Press Release

Children categories

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کا راحتی وفد زلزلہ متاثرین کی راحت رسانی کے لیے روانہ

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کا راحتی وفد زلزلہ متاثرین کی راحت رسانی کے لیے روانہ (80)

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے اخبار کے نام جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ وطن عزیز اور پڑوسی ملک نیپال میں آئے تباہ کن زلزلے سے متاثرین کی راحت رسانی کے لیے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کا ایک راحتی وفد آج متاثرہ مقامات کے لیے روانہ ہوا۔ جووہاں پہنچ کر متاثرین کے مابین ریلیف و راحتی اشیاءتقسیم کرے گا اور وہاں کی صحیح صورت حال کا جائزہ لے کر مرکز کو آگاہ کر ے گا تاکہ متاثرین کی باز آباد کاری کے لیے مرکز سے ہر ممکن تعاون ارسال کیا جاسکے۔

پریس ریلیز کے مطابق مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے اس راحتی وفد کی سربراہی مولانا محمد علی مدنی ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث بہار کررہے ہیں اور اس وفد میں مولانا محمد ہاشم سلفی اور مولانا کلیم اللہ انصاری سلفی وغیرہ شریک ہیں۔

ناظم عمومی نے اپنے بیان میں عوام وخواص سے اپیل کی ہے کہ مصیبت کی اس گھڑی میں وطن عزیز اور پڑوسی ملک کے زلزلہ متاثرین کی راحت رسانی اور باز آباد کاری کے لیے اپنا بھر پور تعاون پیش کریں۔

واضح ہو کہ مورخہ ۵۲/ اپریل کو پڑوسی ملک نیپال میں ایک بڑا زلزلہ آیا تھا جس سے بہا ، یوپی اور مغربی بنگال وغیرہ صوبوں کے متعدد علاقے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ مذکورہ وفد ان تمام علاقوں کا دورہ کرے گا۔

جاری کردہ

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند

View items...

 

  دہلی : ۳۲دسمبر ۱۱۰۲ء مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر جناب حافظ محمد یحییٰ دہلوی اور ناظم عمومی مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے اخبار کے نام جاری ایک مشترکہ بیان میں جامعہ سلفیہ بنارس کے صدر، گرلس کالج دمام کے سابق اسسٹنٹ پروفیسر ، جنتا ہاسپٹل بنارس کے صدر اور متعدد تعلیمی ورفاہی اداروں کے رکن رکین معروف عالم دین اور ماہر حدیث ڈاکٹر جاوید اعظم کے انتقال پرگہرے رنج وافسوس کا اظہار کیا ہے اور ان کی موت کو ملک وملت ،جماعت اور انسانیت کے لیے عظیم خسارہ قرار دیا ہی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر جاوید اعظم کو اللہ تعالیٰ نے بڑی خوبیوں اور صلاحیتوں سے نوازا تھا۔وہ ایک صاحب فکر ، صائب الرائی،نستعلیق طبع، خوش اخلاق، ملنسار، انتہائی سنجیدہ ، علم دوست اور مرنجا مرنج شخصیت کے مالک تھے ۔انہوںنے جامعہ سلفیہ بنارس سے فراغت کے بعد جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں داخلہ لیا، جامعہ ام القریٰ مکہ مکرمہ سے علم حدیث میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور ایک مدت تک دمام میں علم ونور کی شمعیں روشن کئے رہی۔ دعوت واصلاح کا جذبہ فروا ں تھا۔ تعلیم کے فروغ کے لیے صرف یہی نہیں کہ خود کوشاں رہتے تھے بلکہ اس کاز سے جڑے ہوئے لوگوں کی بھی ہمت افزائی فرماتے تھی۔ ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری رحمہ اللہ کے بعد جامعہ سلفیہ بنارس کے صدر بنائے گئی۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند اوراس کے ذمہ داران سے بڑی محبت رکھتے تھے اور اس کی سرگرمیوں اور پروگراموں کو دل وجان سے سراہتے اور ان کی تائیدفرماتے تھے ۔ جمعیت کی کانفرنسوں میں بھی بھر پور نمائندگی فرماتے تھی۔ آج صبح ان کا انتقال ہوگیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون پسماندگان میں اہلیہ ،ایک بیٹا عبدالمحسن اور چھہ بیٹیاں ہیں۔ عبدالمحسن سلمہ جامعہ سلفیہ بنارس اور جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے ہونہا ر فارغ التحصیل ہیں اور دمام میں مقیم ہیں۔ جناب حافظ محمد یحییٰ دہلوی اور مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے اپنے تعزیتی بیان میں ڈاکٹر صاحب کے تمام پسماندگان ، اہل خاندان اور ذمہ داران ، اساتذہ ،طلبہ ومتعلقین جامعہ سلفیہ بنارس سے قلبی تعزیت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ہے کہ بار الہ ان کی مغفرت فرما،ان کی خدمات کو قبول فرما، ان کی لغزشوں سے درگزر فرما، ان کے درجات بلند فرما اور پسماندگان کو صبر جمیل توفیق ارزانی کر۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے نائب امیر جناب ڈاکٹر عبدالحلیم ، ناظم مالیات جناب ازہر وزیری و دیگر ذمہ داران وکارکنان بھی ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور مرحوم کی مغفرت کے لیے دعا گو ہیں۔ پریس ریلیز کے مطابق مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی ڈاکٹر صاحب کے جنازے میں شرکت کے لیے بنارس تشریف لے گئے ہیں

