مرکز کی سرگرمیاں

Children categories

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کا اہم اجلاس اختتام پذیر ملک وملت وانسانیت سے متعلق مسائل زیر غور

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کا اہم اجلاس اختتام پذیر ملک وملت وانسانیت سے متعلق مسائل زیر غور (0)

۳۴ویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس بنگلور میں
نئی دہلیـ۱۹مارچ۲۰۱۷ء
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی پریس ریلیز کے مطابق آج مورخہ۱۹مارچ۲۰۱۷ء کو مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت جناب حافظ محمد عبدالقیوم نائب امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند بمقام اہل حدیث کمپلیکس، اوکھلا، نئی دہلی منعقد ہوا جس میں تقریبا ۲۱ صوبوں سے بڑی تعداد میں اراکین مجلس عاملہ ومدعوئین خصوصی نے شرکت کی۔ اور ملک وملت نیزجماعت کو درپیش مسائل کاجائزہ لیا ۔ناظم عمومی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند کی ہمہ جہت دعوتی، تعلیمی، ملی وانسانی خدمات سے متعلق رپورٹ اور ناظم مالیات الحاج وکیل پرویز صاحب نے سالانہ حساب کتاب پیش کیا جس پر موقر اراکین نے اظہار اطمینان و مسرت فرمایا۔ اجلاس میں من جملہ دیگر امور کے طے پایا کہ ۳۴ویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس بنگلور میں ہوگی۔ نیز یہ کہ صوبائی جمعیات کے انتخابات وقت کے اندر ہوں۔جمعیت کی تعمیر وترقی کے لیے منصوبے زیر غور آئے۔ اتفاق رائے سے کئی اہم ملی، ملکی اور جماعتی حالات کے پیش نظر فیصلے کئے گئے اور کافی غور وخوض کے بعد ملک وملت اور انسانیت سے متعلق درج ذیل قرار دادیں پاس کی گئیں۔

sمجلس عاملہ کی قرارداد میں اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے اور برادران وطن کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کرانی، امن وشانتی کا پیغام عام کرنے ،بھائی چارہ وقومی یکجہتی کے کوشش کرنے پر زوردیاگیا۔اجلاس میںبابری مسجد قضیہ کے جلد ازفیصل کرانے ، بے قصور مسلم نوجوانوں کو ہراساں کرنے والے خاطی پولس افسران کو قانون کے دائرے میں لانے اور ملک میں بڑھتی مہنگائی پر قابو پانے کی اپیل کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں برادران وطن اورمسلمانوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ شراب نوشی ودیگر منشیات سے پرہیز کریں اورنوجوانوں میں پائی جانے والی اخلاق باختہ برائیوں کو دور کرنے کے لئے مخلصانہ کوشش کریں۔
مجلس عاملہ کی قرارداد میں انسداد فرقہ وارانہ فساد بل کو پاس کرانے اور انتظامیہ کو فسادات میں جواب دہ بنانے کی اپیل اور ملک میں عصمت دری کے واقعات پر اظہار تشویش کیا گیاہے۔ قرار داد میں پولس اورنیم فوجی دستوں میں مسلم نمائندگی کویقینی بنانے کے حکومتی فیصلہ کا خیر مقدم کیا گیاہے۔ مسلمانوں کے خلاف دھمکی آمیز و نفرت انگیز بیانات پراظہار تشویش کیا گیا۔اجلاس میںجماعت کے اندر انتشار وخلفشار پیداکرنے والوں اورتنظیمی امور کو سبوتاژ کرنے والوںنیزجمعیت کے ذمہ داران پربے سروپاالزام لگانے والوں کی بھی مذمت کی گئی اور وسیع تر جماعتی مفادات کے پیش نظرانہیں اپنی حرکتوں سے باز رہنے کی تلقین کی گئی۔
مجلس عاملہ کی قرارداد میں داعش اور اس کی دہشت گردی کی مذمت اور مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیراہتمام ’’داعش اوردہشت گردی کی بیخ کنی میں قومی یکجہتی کا کردار‘‘ کے عنوان پر منعقدہ سیمینارکو وقت کی ضرورت قرار دیا گیا ہے۔
قرارداد میں اسرائیلی جارحیت، اسلامی مقدسات کی بے حرمتی اور فلسطینیوں پہ عرصہ حیات تنگ کرنے کی مذمت اورفلسطینیوں سے اظہار ہمدردی اوران کے کاز کی حمایت کی گئی ہے ،اسی طرح سے عراق افغانستان وغیرہ میں مسلسل ہورہے جانی ومالی نقصانات پراظہار تشویش کیا گیا ہے اور انصاف پسند اقوام عالم سے یہ اپیل کی گئی ہے کہ متعلقہ ممالک میں اقتدار اعلیٰ کو عوام کے حوالہ کیا جائے۔قرارداد میں ملی وجماعتی اہم شخصیات کی وفیات پر بھی اظہار رنج وغم اور ان کے پسماندگان سے اظہار تعزیت کیاگیا

