معروف عالم دین مولانا عبدالعلیم ماہرؔکے سانحہئ ارتحال پر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کا تعزیتی پیغام

دہلی،۹۲/جنوری۔مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے اپنی ایک پریس ریلیز میں معروف عالم دین،مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکے سابق نائب ناظم اورپندرہ روزہ ترجمان کے نائب مدیر،مولاناعبدالعلیم ماہر کے سانحہئ ارتحال پر اپنے شدیدرنج وغم کا اظہار فرمایاہے اور ان کی موت کو ملک وملت، جماعت اورعلمی دنیا کا عظیم خسارہ قرار دیاہے۔مولانا کافی عرصہ سے علیل تھے اور ممبائی میں زیر علاج تھے بالآخرآج ساڑھے گیارہ بجے صبح بعمر۲۷ سال اس دار فانی سے رحلت فرماگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
ناظم عمومی نے کہاکہ مولانا ۲۲/جنوری ۴۴۹۱ء کو موجودہ ضلع سدھارتھ نگرکی مردم خیز بستی سمرا میں پیداہوئے۔ مکتب کی تعلیم مدرسہ اسلامیہ کمہریامیں اورعربی تعلیم جامعہ سراج العلوم بوندیہاراورجامعہ سراج العلوم جھنڈانگر میں حاصل کی پھرمظاہر العلوم سہارنپور میں کسب فیض کیا اور دارالعلوم دیوبندسے سند فراغت حاصل کی۔حصول تعلیم کے بعد دارالعلوم یوسفیہ ناگپور،جامعہ سراج العلوم جھنڈانگر، مدرسہ شمس العلوم سمرا، مدرسہ دارالتوحید میناعیدگاہ،جامعہ سراج العلوم بونڈیہار،مدرسہ دارالعلوم محمدیہ سورت، جامعہ خیرالعلوم ڈمریاگنج اورجامعہ ریاض العلوم دہلی وغیرہ میں طویل عرصہ تقریبا پینتالیس سال تک تدریسی خدمات انجام دیں۔آپ کی تدریسی خدمات کے علاوہ دعوتی خدمات بھی برابر جاری رہیں خطبات جمعہ نیز دینی ودعوتی اجتماعات میں برابر اپنی تقاریر سے خلق اللہ کو مستفیض فرماتے رہے۔مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندسے ایک عرصہ وابستگی رہی اور جمعیت کے ناظم اعلیٰ مولاناعبدالحمید رحمانی ومولانا عبدالسلام رحمانی کے دور نظامت میں نائب ناظم کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اورملک کے مختلف صوبوں کے تنظیمی ودعوتی دورے کئے۔آپ کی صحافتی خدمات بھی قابل قدر ہیں مرکزی جمعیت کے آرگن پندرہ روزہ ترجمان کے نائب مدیر رہے اور مختلف کالم تحریر فرماتے رہے علاوہ ازیں مقالات ومضامیں کی تحریر کا سلسلہ بھی جاری رہا۔آپ ایک اچھے شاعر بھی تھے اور کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں جن میں تذکرۃ المشاہیر،گلہائے رنگ رنگ،نغمات اسلام(منظوم)قابل ذکر ہیں۔
ناظم عمومی نے کہاکہ مولاناماہر صاحب ایک تجربہ کار مدرس، شعلہ بیاں خطیب اور حق گو وبے باک داعی تھے۔منقولات کے علاوہ معقولات پر اچھاعبور تھا اورحدیث وتفسیراوردینی مسائل پر بھی گہری نظر تھی۔ان کی وفات نہ صرف ان کے اہل خانہ بلکہ پوری جماعت وملت کا زبردست خسارہ ہے جس کی تلافی بظاہر مشکل نظر آتی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندنے مولانا کی ہمہ جہت علمی ودعوتی خدمات کے اعتراف میں ان کوتیسویں آل انڈیا اہل حدیث تاریخی کانفرنس بمقام دہلی کے موقعہ پر ایوارڈ سے نوازاتھا۔
پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ ایک لڑکا اور متعددلڑکیاں ہیں۔تدفین بعد نماز عشاء ممبائی ہی میں عمل میں آئیگی۔
پریس ریلیز کے مطابق مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر حافظ محمدیحيٰ دہلوی، نائب امیرحافظ عبدالقیوم،ڈاکٹرسید عبدالعزیز سلفی، شیخ حافظ عین الباری عالیاوی، ناظم مالیات الحاج وکیل پرویز،نائب ناظم مولانا ریاض احمد سلفی ودیگر ذمہ داران واراکین عاملہ وشوریٰ وکارکنان نے بھی مولانا کے پسماندگان سے قلبی تعزیت کی ہے اور دعاگوہیں کہ بار الٰہ ان کی لغزشوں سے درگذرفرما،حسنات کو شرف قبولیت بخش اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرما۔آمین

The Collective Fatwa against Daish and those of its ilk