مرکز کی سرگرمیاں

Children categories

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کا اہم اجلاس اختتام پذیر ملک وملت وانسانیت سے متعلق مسائل زیر غور

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کا اہم اجلاس اختتام پذیر ملک وملت وانسانیت سے متعلق مسائل زیر غور (0)

۳۴ویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس بنگلور میں
نئی دہلیـ۱۹مارچ۲۰۱۷ء
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی پریس ریلیز کے مطابق آج مورخہ۱۹مارچ۲۰۱۷ء کو مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت جناب حافظ محمد عبدالقیوم نائب امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند بمقام اہل حدیث کمپلیکس، اوکھلا، نئی دہلی منعقد ہوا جس میں تقریبا ۲۱ صوبوں سے بڑی تعداد میں اراکین مجلس عاملہ ومدعوئین خصوصی نے شرکت کی۔ اور ملک وملت نیزجماعت کو درپیش مسائل کاجائزہ لیا ۔ناظم عمومی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند کی ہمہ جہت دعوتی، تعلیمی، ملی وانسانی خدمات سے متعلق رپورٹ اور ناظم مالیات الحاج وکیل پرویز صاحب نے سالانہ حساب کتاب پیش کیا جس پر موقر اراکین نے اظہار اطمینان و مسرت فرمایا۔ اجلاس میں من جملہ دیگر امور کے طے پایا کہ ۳۴ویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس بنگلور میں ہوگی۔ نیز یہ کہ صوبائی جمعیات کے انتخابات وقت کے اندر ہوں۔جمعیت کی تعمیر وترقی کے لیے منصوبے زیر غور آئے۔ اتفاق رائے سے کئی اہم ملی، ملکی اور جماعتی حالات کے پیش نظر فیصلے کئے گئے اور کافی غور وخوض کے بعد ملک وملت اور انسانیت سے متعلق درج ذیل قرار دادیں پاس کی گئیں۔

sمجلس عاملہ کی قرارداد میں اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے اور برادران وطن کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کرانی، امن وشانتی کا پیغام عام کرنے ،بھائی چارہ وقومی یکجہتی کے کوشش کرنے پر زوردیاگیا۔اجلاس میںبابری مسجد قضیہ کے جلد ازفیصل کرانے ، بے قصور مسلم نوجوانوں کو ہراساں کرنے والے خاطی پولس افسران کو قانون کے دائرے میں لانے اور ملک میں بڑھتی مہنگائی پر قابو پانے کی اپیل کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں برادران وطن اورمسلمانوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ شراب نوشی ودیگر منشیات سے پرہیز کریں اورنوجوانوں میں پائی جانے والی اخلاق باختہ برائیوں کو دور کرنے کے لئے مخلصانہ کوشش کریں۔
مجلس عاملہ کی قرارداد میں انسداد فرقہ وارانہ فساد بل کو پاس کرانے اور انتظامیہ کو فسادات میں جواب دہ بنانے کی اپیل اور ملک میں عصمت دری کے واقعات پر اظہار تشویش کیا گیاہے۔ قرار داد میں پولس اورنیم فوجی دستوں میں مسلم نمائندگی کویقینی بنانے کے حکومتی فیصلہ کا خیر مقدم کیا گیاہے۔ مسلمانوں کے خلاف دھمکی آمیز و نفرت انگیز بیانات پراظہار تشویش کیا گیا۔اجلاس میںجماعت کے اندر انتشار وخلفشار پیداکرنے والوں اورتنظیمی امور کو سبوتاژ کرنے والوںنیزجمعیت کے ذمہ داران پربے سروپاالزام لگانے والوں کی بھی مذمت کی گئی اور وسیع تر جماعتی مفادات کے پیش نظرانہیں اپنی حرکتوں سے باز رہنے کی تلقین کی گئی۔
مجلس عاملہ کی قرارداد میں داعش اور اس کی دہشت گردی کی مذمت اور مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیراہتمام ’’داعش اوردہشت گردی کی بیخ کنی میں قومی یکجہتی کا کردار‘‘ کے عنوان پر منعقدہ سیمینارکو وقت کی ضرورت قرار دیا گیا ہے۔
قرارداد میں اسرائیلی جارحیت، اسلامی مقدسات کی بے حرمتی اور فلسطینیوں پہ عرصہ حیات تنگ کرنے کی مذمت اورفلسطینیوں سے اظہار ہمدردی اوران کے کاز کی حمایت کی گئی ہے ،اسی طرح سے عراق افغانستان وغیرہ میں مسلسل ہورہے جانی ومالی نقصانات پراظہار تشویش کیا گیا ہے اور انصاف پسند اقوام عالم سے یہ اپیل کی گئی ہے کہ متعلقہ ممالک میں اقتدار اعلیٰ کو عوام کے حوالہ کیا جائے۔قرارداد میں ملی وجماعتی اہم شخصیات کی وفیات پر بھی اظہار رنج وغم اور ان کے پسماندگان سے اظہار تعزیت کیاگیا

