے کے لیے کتاب وسنت کی روشنی میں رہنمائی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا آج ایک منظم سازش کے تحت یہودی لابی اور اس کے زیر اثر میڈیا کے ذریعہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی اور دہشت پسندی کو اسلام کی طرف منسوب کرنے کی ناپاک جسارت کی جارہی ہے ۔ یہ معلوم ہونا چاہئے کہ اسلام امن وشانتی کا دین ہے۔ اتحاد واتفاق کی فضا قائم کرنا ہمارا فرض ہے۔ 
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر حافظ محمد یحییٰ دہلوی نے اپنے خطبہ صدارت میں کہا کہ آج دنیا انتہائی پر آشوب دور سے گزر رہی ہے ، عدم رواداری اور عدم تحمل کا ماحول تیزی سے فروغ پارہا ہے۔ ہم اماموں کی خاموشی نیز دین اسلام کی خوبیوں کو غیروں تک نہ پہنچانے کا نتیجہ ہے کہ یہ فتنے ہمارے دروازوں پر دستک دینے لگے ہیں اور اسلام کی شبیہ کو بگاڑنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اسلام جوڑنے کا کام کرتا ہے توڑنے کا نہیں۔ داعش القاعدہ اور اس جیسی دیگر تنظیموں کی سرگرمیاں و کارروائیاں اسلامی شریعت میں حرام اور مجرمانہ کام ہیں۔ ہم ان کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔ اور قومی یکجہتی اور اتحاد و اتفاق کی دعوت دیتے ہیں۔ امیر محترم نے اپنے خطبہ میں بہت ساری نصیحت آموز باتیں بیان فرمائیں۔ 
جامعہ سراج العلوم جھنڈا نگر کے ناظم اعلیٰ مولانا شیم احمد ندوی نے اپنے تاثرات میں ذمہ داران خصوصا مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی کو مبارک باد دی اور موضوع کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کانفرنس کے انعقاد سے ملک میں امن و شانتی کا اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں دہشت گردی،، خوں ریزی اور بے قصوروں کے قتل کی سخت خدمت کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماج کی اصلاح کے لیے ائمہ اور خطباء کا بڑا اہم رول ہے۔ اورکردار سازی میں بہت نمایاں کردار ادا رکررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے لئے بڑی بدقسمتی ہے کہ ہم نے مساجد کے کردار کو محدود کردیا ہے جبکہ دور نبوی اور خلفاء راشدین کے دور میں صلح وآشتی اور امن وآشتی کے فیصلے کئے جاتے تھے۔ 
جامعہ سلفیہ بنارس کے ناظم اعلیٰ مولانا عبداللہ سعود نے اپنے تاثراتی کلمات میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ذمہ داران کو اس اہم کانفرنس کے بروقت انعقاد پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ تمام انسانوں کا رب اللہ ہے۔ اس پیغام کو ہر کسی تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔ اللہ سے ہمارا رشتہ مضبوط ہونا چاہئے۔ ہندوستان ہماری جائے پیدائش ہے۔ اس کی حفاظت ترقی ہماری ذمہ داری ہے اور ہرحال میں اس ملک کی حفاظت کریں گے۔ 
ڈاکٹر محمد احمد قاضی کلچرل اٹیچی سفارت خانہ مصر نے اپنے تاثراتی کلمات میں کہا کہ مساجد امن وشانتی کی علامت ہیں۔ نازک حالات میں ائمہ و خطباء کی اہمیت وافادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماج کے ہر طبقہ کے ساتھ روابط بڑھانے ور حسن اخلاق کا مظاہر کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا ہم پر فرض ہے اور ہم اسلام دشمن عناصر کو سمجھائیں کہ اسلام خیر خوا ہ ہے، اسلام ہر طرح کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔ ملک میں مختلف مسائل کے ازالہ میں ائمہ وخطباء اہم رول ہمیشہ ادا کرتے رہے ہیں۔ ائمہ کرام کے لیے میراناصحانہ مشور ہے کہ وہ شخص بن کر نہ جئیں بلکہ شخصیت بن کر رہیں۔ کیوں کہ شخص مرجاتا ہے اور شخصیت ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مساعی مشکور ہیں اور ائمہ مساجد کے عنوان پر کانفرنس کے انعقاد کے لیے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ 
حافظ عتیق الرحمن طیبی امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث مشرقی یوپی نے کہا کہ حقوق اللہ حقوق العباد کے بغیر ادا نہیں ہوسکتا۔ امن وامان قائم رکھنا بندوں کا حق ہے۔ بد امنی ظلم ہے۔ اپنی بنیاد سے جڑ کر رہیں۔اختلاف سے بچیں میں آپ سبھی کو نصیحت کرتا ہوں کہ مرکز کے ساتھ جڑ کر رہیں۔ 
شیخ فیصل عبدالقادر صحراوی نے کہا کہ ہماری سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ اللہ کا یہی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک دوسرے کے حقوق کو ادا کریں۔ سماج کے ضرورت مندوں کا خیال رکھیں۔ دہشت گردی بہت بڑی لعنت ہے۔ 
دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو کے مہتمم ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی نے ائمہ وخطباء کے حوالہ سے اتنی عظیم الشان کے انعقاد پر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ذمہ داران کو مبارکباد دی ۔ شرک سب سے بری چیز ہے اور اصلاح معاشرہ میں امام کا کردار اہم ہے۔ 
آل انڈیا امام آرگنائزیشن کے صدر مولانا عمیر الیاسی نے اتنے بڑے پیمانے پر اس قدر اہم موضوع پر کانفرنس کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہہ ہمارا مقصد اتحاد ہے ، ہم سب ایک ہیں۔ ہماری شناخت جو ٹوپیوں اور پگڑیوں سے ہے اس کے بجائے اللہ اور اس کے رسول کی خالص تعلیمات کے ذریعہ ہونی چاہئے۔ ہمارے قائدین اپنی پہچان پر توجہ دیتے ہیں جب کہ اسلامی تعلیمات سے لوگوں کو روشناس کرانے کی اشد ضرورت ہے۔ 
مولانا زاہد رضا رضوی سابق چیئرمین اتراکھنڈ حج کمیٹی نے کہا کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث کی یہ امتیازی شان ہے کہ وہ اپنی ہر کانفرنس کے لیے ایک نیا، اچھوتا، ملت کی نبض کو ٹٹولتا ہوا اور سلگتے مسائل کی طرف ملت کی توجہ دلانے والا ہوتا ہے۔ اس کانفرنس کا عنوان بڑا اہم ہے۔لہذا ائمہ کرام کو اپنی ذمہ داری کی طرف مزید متوجہ ہونے کی ضرورت ہے اور اتحاد و اتفاق ضروری ہے۔ دشمن ہمیں لڑا نا چاہتا ہے۔ 
ڈاکٹر سلیمان نے اپنے تاثر میں کہا کہ ائمہ حضرات لوگ کی پرامن انداز میں تربیت کریں۔ ان کے ساتھ خیر خواہانہ طریقے سے پیش آئیں۔ حکمت سے اپنی دعوت کو پیش کریں۔ اختلاف کو مٹائیں۔ انہوں نے کہا کہ ائمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرہ میں پائے جانے والے فکری انحراف کو ختم کرنے کوشش کریں۔ 
اس موقوع پر دہشت گردی اور داعش کے خلاف مرکزی جمعیت کے فتویٰ کا دوبارہ اجراء ہوا جو کہ جریدہ ترجمان کے خصوصی شمارہ میں شائع کیا گیا ہے۔ 
مولانا عبدالشکور اثری نے کہا کہ مسلمان اپنا فرض امر بالمعروف نہیں ادا کرتے۔ دہشت گردی کو ختم کرنا ضروری ہے۔ مرکز سے الگ ہونا کٹی پتنگ کے مثل ہے۔ 
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم مالیات الحاج وکیل پرویز نے حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ائمہ وخطباء پر منعقد ہونے والی یہ کانفرنس بہت اہم ہے۔ اس کے لیے ناظم عمومی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی مبارک باد کے مستحق ہیں۔ 
واضح رہے کہ کل ظہر اورمغرب کی نماز کی امامت مسجد نبوی کے سینئرمدرس ڈاکٹر سلیمان سلیم اللہ الرحیلی حفظہ اللہ خطاب فرمائیں گے۔
مجلس کی نظامت مولانا خورشید عالم مدنی قائم مقام امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث بہار نے کی اور قاری صغیر احمد سلفی کی تلاوت سے مجلس کا آغاز ہوا۔

