شہزادہ محمد بن نایف کو ولی عہد اور شہزادہ محمد بن سلمان کو نائب ولی عہد بنائے جانے پر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کی دلی مبارکباد

دہلی ۴/مئی۵۱۰۲ء

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے اخبار کے نام جاری ایک بیان میںمملکت سعودی عرب کے فرماں روا خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے ایک غیر معمولی شاہی فرمان کے ذریعہ وزیر داخلہ شہزادہ محمد بن نایف بن عبدالعزیز آل سعود کو ولی عہد اور شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کو نائب ولی عہد اور وزیر دفاع مقرر کیے جانے پر خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، ولی عہد شہزادہ محمد بن نایف بن عبدالعزیز آل سعود، نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود معزز شاہی خاندان، علمائے کرام اور سعودی عوام کو دلی مبارکباد پیش کی ہے اور خادم حرمین شریفین کے اس انتخاب کو موفق، درست اور بروقت قرار دیا ہے۔ جو اہل شوریٰ اصحاب حل و عقد اور علماءکے مشورہ سے طے پاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس انتخاب کو ہرطرح بابرکت بنائے ۔ آمین

ناظم عمومی نے کہا کہ نئے ولی عہد شہزادہ محمد بن نایف بن عبدالعزیز آل سعود سابق جلیل القدر وزیر داخلہ مملکت سعودی عرب شہزادہ نایف بن عبدالعزیز کے خلف الرشید ہیں۔ جو کہ اپنی زیر کی ودانائی، ایمانی غیرت، دینی بصیرت، تقویٰ وللہیت اور جرا


¿ت و پامردی، قوت ارادی اور بروقت اقدام کے لیے مشہور تھے۔ شہزادہ محمد بن نا یف کو امور مملکت سے مکمل واقفیت اور رمز شناسی اپنے والد سے ورثہ میں ملی ہے وہ خود امن وآشتی پر یقین رکھتے ہیں اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں امن و سلامتی کو فروغ دینے میں اپنی مثال آپ ہیں۔ دہشت گردی کو طاقت وقوت اور ہمت سے ہی ختم کرنے کی مہارت نہیں رکھتے بلکہ انتہائی ہمدردی اور نصح وخیر خواہی کے جذبے سے اس ناسور کو ختم کرنے کا طریقہ جانتے ہیں جس سے شاطر لوگ بھی راہ ہدایت پر آکر ملک وملت کے لیے مفید اور امن وآشتی کے علمبردار بن جاتے ہیں ۔ یوں تو آپ کے کارنامے بہت اور بے مثال ہیں مگر ” مرکز محمد بن نایف برائے نصح و خیر خواہی اور نگہداشت “اس نے دہشت گردی میں ملوث سخت دلوں کو بھی موم کردیا۔ اب وہ کتاب وسنت کی روشنی میں انسداد دہشت گردی کے لیے کام کرنے لگے ہیں۔ اسی طرح جواں رعنا شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز جوکہ خادم حرمین شریفین سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے صاحبزادے ہیں بھی نہایت جری ، بے باک اور بڑی خوبیوں کے حامل ہیں اور بجا طور پر اس نئی نسل سے لوگوں کی بہت سی امیدیں وابستہ ہیں ، اس بہترین انتخاب و اختیار و تعین پر پوری قوم شاداں و فرحاں ہے اور ان پر بھر پور اعتماد کے اظہار کے ساتھ دعا گو ہے۔ توقع ہے کہ ان کی قیادت میں مملکت سعودی عرب مزید دن دونی رات چوگنی ترقی سے ہمکنار ہوگی، داخلی وخارجی فتنوں کا خاتمہ ہوگا اور خطے میں کاروا ن امن وشانتی کو مزید توانائی حاصل ہوگی اور دینی وانسانی کاز کو فروغ ملے گا اور یہ اسلامی انسانی علمی و رفاہی مملکت سدادین وانسانیت کی خدمت انجام دیتی رہے جس طرح اس نے اب تک ہمہ جہت عظیم الشان کار ہائے نمایاں انجام دینے کی سعادت حاصل کی ہے اور زیادہ توفیق نصیب ہوتی رہے۔

ایں دعا از من و از

جملہ جہاں آمین آباد

 

The Collective Fatwa against Daish and those of its ilk