View items...

photo 20 Nov. 17

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکے زیراہتمام گیارہویں آل انڈیا ریفریشر کو رس کے اختتامی اجلاس میں صوبائی جمعیات اہل حدیث اور دینی وملی تنظیموں کے ذمہ داران کا اظہار خیال۔ پورے ملک سے آئے ہوئے ائمہ ودعاۃ ومعلمین کوتوصیفی اسناد وغیرہ سے نوازا گیا

دہلی:۲۰نومبر۲۰۱۷ء بروز ہفتہ
ایمان وعمل صالح ، محاسبہ نفس ، جذبہ خیر سگالی وقومی یکجہتی اور انسانی ہمدردی داعش و دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے مجرب نسخہ ہے۔ اس کو اپنی زندگیوں میں نافذ کرنے کی ضرور ت ہے۔ ائمہ و معلمین اس سلسلہ میں موثر کردار ادا کررہے ہیں۔مگر بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور داعش جیسے نت نئے پیدا ہورہے فتنوں کے خاتمے اور تعاقب کے لیے ائمہ ودعاۃ اور معلمین کا مزید ٹرینڈ اور مدرب ہونا ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے کیا۔ موصوف گذشتہ شام اہل حدیث کمپلیکس اوکھلا، نئی دہلی میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام آٹھ روزہ گیارہواں آل انڈیا ریفریشر کورس برائے ائمہ دعاۃ و معلمین کے اختتامی اجلاس میں صدارتی خطاب فرما رہے تھے۔
انہوں نے اپنے خطاب میں موقر اراکین مجلس عاملہ، ذمہ داران صوبائی جمعیات اہل حدیث، ملی وسماجی قائدین نیز شرکاء دورہ تدریبیہ کواس میں شرکت پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کے شکریہ کے ساتھ ساتھ ان تمام جہات اور اداروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس ریفریشر کورس میں شرکت کے لیے اپنے یہاں سے ائمہ ، دعاۃ اور معلمین ارسال کئے نیز انہوں نے دعوت واصلاح اور تعلیم وتربیت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایاکہ یہ انبیاء کرام کا اسوہ ہے اور انعمت علیھمکا جو اعزاز انہیں حاصل ہواہے وہ اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے انسانیت اور خلق الہٰی کی فوز وفلاح، خیر خواہی اور ان کے امن وسکون کی راہ میں تمام تر مشکلات ومصائب برداشت کرنے کے بعداس کا صلہ اللہ سے ملنے کا سرعام اعلان کیا۔ لہٰذا معاشرہ وملک اور اللہ کی زمین سے فساد و بگاڑ اور ظلم ودہشت گردی کو مٹانے اور امن وآشتی اور اصلاح و سدھار کی راہ میںپیش آنے والے مصائب ومشکلات سے گھبرانے کی بجائے ہمت واستقلال کا مظاہر ہ کرتے ہوئے اللہ جل شانہ سے اس پر انعام کا ایمان ویقین ہونا چاہیے۔یہ کام بہت ہی عظیم الشان ، ضروری اور وقت کا تقاضہ ہے اسی لیے مرکزی جمعیت نے اس کا بیڑااٹھایاہے اور بڑی ہی پابندی کے ساتھ اس کا ہر سال انعقاد کرتی ہے۔