View items...

دہلی: ۱۵؍فروری ۲۰۱۸ء 
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام مورخہ۹۔۱۰؍مارچ ۲۰۱۸ء کو دہلی کے تاریخی رام لیلا میدان میں ’’امن عالم کا قیام اورتحفظ انسانیت‘‘ کے عنوان پر منعقد ہونے والی عظیم الشان دو روزہ چونتیسویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس کے سلسلے میں پورے ملک کے اندر کافی جوش و خروش پایاجارہا ہے۔ بڑی تعداد میں تہنیتی خطوط اور ٹیلی فونک پیغامات موصول ہورہے ہیں جن میں دیش کے کونے کونے سے علماء و خطباء اور سرکردہ جماعتی ، ملی اور سماجی شخصیات اور وفود کی آمد کی اطلاع دینے کے ساتھ ساتھ کانفرنس کے موضوع ، وقت اور مقام انعقاد کی تحسین کی جارہی ہے۔ اور موجودہ حالات میں اسے وقت کی بڑی ضرورت قرار دیا جارہا ہے۔ کانفرنس کی تیاری زوروں پر ہے۔ رابطہ مہم جاری ہے، ملک کے مختلف حصوں میں کافی ہلچل ہے اور پورے ملک میں کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لیے اراکین وکارکنان کی نشستوں کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ جانکاری مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر محترم مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی حفظہ اللہ نے اخبا رکے نام جاری ایک بیان میں دی۔ 
امیرمحترم نے کہا کہ موجودہ ملکی وعالمی تناظرمیں’’قیام امن عالم وتحفظ انسانیت‘‘ سے معنون اس کانفرنس کی اہمیت وضرورت دوچند ہوگئی ہے۔ خاص طورسے ایسے وقت میں جبکہ ملک وملت اورانسانیت کونوع بنوع اخلاقی ومعاشرتی مسائل اور چیلنجزدرپیش ہیں۔ دہشت گردی، فرقہ وارانہ منافرت، تشدداوراشتعال انگیزی، بات بات پر قتل وخوں ریزی معمول کا واقعہ بن گیا ہے۔ شراب نوشی، منشیات، رشوت ستانی ،حق تلفی، کالا بازاری،سماجی ومعاشی استحصال، عدم رواداری ، فحش کاری و منکرات اور دین بیزاری کاعفریت اور آلودگی و خوف و دہشت ملک ومعاشرہ کواپنے خونیں پنجے میں جکڑے ہوئے ہے اورمسلم امت جسے ان ناگفتہ بہ حالات میں دستگیری اورمسیحائی کادم بھرنا تھا اس کا ایک بڑاطبقہ اپنا دینی واخلاقی منصب بھلاکرتکفیری وتنفیری روش پرگامزن ہے اور اس طرح بے چاری ملت بلاوجہ مسلکی رسہ کشی اورگروہی عصبیت کی بھٹی میں جلتی جارہی ہے۔ایسے ناگفتہ بہ حالات میں ضرورت ہے کہ ہرفرد بشراپنی اپنی ذمہ داری کو سمجھے اورحتی الوسع اس کے لیے جدوجہد کرے ۔ 
انہوں نے مزید کہا کہ یہ کانفرنس اس لیے بھی اہم ہے کہ اس میں نہ صرف بلاتفریق ہرمسلک اورہرمکتب فکر کے قائدین کودعوت دی گئی ہے بلکہ علماء و ائمہ کو بھی مدعوکیا گیا ہے تاکہ سب مل کر اورباہم متحد ہوکر ملک وملت کودرپیش مسائل کاحل تلاش کریں، اپنے دم قدم سے دہشت گردی اورداعش وغیرہ کی لعنت اور بڑھتی ہوئی آلودگی سے ملک وانسانیت کو بچائیں اور امن وشانتی اوراخوت وبھائی چارے کے ماحول میں الہ واحد کی یکتائی اور رسول گرامی کی رسالت کا گیت گائیں اوردنیا کو انسانیت کا دلنواز پیغام سنائیں۔


