Press Release

Children categories

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کا راحتی وفد زلزلہ متاثرین کی راحت رسانی کے لیے روانہ

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کا راحتی وفد زلزلہ متاثرین کی راحت رسانی کے لیے روانہ (80)

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے اخبار کے نام جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ وطن عزیز اور پڑوسی ملک نیپال میں آئے تباہ کن زلزلے سے متاثرین کی راحت رسانی کے لیے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کا ایک راحتی وفد آج متاثرہ مقامات کے لیے روانہ ہوا۔ جووہاں پہنچ کر متاثرین کے مابین ریلیف و راحتی اشیاءتقسیم کرے گا اور وہاں کی صحیح صورت حال کا جائزہ لے کر مرکز کو آگاہ کر ے گا تاکہ متاثرین کی باز آباد کاری کے لیے مرکز سے ہر ممکن تعاون ارسال کیا جاسکے۔

پریس ریلیز کے مطابق مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے اس راحتی وفد کی سربراہی مولانا محمد علی مدنی ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث بہار کررہے ہیں اور اس وفد میں مولانا محمد ہاشم سلفی اور مولانا کلیم اللہ انصاری سلفی وغیرہ شریک ہیں۔

ناظم عمومی نے اپنے بیان میں عوام وخواص سے اپیل کی ہے کہ مصیبت کی اس گھڑی میں وطن عزیز اور پڑوسی ملک کے زلزلہ متاثرین کی راحت رسانی اور باز آباد کاری کے لیے اپنا بھر پور تعاون پیش کریں۔

واضح ہو کہ مورخہ ۵۲/ اپریل کو پڑوسی ملک نیپال میں ایک بڑا زلزلہ آیا تھا جس سے بہا ، یوپی اور مغربی بنگال وغیرہ صوبوں کے متعدد علاقے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ مذکورہ وفد ان تمام علاقوں کا دورہ کرے گا۔

جاری کردہ

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند

View items...

 اختتامی اجلا س میں امام کعبہ ڈاکٹر سعودبن ابراہیم الشریم حفظہ اللہ کا ایمان افروز خطاب
آخر میں دینی وسماجی، قومی وملی اور عالمی و انسانی امور پر ۲۳نکاتی قرارداد پاس کی گئی
 نئی دہلی : ۳ مارچ ۲۱۰۲ء
 امام کعبہ ڈاکٹر سعود بن ابراہیم الشریم حفظہ اللہ نے عدالۃ الصحابہ کے عنوان پر خطاب کرتے ہوئے صحابہ کرام کی فضیلت قرآن وسنت کی روشنی میں بیان فرمائی اور کہا کہ صحابہ کرام کی طرف انگلی اٹھانا در اصل دین کی تنقیص اور دین کا کفر ہے ۔
صحابی کی تعریف میں مہاجرین ، انصار اور وہ تمام لوگ شامل ہیں جنہوں نے اسلام قبول کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کا شرف حاصل کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی فضیلت کہیں تفصیل سے اور کہیں اجمالا بیان فرمائی۔ اور وضاحت سے فرمادیا ہے کہ’’رضی اللہ عنہ ورضوا عنہ‘‘» اللہ ان سے راضی ہوا اوروہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوگئی«۔