دہلی، ۱۹نومبر۲۰۱۷ء بروز ہفتہ
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی پریس ریلیز کے مطابق آج اہل حدیث کمپلیکس،اوکھلا،نئی دہلی میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کی ایک اہم میٹنگ امیرجمعیت محترم مولانااصغرعلی امام مہدی سلفی حفظہ اللہ کی صدارت میں منعقد ہوئی جس میں ملک کے بیشتر صوبوں سے آئے اراکین اور صوبائی ذمہ داران نے شرکت کی۔امیرمحترم نے اپنے خطاب میں تعلیم وتزکیہ ،تقوی للہیت ،اتحاد واتفاق ،خیرسگالی، قومی یکجہتی ،فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور انسان دوستی پرزور دیا اورکہا کہ اتحاد ویکجہتی کے ساتھ ہی داعش ودہشت گردی کا تعاقب ہے ۔اس اجلاس میں ناظم عمومی مولانامحمد ہارون سنابلی نے کار کردگی رپورٹ پیش کی جس کی توثیق کی گئی اورناظم مالیات الحاج وکیل پرویز نے حسابات پیش کیے جس پر ہائوس نے اطمینان وخوشی کا اظہار کیا۔ میٹنگ میںجمعیت کے کاموں کا بھی جائزہ لیا گیااور آئندہ دعوتی،تعلیمی، تنظیمی ،تعمیراتی اوررفاہی منصوبوں اورانسانی خدمات کومہمیزدینے کے لئے غور کیا گیا۔مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام چونتیسویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس کی تیاریاں زوروں پر کرنے کی تلقین کی گئی۔ نیز طے پایا کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے سلسلہ پروگرام ’’قوم وملت داعش ودہشت گردی کے تعاقب میں ‘‘کومزید توانائی کے ساتھ جاری رکھا جائے۔ علاوہ ازیں جمعیت کے مالی استحکام بالخصوص اہل حدیث کمپلیکس میں زیر تعمیر کثیرالمقاصدعمارت کے لئے ملکی سطح پر اہل خیر حضرات کا زیادہ سے زیادہ تعاون حاصل کرنے کی اپیل کی گئی ہے اورمرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیراہتمام ۱۲نومبر۲۰۱۷ء سے جاری آل انڈیا ریفریشرکورس برائے ائمہ دعاۃ ومعلمین کے انعقاد کی تحسین کرتے ہوئے ذمہ داروں کومبارکبادپیش کیا گیا اور اسے وقت کی ضرورت قرار دیاگیا۔ ملک وملت اور عالمی مسائل سے متعلق قرار داد وتجاویز منظور کی گئیں۔
مجلس عاملہ کی قرارداد میں میانمارمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اورروہنگیائی مسلمانوں کی نسل کشی کی سخت مذمت کی گئی ہی،سیاسی پارٹیوں سے عوامی مسائل پرانتخاب لڑنے کی اپیل اور مذہبی امور کو بنیاد بناکر الیکشن لڑنے سے گریز کرنے کی بھی اپیل کی گئی ہے ۔ مجلس عاملہ کی قرار داد میں کہا گیا کہ ملک مخالف سرگرمیوں سے مسلم نوجوانوںکا کوئی تعلق نہیں ہے اورحکومت سے مطالبہ کیا گیاہے کہ عدالت نے جن نوجوانوں کو باعزت بری کردیا ہے ان کو بھرپور معاوضہ دیا جائے۔ علاوہ ازیں مسلم تنظیموں اورملی اداروں کے سربراہوں سے ایک دوسرے پر الزام اورجوابی الزام سے احتراز کرنے کی اپیل کی اور داعش کی دہشت گردانہ کار وائیوں اور دہشت گردی کی مذمت کی گئی ہے۔ قرارداد میں ملک میں امن وامان کی بگڑتی صورت حال اوراجتماعی بھیڑکے ذریعہ قتل کے رجحان پر اظہار تشویش کیا گیا ۔ اسی طرح موقر ہائوس نے ذمہ داران جمعیت کے خلاف غلط پروپیگنڈہ کرنے والوں کی سخت مذمت کے ساتھ ساتھ انہیں تنبیہ کی گئی۔
مجلس عاملہ نے بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرنے کی ضرورت پرزوردیتے ہوئے کہا کہ اس سے عدالتی نظام پر عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہوگا اوربابری مسجد ملکیت معاملہ میںسپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کرنا چاہئے اور کہا گیا کہ اس مسئلہ میں ہر آدمی کو اپنی اپنی رائے دینے کے بجائے فریقین ہی اس سلسلہ میں بات کرنے کے مجاز و مختار ہیں، چونکہ بابری مسجد کی ملکیت کا معاملہ عدالت میں ہے اور ۵دسمبر سے مسلسل سنوائی ہونے جارہی ہے اس سلسلہ میں ہماری رائے مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ساتھ ہے۔ قراداد میں بہار، یوپی، بنگال، آسام اورملک کے دیگر حصوں میں سیلاب متاثرین کی مدداور بازآبادکاری کی اپیل اورمرنے والوںکے اہل خانہ سے اظہارتعزیت کیا گیاہے ۔ عاملہ کی قرارداد میں حوثی باغیوں کی طرف سے ریاض ایئرپورٹ پر میزائل حملہ کی مذمت کی گئی ہے۔
قراردادمیں بہار میں جہیز پر پابندی کی ستائش کی گئی ہے اور ملی اورجماعتی اعیان کے انتقال پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیاگیاہے

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام
گیارہواں آل انڈیا ریفریشر کورس برائے ائمہ ودعاۃ و معلمین کا شاندار افتتاح
علماء و عمائدین کا اظہار خیال اور مرکزی جمعیت کو مبارکباد
دہلی: ۱۳نومبر ۲۰۱۷ء
تربیت وتزکیہ اور اصلاح و رہنمائی سب سے بہتر کام ہے اور اس بہترین کام کے لیے ملک وسماج کے بہترین لوگ علماء و ائمہ اور معلمین کو اللہ تعالیٰ نے منتخب فرمایا ہے اور انہیں ملک وسماج کا خلاصہ اور عطر قرار دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے کیا۔ موصوف کل شام اہل حدیث کمپلیکس اوکھلا، نئی دہلی میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام گیارہواں آل انڈیا ریفریشر کورس برائے ائمہ ، دعاۃ و معلمین کے افتتاحی اجلاس میں صدارتی خطاب فرمارہے تھے۔
امیر محترم نے فرمایا کہ تربیت و ٹریننگ اور تزکیہ و محاسبہ صحابہ کرام کا شیوہ تھا یہی وجہ ہے کہ وہ سماج وانسانیت کی صلاح وفلاح اور تربیت و رہنمائی کے میدانوں میں تاریخی کامیابیوں سے ہمکنار ہوئے اور وقت کے بڑے سے بڑے فتنے پر قابو پایا اور امن وامان کو قائم رکھا ۔ آج ملک وملت اور انسانیت کو جو سب سے بڑا فتنہ درپیش ہے وہ ہے دہشت گردی کا فتنہ۔ اس کا صحیح معنوں میں قرآن وحدیث پر مبنی تزکیہ و تربیت اور اصلاح و یکجہتی کے ذریعہ ہی سد باب اور تعاقب کیا جاسکتا ہے۔
امیر محترم نے مزید فرمایا کہ علماء وائمہ کرام ملک وملت اور انسانیت کے سچے بہی خواہ ہیں اور سب سے بڑی بہی خواہی آج کے دور میں یہ ہے کہ مُنکَر اعظم داعش و دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے ، اس کے لیے حکمت عملی، بصیرت اور اخلاص و للہیت ، اتحاد و یکجہتی اور احترام انسانیت کے جذبات کی اشد ضرورت ہے۔
افتتاحی خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد ہارون سنابلی ناظم عمومی مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے کہا کہ فرد و معاشرے کی اصلاح کا کام انبیائی مشن اور تکالیف سے عبارت ہے اور اس کے لیے جہد مسلسل ضروری ہے۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند پندرہ سالوں سے علماء و دعاۃ و معلمین کے لیے بہت سے اہم کاموں کے شانہ بشانہ ریفریشر کورس کا انعقاد اس لیے کرتی ہے کہ وہ یہاں سے تازہ دم ہوکر جائیں اور علی وجہ البصیرہ اصلاح معاشرہ کا فریضہ انجام دیں۔
مولانا جمیل احمد مدنی مفتی مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند نے کہا کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند قابل مبارک باد ہے کہ وہ دیگر دینی واصلاحی سرگرمیوں کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ مسلسل پندرہ سالوں سے ائمہ ، دعاۃ و معلمین کے لیے دورہ تدریبیہ کا انعقاد کررہی ہے تاکہ علماء ومعلمین کی عملی زندگی میں زیادہ سے زیادہ تحسن آئے اور وہ ملک وسماج کے لیے مفید سے مفید تر بن سکیں۔
ریفریشر کورش کے کنوینر ڈاکٹر محمد شیث ادریس تیمی نے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیراہتمام گیارہواں آل انڈیا ریفریشر کورس میں ملک کے تقریبا ہر صوبے سے آئے ہوئے علماء ودعاۃ و معلمین کا استقبال کیا اور اس کی اہمیت و ضرورت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند اولیتوں والی جماعت ہے۔ جو سب سے پہلے ملک وملت اور انسانیت کو درپیش مسائل و چیلنجز کا ادراک اور ان کا تدارک کرتی ہے۔ اس نے ائمہ ودعاۃ و معلمین کی ٹریننگ اور تربیت کی اہمیت و ضرورت کو سب سے پہلے محسوس کیا اور جس طرح دہشت گردی اور فی زمانہ داعش کے فتنوں کو محسوس کرتے ہوئے اس کے خلاف شش جہات مہم شروع کی ۔ اسی طرح پندرہ سال قبل علماء و دعاۃ اور معلمین جو ملک و سماج کے رہبر و رہنما ہیں کی تربیت و ٹریننگ کا بندوبست کیا جوکہ پوری شان و شوکت کے ساتھ آج بھی جاری ہے۔ اوریہ گیارہواں آل انڈیا ریفریشر کورس اسی سلسلہ کی ایک اہم کڑی ہے اور اس کے لیے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی ، ناظم عمومی ودیگر ذمہ داران ہمارے شکریے کے مستحق ہیں۔
مولانا محمد عرفان شاکر ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث دہلی نے اپنے خطاب میں گیارہواں آل انڈیا ریفریشر کورس کے انعقاد پر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی ودیگر ذمہ داران کو مبارک باد پیش کی اور کہا کہ ملک ومعاشرہ پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہورہے ہیں۔
مولانا محمد عمیر مدنی استاذ جامعہ ریاض العلوم دہلی نے کہا کہ آل انڈیا ریفریشر کورس برائے ائمہ ودعاۃ و معلمین کا پندرہ سالوں سے انعقاد مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی و دیگر ذمہ داران کا قابل قدر کارنامہ ہے اس کے لیے میں انہیں دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
مولانا محمد اظہر مدنی مدیر جامعہ ابوبکر الصدیق الاسلامیہ وڈائرکٹر اقراء انٹر نیشنل گرلس اسکول نے کہا کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے ائمہ و معلمین کی ٹریننگ کے لیے جو سنہرا موقع فراہم کیا ہے اس کی مثالیں احادیث نبوی اوراسوہ صحابہ میں ملتی ہیں۔ اس موقع پر صوبائی جمعیت اہل حدیث دہلی کے امیر مولانا عبدالستارسلفی اورنائب امیر الحاج قمرالدین نے بھی مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ذمہ داران خصوصاامیرمحترم مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی کوریفریشرکورس کے انعقاد پر مبارکباد دی اوران کا شکریہ ادا کیا اوراسے وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔
واضح رہے کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام یہ ریفریشر کورس جس کا آغاز گذشتہ کل مورخہ ۱۲نومبر ۲۰۱۷ء کو ہوا، ۱۹ نومبر تک جاری رہے گا۔ جس میں،اکابر علماء کرام اور مختلف موضوعات کے ماہرین کے محاضرے ہوں گے۔ اخوت انسانی کے تقاضے قرآن کی روشنی میں، انسانی حقوق اور آپسی تعلقات قرآن کی روشنی میں قومی یکجہتی کی مضبوط بنیادیں قرآن وسنت کی روشنی میں، قرآن و حدیث کی روشنی میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی اہمیت، مخلوقات الہی (نباتات و جمادات اور حیوانات) کے حقوق قرآن وسنت کی روشنی میں ، دہشت گردی و تشدد کا خاتمہ کیسے ممکن ہی؟ جیسے اہم موضوعات پر بھی مذاکرے اور ورکشاپ ہوں گے۔
اس سلسلہ کا پہلا اور دوسرا محاضرہ جامعۃ الامام محمد بن سعود ریاض کے سابق پروفیسر ڈاکٹر عبدالرحمن فریوائی نے دیا ۔ عناوین تھے۔ ثوابت و متغیرات دین اصول وضابطے اور علم العقائد والکلام اور منہج سلف، اور تیسرا محاضرہ مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکا ہوا عنوان تھا۔ غلو و تشددـاسباب، مضرات اور علاج ۔ جس میں آپ نے فرمایا کہ آج سماجی نا برابری اور بگاڑ و فساد اور بے اعتمادی و بے اعتدالی ، ظلم وزیادتی اور دہشت گردی کی سب سے بڑی وجہ عقیدہ وفکر اور رویہ وسلوک میں غلو ہے۔ غلو سے پرہیز اور حذر لازمی ہے