دہلی، یکم فروری ۲۰۱۸ء
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکے امیرمولانااصغرعلی امام مہدی سلفی کی ایک پریس ریلیز میں گذشتہ دنوں اترپردیش کے شہر کاسگنج میں ہوئے فرقہ وارانہ فساد پرشدید تشویش اور اس کے نتیجہ میں ہوئے جانی و مالی اتلاف پر شدید رنج و غم کا اظہار کیاگیاہے۔نیز کہا گیاہے کہ یہ ملک دشمن عناصر کی منصوبہ بند سازش کے تحت وطن عزیزکی بھائے چارے کی فضا کو مکدر کرنے کی ایک اور گھناؤنی کوشش ہے جس سے برادران وطن کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ۔
پریس ریلیز میں کہاگیاہے کہ بعض ملک دشمن عناصر، اہل وطن کے درمیان نفرت کی فضا پیداکرکے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کوبربادکرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔ لہٰذا حکومت کو چاہئے کہ لاپرواہی برتنے والے لوگوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کرے اور اس افسوسناک واقعہ کی غیرجانبدارانہ انکوائری کرائے نیز بغیرکسی جانبداری کے امن وآشتی کو بگاڑنے والے لوگوں کے خلاف مناسب کارروائی کرتے ہوئے جوابدہی طے کرے تاکہ کسی بھی فرقہ پر ظلم وزیادتی نہ ہونے پائے۔انہوں نے تمام باشندگان وطن سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قومی یکجہتی ہماری پہچان ہے، اس پہچان کو باقی رکھنے کے لیے ہم سب کو مشترکہ کوشش کرتے رہناچاہئے تاکہ معاشرہ کے خود غرض عناصر اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب نہ ہوسکیں۔
پریس ریلیز کے اندر جاں بحق ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت نیز متاثرین سے اظہارہمدردی کیا گیاہے اور حکومت سے مطالبہ کیا گیاہے وہ بھائی چارے کی فضا کومکدر کرنے کی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہ ہونے دے نیز اصل مجرمین کو جلد از جلد گرفتارکرکے قرار واقعی سزادے تاکہ بیمار ذہنیت کا علاج اورانسانی حقوق کا تحفظ ہوسکے۔