A Three day training programe of Madani Ulama and Islamic Workers from India and Nepal, under the supervision of Markazi Jamiat Ahle Hadeeth Hind, took place in Delhi on 18-20 October, 2011.

The Theme of the Training Programme was "Training Guide for Islamic Workers." The aim was to enrich the participants of skills and tools of dawat as well as to set in motion an action plan for the future.

Almost 100 participants of Madani Graduates and Ulama attended the programme. Inaugurating the training programme, Maulana Asghar Imam Mahadi Salafi, General Secretary, Markazi Jamiat Alhe Hadeeth Hind Said:

" Once we say that we belong to the Islamic Community, the Holy Quran will become for us the most sacred book, Prophet Muhammad (S.A.W.) the noblest person, Tawheed the unique belief, the Kaaba the most sacred shrine, and Islam the most sacred religion".

Thursday, 19 January 2012 09:59

پریس ریلیز

 

دکن کی معروف شخصیت مولانا شریف غالب بن شریف محمداشرف یمانی کی وفات پر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کا اظہار تعزیت
دہلی:۵دسمبر ۱۱۰۲ء :شریف غالب یمانی رحمہ اللہ کا تعلق قبیلہ بنی شریف سے تھا ،ان کے خاندان کے افراد ۰۰۲۱ ھ میں یمن سے حیدرآباد آئے ۔ شریف صاحب بڑے صلاحیت مند، خطیب اور دینی وملی خادم تھی۔ علماء کرام سے اکتساب فیض کے بعد مسجد ابو ہریرہ کتہ پیٹ بارکس،مسجد الانبیاء کتہ پیٹ، مسجد توحیدبارکس، مسجد خالد بن ولید شاہین نگر وغیرہ کے خطیب رہی۔ جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین تھی۔بلکہ ان کے بارے میں یہ کہاجائے توبے جانہ ہوگاکہ وہ اپنے آپ میں ایک انجمن تھی۔ ان خیالات کا اظہار مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے اپنے اخباری بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ شریف غالب صاحب بڑے ہی متدین، حلیم الطبع اور اوصاف حسنہ سے متصف تھی۔ وہ میدان دعوت وخطابت کے شہسوار تھی۔ اپنی شیریں بیانی اور خطابت کی سحرآفرینی کے ذریعہ بہت سارے لوگوں کو مشرکانہ رسوم سے توبہ کرائی اور ان کو شاہراہ توحید پر لگایا، بے شمار جھگڑوں کا تصفیہ کرایا، ہمیشہ قرآن وحدیث کی روشنی میں مسائل حل کیے اور غیر مسلمین کو دائرہ اسلام میں داخل کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ جید عالم دین، توحید وسنت کے علمبردار، بے لوث داعی دین تھی۔ بہت ساری خوبیاں ان میںموجود تھیں۔ زبردست قوت حافظہ کے مالک تھی۔ عربی زبان پر اچھی دسترس رکھتے تھی۔ خطبات جمعہ کے ساتھ عیدین کا بھی خطبہ دیتے تھی۔ آپ کے علم سے طلباء وعلماء کی ایک بڑی جماعت نے استفادہ کیا۔ اپنی زندگی میں کئی تعلیمی ادارے کھولی۔ جامعہ المفلحات الاثریہ اور مرکز الایتام کے سرپرست رہی۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے ان کی نمایاں دعوتی، تعلیمی اور رفاہی خدمات پر ایوارڈ سے نوازاتھا۔
مولانا نے ان کی وفات پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائی، ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کری، ا ن کی علمی ،دینی ، دعوتی اوررفاہی خدمات کوشرف قبولیت بخشے اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق دے