Amla Photo

۳۳ویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس کو کا میاب تر بنانے کاعزم اور جوش و خروش
اہم ملی،ملکی اورجماعتی مسائل پر غوروخوض
نئی دہلی:۷۱/جنوری۶۱۰۲ء
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی پریس ریلیز کے مطابق آج اہل حدیث کمپلیکس،اوکھلا،نئی دہلی میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کی ایک اہم میٹنگ امیرجمعیت محترم حافظ محمدیحيٰ دہلوی حفظہ اللہ کی صدارت میں منعقد ہوئی جس میں ملک کے تمام صوبوں سے تشریف لائے موقر اراکین عاملہ اور صوبائی جمعیات کے ذمہ داران نے شرکت کی۔مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے جملہ شعبہ جات کی ہمہ جہت دینی، دعوتی، تعلیمی، اشاعتی، علمی، تحقیقی، رفاہی وانسانی خدمات اور سرگرمیوں کی رپورٹ پیش کی اور ناظم مالیات جناب الحاج وکیل پرویز صاحب نے آمد و صرف کا تفصیلی حساب کتاب پیش کیا جن پر موقر مجلس عاملہ نے اطمینان و خوشی کا اظہارفرمایا۔میٹنگ میں جمعیت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیااور آئندہ دعوتی،تعلیمی، تنظیمی اوررفاہی منصوبوں کے بارے میں غوروخوض کیا گیا اور داعش وغیرہ کی دہشت گردانہ کارروائیوں کی کڑی مذمت کی گئی اور دہشت گردی کو وطن عزیز کے لیے خصوصاً اور پوری انسانیت کے لیے عموما عظیم خطرہ اور ناسور قرار دیا گیا۔

Page 1 of 16

The Collective Fatwa against Daish and those of its ilk

ہمارے رسائل وجرائد

http://ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/al-isteqamah2gk-is-214.jpglink
http://ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/islahe-samaj2gk-is-214.jpglink
http://ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/jareeda-tarjumah2gk-is-214.jpglink
http://ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/the-symple-truth2gk-is-214.jpglink
«
»
Loading…