دہلی،۱۱؍جنوری۲۰۱۸ ؁ء
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکی پریس ریلیزکے مطابق مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی چونتیسویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس دہلی کے رام لیلامیدان،نئی دہلی میں بروز جمعہ وسنیچربتاریخ ۹۔۱۰؍مارچ ۲۰۱۸ ؁ء ’’قیام امن عالم وتحفظ انسانیت‘‘ کے عنوان پر منعقد ہوگی ۔ اسلام کے پیغام امن وانسانیت کو جاننے اورعام کرنے، دہشت گردی، داعش ودیگر دہشت گرد تنظیموں کی سنگینی اورسازشوں کو سمجھنے، اور ان کے خلاف بیداری پیداکرنے،اسلامی رواداری، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے فروغ میںیہ کانفرنس ممد ومعاون ثابت ہوگی۔علاوہ ازیں شراب نوشی ودیگرمنشیات کا استعمال ،جہیزجیسی سماجی برائیاں، جوا، رشوت، جہالت وبھکمری معاشرے کے لیے چیلنچ بنی ہوئی ہیں۔ عصرحاضرمیں آلودگی اوراس کے نتیجہ میں بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت اورپانی کی قلت کے خدشات کے مسائل بھی کم فکرمندی کے حامل نہیں،ان سے پوری انسانیت مضطرب اور دنیاکی ساری مخلوق اس کی خطرناکیوں کے نرغے میں ہے ۔ ملک وملت وانسانیت کو درپیش مذکورہ مسائل ومشکلات کا حل پیش کرنے اور ان کے سلسلے میں عوامی بیداری لانے کے لیے کانفرنس میں نوع بنوع پروگرام منعقد ہوں گے۔ کانفرنس میں ملک وبیرون ملک کے مشاہیر علماء کرام،ودانشوران ملک وملت نیزدینی وسماجی اہم شخصیات شریک ہوں گی جن کے مذکورہ موضوعات و مسائل پر چشم کشا،بصیرت آمیز اورایمان افروز خطابات ،تقاریر، مقالات اورمنظوم کلام سے شرکاء کانفرنس محظوظ ومستفید ہوں گے۔توقع ہے کہ کانفرنس میں ملک کے کونے کونے سے بلاامتیاز مسلک ومشرب خاص وعام بڑی تعداد میں شریک ہوں گے اوراپنی دینی حمیت،اسلامی اخوت اورجماعتی غیرت ومحبت کے ساتھ شریک ہوکر امن وانسانیت اور قومی یکجہتی اوربقائے باہم کے اسلامی پیغام کو عام کریں گے۔
اس وقت ملکی نیزعالمی سطح پرانسانیت کی روح سے متصادم نظریات کے باعث جس طرح کی بیچینی وکشیدگی پائی جارہی ہے اس سے نہ صرف مسلمانان عالم بلکہ ہرذی ہوش وسلیم الطبع شخص فکرمندہے نیزاس کاپائدار حل چاہتاہے۔ان حالات کا تقاضا ہے کہ ہر شخص بحیثیت انسان اپنی بساط بھر اس کے لیے کوشاں رہے نیز مثبت اقدامات کرنے والوں کی آواز میں آواز ملائے۔اسی میں انسانیت نیز ساری کائنات کی بھلائی مضمر ہے۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندجو ملک وملت کے حساس وسلگتے مسائل کے حل کے تئیں ہمیشہ فکرمند رہتی ہے اور ان میں اپنامثبت کردار اداکرنے کی سعی پیہم کرتی ہے، اس کے ذریعہ کانفرنس کاموجودہ عنوان پر انعقاد اسی فکرمندی کانتیجہ ہے۔امیدہے کہ اس کے دوررس اثرات مرتب وپائدار نتائج برآمد ہوں گے۔واضح ہوکہ اس سے قبل مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند انسانیت کے مسائل کاحل،وسطیت واعتدال،اسلاف وائمہ کی قدردانی،جیسے قابل قدرعناوین پرمتعدد کانفرنسیں منعقد کرکے عوام وخواص سے خراج تحسین حاصل کرچکی ہے۔
ناظم عمومی مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندمولانامحمدہارون سنابلی نے بتایا کہ مذکورہ خیالات کا اظہار امیرمحترم مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے گذشتہ کل جمعیت کے دفترمیں منعقد ایک میٹنگ کے دوران کیا۔ناظم عمومی نے مزید بتایاکہ کانفرنس کی تیاریاں زوروں پر ہیں۔ اورذمہ داران، ارکان، وابستگان اور کارکنان اس کو کامیاب بنانے کے لیے پوری تندہی سے مصروف کار ہیں۔