شہزادہ نایف بن عبدالعزیز آل سعود کومملکت سعودی عرب کا ولی عہدمقررکئے جانے پر
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیرحافظ محمدیحییٰ دہلوی اور ناظم عمومی مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی کی مبارکباد
دہلی:۱۳ نومبر ۱۱۰۲ء مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیرحافظ محمد یحییٰ دہلوی اور ناظم عمومی مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے اخبار کے نام جاری ایک بیان میںخادم حرمین شریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود کے شاہی فرمان کی بیعت کونسل کی توثیق کے بعد شہزادہ نایف بن عبدالعزیز آل سعود کو مملکت سعودی عرب کا نیا ولی عہد مقرر کیے جانے پر شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود ، شہزادہ نایف بن عبدالعزیز آل سعود اور دیگر اعیان مملکت و سعودی عوام کو دلی مبارک باد پیش کی ہے اور کہا ہے کہ شہزادہ نایف بن عبدالعزیز کے ولی عہد بنائے جانے سے خطے میں استحکام واستقرار اور امن وامان کی صورت حال میں مزید اضافہ ہوگا،ان کی اعلیٰ ملکی وانتظامی صلاحیت اور طویل سیاسی تجربات سے ملک مزید ترقی سے ہمکنار ہوگا اور دینی،ملکی وانسانی کاز کو تقویت ملے گی۔
مولانا نے کہا کہ شہزادہ نایف بن عبدالعزیز ایک مضبوط وبااثر شخصیت کے مالک ہیں ۔ انہوں نے بڑی کامیابی ومستعدی کے ساتھ ملک کے اند ر وباہر دہشت گردی کے قلع قمع کرنے کے حوالے سے صرف جزیرۃ العرب سے ہی نہیں بلکہ ساری دنیا سے خراج تحسین حاصل کیا ہی۔ کیوں کہ دہشت گردی کے خلاف مسلسل کامیاب کوششوں کی وجہ سے ان کی شخصیت اور امن واستقرار ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم ہوگئے ہیں۔ مملکت سعود ی عرب میں امن امان کا تذکرہ کرتے ہی شہزادہ نایف کا تصور ابھر کر سامنے آجاتاہے ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا اعتراف سبھی نے کیا ہی۔ 
ناظم عمومی نے کہا کہ شہزاد ہ نایف بن عبدالعزیز جن کی پیدائش طائف کے اندر ۳۳۹۱ء میں ہوئی تھی اور جن کا نمبر شاہ عبدالعزیز کے بیٹوں میں۳۲واں ہے تقریبا ۹۵ سالوں سے سیاسی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ اس دوران وہ حکومت کے مختلف اہم عہدوں پر فائز رہی۔۲۵۹۱ء میں ریاض کے اندرسکریٹری بنی، ۳۵۹۱ء میں ریاض کے گورنر بنی، شاہ فیصل بن عبدالعزیز آل سعود نے ۰۷۹۱ میں انہیں نائب وزیر داخلہ مقرر کیا ، پھر۵۷۹۱ء میں وزیر داخلہ بنائے گئے ،جب کہ مارچ ۹۰۰۲ء میںشہزادہ سلطان بن عبدالعزیز کی علالت کے پیش نظران کو وزیر اعظم کانائب ثانی بھی مقرر کیاگیااوراب ۷۲اکتوبر۱۱۰۲ء کوشاہی فرمان کی بیعت کونسل کی توثیق کے بعد انہیں ولی عہداورنائب وزیراعظم مملکت سعودی عرب متعین کیاگیاہی۔
 علاوہ ازیں امیرنایف متعددعہدوں پر فائز ہیں: ریلیف اور راحت رسانی نیز انسانی خدمات کے جتنے بھی ادارے ہیں وہ ان سب کے نگران اعلیٰ ہیں۔عرب ممالک کے وزراء داخلہ کی کونسل کے اعزازی صدر،کنگ سعودیونیورسٹی ،ریاض کی سوسائٹی برائے سائنس وکمیونیکیشن کے اعزازی صدر،سعودی ایسوسی ایشن برائے میڈیا وکمیونیکیشن کے اعزازی صدر، سپریم حج کمیٹی کے صدر، قومی کمیٹی برائے انسداد منشیات کے چیئرمین ،سپریم کونسل برائے اطلاعات ونشریات کے صدر،اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی برائے تحفظ صنعت کے صدر،امیرنائف ایوارڈ برائے حدیث والدراسات الاسلامیہ کے عالمی اعلیٰ بورڈ کے صدر،سپریم کونسل برائے شہری تحفظ کے صدر،مین پاورکونسل کے چیئرمین، بورڈبرائے انسانی ترقی فنڈکے چیئرمین،اعلیٰ کمیٹی برائے نایف بن عبدالعزیزآل سعود ایوارڈ کے چیئرمین ،  اعلیٰ کمیشن برائے سیاحت کے چیرمین  ،سعودی کمیٹی برائے انتفاضہ القدس کے سپر وائزر جنرل اوراسلامی امورکی اعلیٰ کونسل کے رکن ہیں۔  اس کے علاوہ بھی وہ متعددعہدوںپرفائز ہیں۔موصوف خادم حرمین شریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز اور اپنے پیش رو شہزادہ سلطان بن عبد العزیز کی عدم موجودگی میں کابینہ کے اجلاس کی صدارت بھی کرچکے ہیں۔ جس سے ان کی حسن تدبیر ،قائدانہ بصیرت اور انتظامی صلاحیتوں کا اندازہ ہوتا ہی۔
ناظم عمومی نے کہا کہ شہزادہ نایف بن عبدالعزیز سعودی عوام اور انسانیت کے بڑے بہی خواہ اور ہمدرد ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مملکت سعودی عرب ہی نہیں بلکہ دنیا کے کسی بھی خطے میں آفت ناگہانی آتی ہے اور انسانیت اس سے متاثر ہوتی ہے تو ان کا دل تڑپ اٹھتا ہے اور وہ متاثرین کی امداد وخیر خواہی کے لیے آگے آتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اس اختیار وتعین کوہرطرح سب کے لیے باعث خیروبرکت بنائی۔
٭٭