مرکزی وزیر کپل سبل نے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکی تعلیمی خدمات اور دہشت گردی مخالف سرگرمیوں کی تعریف کی
نئی دہلی‘ 2 مارچ:  آج یہاں امام حرم مکہ مکرمہ ڈاکٹر شیخ سعود بن ابراہیم الشریم  نے رام لیلا گراونڈ میںمرکزی جمعیت اہل حدیث کے زیر اہتمام دو روزہ اکتیسویں اہل حدیث کانفرنس کے موقع پر نماز جمعہ کے خطبہ کے دوران ملت اسلامیہ ہند میں اتحاد و یگانگت کی تلقین کی اور کہا کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ دین اسلام کو مکمل طور پرہر قسم کی بدعتوں سے بچتے ہوئے معاشرے میں پیش کیا جائے ۔
امام حرم شریف جو کہ سعودی عرب میں جج کے عہدے پر بھی فائز رہ چکے ہیں  اور ام القری یونیورسٹی مکہ سے پی ایچ ڈی کرنے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعدفقہ کے پروفیسر کی خدمت انجام دے رہے ہیں ، نیز بین الاقوامی شہرت یافتہ ممتاز فقیہ ہیں نے کہاکہ  ایک ایسے وقت میں جب کہ پوری انسانیت مختلف مسائل اور مصائب سے کراہ رہی ہے اور ذہنی کرب و اذیت سے دوچا ر ہی‘ اسلام سسکتی ہوئی انسانیت کے لئے سب سے بہترین نظام حیات اور دین رحمت کے طور پر تمام مسائل کا حل پیش کرتا ہی۔امام حرم نے کہا کہ اسلام کوا س کی حقیقی شکل میں پیش کیا جائے اور اس کا عملی نمونہ معاشرے کے سامنے لایا جائے جس سے معاشرے میں امن و آشتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ حاصل ہو۔
انہوںنے کہا کہ آج دنیا میں جونسلی امتیاز پایا جاتاہے وہ ختم ہونا چاہےی۔ انہوںنے مزید کہا کہ اسلام نے اس ضمن میں جوشاندار مثال قائم کی ہے وہ تاریخی ہی۔اس کے تحت کالے کوگورے پراورگورے کوکالے پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ہی۔
امام حرم مکہ مکرمہ نے ہندوستان میں اپنی آمد کو اپنے لئے باعث سعادت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان جیسے عظیم ملک اور یہاں کے عوام کے لئے ان کے دل میں ہمیشہ محبت و احترام کا جذبہ رہا ہے وہ سرزمین ہند پر آکر خودکو اپنے گھر میں محسوس کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کی ضرورت ہے کہ صحابہ کو رول ماڈل کے طور پر بلاتفریق مذہب و ملت اور مسلک ہر شخص کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ ان کی آئیڈیل تعلیمات سے ہر کوئی استفادہ کرسکی۔
امام حرم نے نماز جمعہ کی امامت کی جس میں تقریباََ چار لاکھ افراد نے شرکت کی ۔ نماز جمعہ کے دوران پورا رام لیلا میدان کھچا کھچ بھرا ہواتھا۔ امام محترم بعد نماز کل مغرب وعشاء کی امامت اورایمان افروز خطاب فرمائیںگے اور عشا کی نماز کی امامت بھی کریں گی۔واضح رہے کہ ڈاکٹر الشریم 1991 سے مکہ مکرمہ میں حرم شریف کے امام و خطیب ہیں۔
اس موقع پر مرکزی وزیر برائے فروغ انسانی وسائل کپل سبل نے کہا کہ ملک کی موجودہ حالات میں عدالت صحابہ کے موضوع پر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکی یہ دوروزہ کانفرنس بہت ہی موضوع ہی۔ انہوںنے توقع ظاہرکی کہ اس موقع پرامام محترم تشریف آوری سے اسلام کے امن اوراخوت کے پیغام کو فروغ ملے گا۔انہوںنے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکے ذریعہ دہشت گردی کے خلاف علماء کرام کے دستخط سے جاری فتوے کی تعریف کی اورکہا کہ اس سے اسلام کے تعلق سے جوغلط فہمی پھیلائی جارہی تھی اسے دورکرنے میں مددملی۔
کپل سبل نے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکی ہمہ جہت ملکی وانسانی خدمات خصوصا تعلیمی سرگرمیوں کوسراہتے ہوئے کہا کہ اس سے جہاں ناخواندگی کو دورمیں کرنے میں مددملی ہے وہیں تعلیم کے فروغ میں مددمل رہی ہی۔ انہوںنے کہا کہ اس کے ذریعہ قائم ہزارہا مدارس ومکاتب اس کاز کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