photo 20 Nov. 17

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکے زیراہتمام گیارہویں آل انڈیا ریفریشر کو رس کے اختتامی اجلاس میں صوبائی جمعیات اہل حدیث اور دینی وملی تنظیموں کے ذمہ داران کا اظہار خیال۔ پورے ملک سے آئے ہوئے ائمہ ودعاۃ ومعلمین کوتوصیفی اسناد وغیرہ سے نوازا گیا

دہلی:۲۰نومبر۲۰۱۷ء بروز ہفتہ
ایمان وعمل صالح ، محاسبہ نفس ، جذبہ خیر سگالی وقومی یکجہتی اور انسانی ہمدردی داعش و دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے مجرب نسخہ ہے۔ اس کو اپنی زندگیوں میں نافذ کرنے کی ضرور ت ہے۔ ائمہ و معلمین اس سلسلہ میں موثر کردار ادا کررہے ہیں۔مگر بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور داعش جیسے نت نئے پیدا ہورہے فتنوں کے خاتمے اور تعاقب کے لیے ائمہ ودعاۃ اور معلمین کا مزید ٹرینڈ اور مدرب ہونا ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے کیا۔ موصوف گذشتہ شام اہل حدیث کمپلیکس اوکھلا، نئی دہلی میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام آٹھ روزہ گیارہواں آل انڈیا ریفریشر کورس برائے ائمہ دعاۃ و معلمین کے اختتامی اجلاس میں صدارتی خطاب فرما رہے تھے۔
انہوں نے اپنے خطاب میں موقر اراکین مجلس عاملہ، ذمہ داران صوبائی جمعیات اہل حدیث، ملی وسماجی قائدین نیز شرکاء دورہ تدریبیہ کواس میں شرکت پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کے شکریہ کے ساتھ ساتھ ان تمام جہات اور اداروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس ریفریشر کورس میں شرکت کے لیے اپنے یہاں سے ائمہ ، دعاۃ اور معلمین ارسال کئے نیز انہوں نے دعوت واصلاح اور تعلیم وتربیت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایاکہ یہ انبیاء کرام کا اسوہ ہے اور انعمت علیھمکا جو اعزاز انہیں حاصل ہواہے وہ اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے انسانیت اور خلق الہٰی کی فوز وفلاح، خیر خواہی اور ان کے امن وسکون کی راہ میں تمام تر مشکلات ومصائب برداشت کرنے کے بعداس کا صلہ اللہ سے ملنے کا سرعام اعلان کیا۔ لہٰذا معاشرہ وملک اور اللہ کی زمین سے فساد و بگاڑ اور ظلم ودہشت گردی کو مٹانے اور امن وآشتی اور اصلاح و سدھار کی راہ میںپیش آنے والے مصائب ومشکلات سے گھبرانے کی بجائے ہمت واستقلال کا مظاہر ہ کرتے ہوئے اللہ جل شانہ سے اس پر انعام کا ایمان ویقین ہونا چاہیے۔یہ کام بہت ہی عظیم الشان ، ضروری اور وقت کا تقاضہ ہے اسی لیے مرکزی جمعیت نے اس کا بیڑااٹھایاہے اور بڑی ہی پابندی کے ساتھ اس کا ہر سال انعقاد کرتی ہے۔

Page 1 of 18

The Collective Fatwa against Daish and those of its ilk

ہمارے رسائل وجرائد

http://ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/al-isteqamah2gk-is-214.jpglink
http://ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/islahe-samaj2gk-is-214.jpglink
http://ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/jareeda-tarjumah2gk-is-214.jpglink
http://ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/the-symple-truth2gk-is-214.jpglink
«
»
Loading…