بارہواں دوروزہ آل انڈیا مسابقہ حفظ وتجوید وتفسیر قرآن کریم
اورنواں دس روزہ آل انڈیا ریفریشر کورس برائے ائمہ ودعاۃ ومعلمین اختتام پذیر
اختتامی اجلاس میں شرکائے مسابقہ کو انعامات سے نوازا گیا اور مشارکین ریفریشر کورس کی کریم کی گئی
دہلی : ۰۱اکتوبر۱۱۰۲ء
قرآن کریم اللہ رب العالمین کا ناز ل کردہ ساری انسانیت کے لیے آخری پیغام ہی۔ اس میں ساری دنیاکی خیروصلاح اور فلاح وسعادت اور امن وشانتی کا راز مضمر ہی۔ قرآنی نسبت سے بڑھ کر اور کوئی نسبت نہیں ہوسکتی، رسول گرامی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن سیکھنے اور سکھانے والوں کومعاشرے کا سب سے بہتر انسان قرار دیاہی۔ قرآن کریم کا قاری دنیاوآخرت کی سعادتمندی وسرفرازی سے ہمکنار ہوتا ہی۔ ان خیالات کا اظہار مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی ناظم عمومی مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے کیا، موصوف گزشتہ شام اہل حدیث کمپلیکس اوکھلا ،نئی دہلی میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام بارہواں دوروزہ آل انڈیا مسابقہ حفظ وتجوید وتفسیر قرآن کریم اور نواں دس روزہ آل انڈیا ریفریشر کورس برائے ائمہ ودعاۃ ومعلمین کے مشترکہ اختتامی اجلاس میںافتتاحی خطاب کر رہے تھی۔
انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل مکہ کی ظلم وزیادتی اور غیر انسانی حرکتوں کے باوجود جب ان ظالموں سے بدلہ لینے کی پوزیشن میں آئے تو آپ نے ان مشرکین سے دب کر صلح کیا۔ مقصدصرف یہ تھا کہ انھیں اس مدت میں انسانیت کواس کا بھلا ہواسبق یاد دلانے اپنے مالک ومنعم حقیقی رب کریم سے ان کا رشہ از سر نو استوار کرانے ان کو مخلوق اور بندوں کے حقوق بتلا نے اورانسانیت نوازی کا حقیقی فریضہ انجام دینے کا موقع مل جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین سے دب کر صلح کی لیکن اسے قرآن کریم نے فتح مبین قرار دیا۔دعاۃ ومعلمین کو اس نکتہ کو ہمیں ہمیشہ نظر رکھناچاہئی، ملک وملت اور انسانیت کی خدمت اور رہنمائی کے لیے ہمیشہ تیار رہنا چاہئی۔ اور ان کی خدمت کاموقع کبھی بھی ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہئی۔
ناظم عمومی نے مزید کہا کہ دعاۃ ومعلمین انسانیت کے حقیقی محافظ ، رکھوالے اور خیر خواہ ہیں، برائیوں سے روکتے ہیں اور ملک وملت اور انسانیت کو شر وفساد سے بچاتے ہیں ۔ یہ معاشرہ کے سب سے بہتر لوگ ہیں اور ان کی باتیں سب سے بہتر باتیں ہیں۔ یہ انسانیت کو ظلم وعدوان اور ضلالت وگمراہی کی دلدل سے نکال کر ساحل سعادت وفلاح سے ہمکنار کرتے ہیں۔
صوبائی جمعیت اہل حدیث مغربی یوپی کے ناظم مولانا محمد ہارون سنابلی نے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی متنوع دینی، جماعتی، ملی ، ملکی وانسانی خدمات کو سراہتے ہوئے آل انڈیا مسابقہ حفظ وتجوید وتفسیر قرآن کریم اور آل انڈیا ریفریشر کورس کے انعقاد پر انہیں مبارک باد پیش کی اور کہاکہ اصلاح وتربیت کا کام قدم قدم بلائوں سے عبارت ہے اس لیے دعاۃ ومصلحین کو ان سے گھبرانا نہیں چاہئی۔ دنیا کے سب سے بڑی انسان حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اصلاح وتربیت کی راہ میں بڑی بڑی مشقتیں اور تکلیفیں برداشت کی تھیں۔