قبل ازیں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکے اہمیت اور امیر حافظ محمد یحیی دہلوی نے اپنے خطبہ صدارت میں عدالت صحابہ کانفرنس کی غرض و غایت بتاتے ہوئے کہا کہ ہمیں ان نفوس قدسیہ کی تابندہ زندگی کی سنہری کرنوں سے اپنی ذات‘ گردو پیش اور اپنے محبوب وطن کے طول وعرض کو معمور و منور کرنا چاہئی۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا جس بدامنی اور اخلاقی بے راہ روی کی طرف جارہی ہے اس کو ہدایت اور رہنمائی صرف صحابہ کرام کے مقدس گروہ سے مل سکتی ہی۔ انہوں نے مسلمانوں کواپنے اعمال کو سدھارنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج جس مسلمان جن مصائب و مشکلات اور ابتلاء و آزمائش کا شکار ہیں وہ صرف اعدا اسلام کی سازشوں کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ اس میں ہماری بداعمالیوں اور فکری و نظریاتی انحراف کا بھی عمل دخل ہی۔
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکے جنرل سکریٹری مولانا اصغر امام مہدی سلفی نے امام حرم کی شرکت کو کانفرنس کے شرکاء اور اہل وطن کے لئے باعث سعادت قرار دیا۔انہوںنے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب معاشرے میں ہر طرف بدامنی اور افراتفری کے ساتھ ساتھ خوف و ہراس کی فضا پائی جارہی ہے صحابہ کرام کی حیات مبارکہ اور ان کی تعلیمات سب کے لئے مشعل راہ ہی نہیں بلکہ عملی نمونہ ہی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث صحابہ کرام کو آج بھی انسانیت کی فلاح کا معیار تسلیم کرتی ہے اور اسی وجہ ہے کہ اس نے دو سال قبل بھی عظمت صحابہ کانفرنس کا انعقاد کیا تھا اور پھر اس مرتبہ عدالۃ الصحابہ کے موضوع پر ۱۳ویں اہل حدیث کانفرنس کررہی ہی۔
مولانا عبدالرحمان عبیداللہ رحمانی مبارک پوری نے خطبہ استقبالیہ دیتے ہوئے کارکنان کو اپنی حکمت عملی کو زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور خلوص و للہیت اور کامل اتحاد و یکجہتی کے ساتھ اپنے قومی وانسانی فلاح وبہبودکے منصوبے ترتیب دینے کی تلقین کی۔اورزندگی کے ہرمرحلہ میں صحابہ کرام کے اسوہ کو پیش نظر رکھنے پر زوردیا۔
اس موقع پرمرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی صوبائی اکائیوں کے ذمہ داران خاص طورسے مولانا حافظ عین الباری عالیاوی، نائب امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند و امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث مغربی بنگال ، مولانا عبدالمنان سلفی جھنڈا نگری، ڈاکٹر عبدالدیان انصاری، مولانا شمس الحق سلفی، نائب ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث جھارکھنڈ ، مولانا صفی احمد مدنی، امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث آندھرا پردیش ، مولانا عبداللہ سعود سلفی، ناظم جامعہ سلفیہ بنارس، مولاناغلام رسول ملک ، امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث جموں و کشمیر ، مولانا عبدالسلام سلفی امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث ممبئی ، مولانا محمد ہارون سنابلی ، ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث مغربی یوپی، مولانا اقبال محمدی ، کنوینر کانفرنس ، ڈاکٹر سید عبدالحلیم صاحب، نائب امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند، مولانا شعیب میمن جونا گڈھی، ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث گجرات وغیرہ اہم شخصیات نے تقریریں کیں، تاثرات پیش کئے اور مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکی ہمہ جہت کوششوں اور خدمات کو سراہا اورمرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی دعوت پر امام محترم کی تشریف آوری کے لیے مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی ناظم عمومی مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کومبارکباد پیش کیا۔ مولانا عبدالسلام سلفی نے کہا کہ امام محترم کی تشریف آوری موجودہ قیادت کااہم کارنامہ ہی۔
دیگراہم شرکاء میں رکن دہلی اسمبلی شعیب اقبال، سماجی کارکن پنڈت این کے شرمااورروزنامہ اردوراشٹریہ سہاراکے مدیراسد رضا کے علاوہ اراکین مجالس عاملہ وشوری مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند قابل ذکرہیں۔
جاری کردہ
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہن

نئی دہلی:یکم مارچ
آج یہاں اندرا گاندھی انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر صبح ۱۱بجے امام حرم ڈاکٹرسعودبن ابراہیم الشریم حفظہ اللہ کا مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی ودیگر ذمہ داران ومعززین نے پرتپاک خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر امام حرم نے سرزمین ہندپر آکر اپنی دلی مسرت کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دل میں ہندوستان اوراس کے شہریوں کا بے حد احترام ومحبت ہی۔
قابل ذکر ہے کہ امام حرم آج اہل حدیث کمپلیکس میں نماز عشاء پڑھانے کے علاوہ کل رام لیلا میدان میں ۱۳ویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس کے دوران خطبہ جمعہ دیںگے اورنمازجمعہ پڑھائیں گی۔ نیز ۳مارچ کو بعدنماز مغرب عمومی خطاب فرمائیںگی۔

پورے ملک میں کانفرنس کے تئیں کافی جوش وخروش پا یاجارہاہے ۔
امام حرم رام لیلا میدان میںخطبہ جمعہ کے علاوہ سنیچرکو مغرب اور عشاء کی امامت اور ایمان افروز خطاب فرمائیں گی۔
دہلی : ۲۲فروری ۲۱۰۲ء
عالم اسلام کے دلوں کی دھڑکن ، پیام انسانیت کے نقیب، معروف صاحب طرز قاری ،امام وخطیب حرم مکہ مکرمہ سماحۃ الشیخ ڈاکٹر سعود بن ابراہیم الشریم حفظہ اللہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی دعوت پر دہلی کے تاریخی رام لیلا میں مورخہ ۲مارچ ۲۱۰۲ء کو 1.15بجے نماز جمعہ کی امامت فرمائیں گے اور مورخہ ۳مارچ کو(.22بجے شام) مغرب اور( 8.15بجے شب) عشاء کی امامت کریں گے اور مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام اکتیسویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس میں حاضرین سے ایمان افروز خطاب فرمائیں گی۔ امام حرم کے استقبال اور کانفرنس کے انعقاد کی تیاری آخری مرحلہ میں ہے ، ان باتوں کی جانکاری مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے اخبار کے نام جاری ایک بیان میں دی۔
انہوں نے کہا کہ مختلف صوبوں کے دوروں سے یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے معنون اس تاریخی کانفرنس کے حوالے سے پورے ملک میںبہت جو ش وخروش پایا جا رہا  ہے ،نیز ملک وبیرون ملک کے علماء کرام اور اکابرین ملک و ملت کے پیغامات اور خطوط بھی موصول ہورہے ہیں۔
? مولانا سلفی نے کہاکہ صحابہ کرام رب کے وفادار، اخلاق وکردار کے حقیقی معیار اور انسانیت کے سچے معمار تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے تقویٰ وطہارت کو آزما کر سند رضا عطا فرمائی۔ وہ پاک دل وپاکباز تھی۔ ان کی راست بازی اور امانت داری کی گواہی قرآن کریم نے دی۔ وہ اولین حاملین شریعت ،دین کے بڑے رمز شناس اور آسمان سنت کے تابندہ ستارے تھی۔ دنیا نے ان کے گہرے علم اور ایمانی بصیرت سے روشنی حاصل کی۔ انسانیت ہر میدان میں ان کی رہین منت ہی۔انسانی تاریخ نے انبیاء کے بعد ایسا مقدس گروہ نہیںدیکھااور نہ ہی کسی قائد ومصلح کو ایسا قابل فخر پیرو کار نہیں ملا ۔
ناظم عمومی نے کہا کہ اس دو روزہ کانفرنس میں امام حرم کے ایمان افروز خطاب کے علاوہ ملک و بیرون ملک کے جیدعلمائے کرام اور قائدین ملک وملت کی چشم کشا تقاریر ہوں گی اور صحابہ کرام کی عظمت و معنویت اور ان کے پیغام اخوت و ہمدردی ،بھائی چارہ اور امن وانسانیت کو عام کیا جا ئے گا۔
ناظم عمومی نے کہا کہ اس کانفرنس کے موقع پر عدالۃ الصحابہ کے عنوان پر ایک باوقار سمینار بھی منعقد ہو گا جس میں موقر علماء کرام مقالات پیش کریں گے اور مختلف دینی و عصری حوالوں سے صحابہ کرام کی مبارک زندگی پر روشنی ڈالیں گی۔
انہوں نے کہا کہ امام حرم کی آمد ان شاء اللہ اختلاف و انتشار سے دوچار ملت اسلامیہ کے لیے اتحاد و یکجہتی کا موثر ذریعہ ثابت ہوگی۔