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام
گیارہواں آل انڈیا ریفریشر کورس برائے ائمہ ودعاۃ و معلمین کا شاندار افتتاح
علماء و عمائدین کا اظہار خیال اور مرکزی جمعیت کو مبارکباد
دہلی: ۱۳نومبر ۲۰۱۷ء
تربیت وتزکیہ اور اصلاح و رہنمائی سب سے بہتر کام ہے اور اس بہترین کام کے لیے ملک وسماج کے بہترین لوگ علماء و ائمہ اور معلمین کو اللہ تعالیٰ نے منتخب فرمایا ہے اور انہیں ملک وسماج کا خلاصہ اور عطر قرار دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے کیا۔ موصوف کل شام اہل حدیث کمپلیکس اوکھلا، نئی دہلی میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام گیارہواں آل انڈیا ریفریشر کورس برائے ائمہ ، دعاۃ و معلمین کے افتتاحی اجلاس میں صدارتی خطاب فرمارہے تھے۔

Page 1 of 17

The Collective Fatwa against Daish and those of its ilk

ہمارے رسائل وجرائد

http://ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/al-isteqamah2gk-is-214.jpglink
http://ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/islahe-samaj2gk-is-214.jpglink
http://ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/jareeda-tarjumah2gk-is-214.jpglink
http://ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/the-symple-truth2gk-is-214.jpglink
«
»
Loading…