مولانا عبدالحق فلاحی نمائندہ جماعت اسلامی ہند نے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام تسلسل کے ساتھ ہرسال مسابقات حفظ وتجوید وتفسیر قرآن کریم اورریفریشر کورس برائے ائمہ ودعاۃ ومعلمین کے انعقاد کو مستحسن قدم قرار دیتے ہوئے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی موجودہ قیادت کو مبارک باد پیش کی ، قرآن کریم کے پیغام امن وسلامتی کو عام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اور کہا کہ قرآن کریم انسانی زندگی کا جزء لاینفک ہی۔ دیگر تنظیموں کو بھی قرآن کریم کے پیغام انسانیت کو عام کرنے کے لیے اس طرح کی کوششیں کرنی چاہئی۔
مولانا سید امیر علی حیدرآباد نے کہا کہ قرآن نور ہی۔ اس لیے اس نور کو ذریعہ معاش نہ بنایا جائی۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے مسابقہ حفظ وتجوید وتفسیر قرآن کو منعقد کر کے اس نور کو دنیا میں بکھیر نے کی کوشش کی ہی۔ اس لیے یہ ہماری مبارکباد اور شکریے کی مستحق ہی۔
اس اجلاس میں قاری عبدالمتین صاحب استاذ جامعہ محمدیہ منصورہ مالیگائوں ، مولانا عبدالاحد مدنی استاذ جامعہ ریاض العلوم دہلی، مولانا فضل الرحمن مدنی، مولانا محمد عرفان سلفی استاذ مدرسہ احمدیہ سلفیہ دربھنگہ ، مولانا عطاء الرحمن مدنی مفتی عام وصدر مجلس تحقیق علمی مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند اور مفتی جمیل احمد مدنی استاذ المعہد العالی للتخصص فی الدراسات الاسلامیہ نے بھی اس اپنے تاثرات پیش کئے اور مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی متنوع دینی، اجتماعی ، ملکی، ملی اور انسانی خدمات کی تحسین کی اور اس کے زیر اہتمام ہرسال تسلسل سے آل انڈیا مسابقہ حفظ وتجوید وتفسیر قرآن کریم اورآل انڈیا ریفریشر کور س ائمہ ودعاۃ ومعلمین کے انعقاد کو مستحسن قدم قرار دیتے ہوئے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی موجودہ قیادت کو مبارک باد پیش کی۔

Monday, 26 September 2011 18:07

All India Ahle Hadees Conference began

New Delhi, April 11 The second day of the two-day 30th All India Ahle Hadees Conference began here today at Ram Leela Ground with the emphasis upon the point that the great companions of Prophet Mohammed were a model to the humanity irrespective of religion, caste, creed or race, and all the problems in the world in general and our country in particular faced today could be solved by emulating them in spirit and practice.

Monday, 26 September 2011 18:07

30th All India Ahlehadees Conference Starts

New Delhi, April 10s The need of the hour today in an era of materialism is that the exemplary lives and mission of the great companions of Prophet Mohammed should be followed so that the humanity should get its due dignified and respectable status after being brought out of the persecution and darkness.

Monday, 26 September 2011 18:06

30th All India Ahle Hadees Conference

"The 100: A Ranking of the Most Influential Persons in History", a book written in 1978 by Michael H Hart, an American Christian scholar, provides a detailed account of 100 most influential persons in history of the mankind.

 

Page 7 of 7

The Collective Fatwa against Daish and those of its ilk