دہلی،۷۱فروری  ۲۱۰۲ء ۔مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی جناب مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے گذشتہ دنوں دہلی کے انتہائی سیکورٹی زون کے اندر ایک اسرائیلی سفارت کار کی کار میں دھماکہ کو افسوسناک اورقابل مذمت قرار دیاہے نیز کہاہے کہ یہ کار روائی کسی بڑی سازش کا شاخسانہ ہوسکتی ہی۔ممکن ہے کہ مسجد اقصیٰ کی دیوار پرنبی اکرم کی شان میں گستاخی نیز دیکر انسانیت سوز کارروائیوں سے امت مسلمہ نیزدیگرامن پسند انسانیت نوازشہریوں میںجو بے چینی پائی جارہی تھی اس سے توجہ ہٹانے کی غرض سے یہ کارروائی خود اسرائیل کے ایماپر کی گئی ہویا ہندوایران کے مابین خوشگوار تعلقات کو سبوتاژ کرنا یا دباؤمیں لانا اس کا مقصدہو،بہر حال یہ کارروائی قابل مذمت ہے لہٰذا تفتیشی ایجینسیوں کو معاملے کی ہرپہلو سے جانچ کرنی چاہئے  اور سچائی منظر عام پر لاکر شرپسندانہ عزائم کوناکام بنا دینا چاہئی۔ چونکہ اس سے قبل ملک کے کئی صوبوںمیں اسرائیلی جاسوس گرفتار کئے جاچکے ہیں،اس لئے مذکورہ دہشت گردانہ واقعہ کی اس زاویہ سے بھی تحقیقات ہونی چاہئے اوراسرائیلی باشندوں کو تفتیش کے دائرہ میں لاناچاہئی۔
ناظم عمومی نے مزیدکہاکہ ہماراملک گنگاجمنی تہذیب کا گہوارہ ہے اورامن وآشتی چاہتاہے لیکن سماج وانسانیت دشمن عناصر کسی نہ کسی بہانے اسکے امن وچین کو غارت کرنے کے درپے رہتے ہیں،اس واقعہ کی صحیح تحقیق سے امن پسند ملک کی شبیہ بگاڑنے والوں کو منہ کی کھانی پڑیگی اوروہ اپنے ناپاک ارادوں میں ناکام ہوںگی۔ انہوں نے مزید کہاکہ ہرطرح کی دہشت گردانہ کارروائیاں ، انسانیت دشمن طاقتوں کی گہری سازش کاحصہ ہوتی ہیں ۔ یہ طاقتیںنہیں چاہتیں کہ ملکی یابین الاقوامی سطح پرباہمی یکجہتی، محبت وبھائی چارگی اور امن وآشتی کاماحول برقرار رہے ۔ان انسانیت سوزکارروائیوں کی کوئی بھی مذہب یا سماج ہرگزاجازت نہیں دے سکتا ۔ان کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہی۔

Tuesday, 31 January 2012 11:26

RHETORIC IN THE NAME OF WAHABIS REGRETTABLE

General Secretary, Maulana Asghar Ali Imam Mahadi Salafi, in a statement while expressing his great concern over the efforts being made to spread hatred among Muslims of India in the name of Wahabism said that the terms “Wahabi” and “Whabism” are the product of the British mind which it had coined them to create and promote dissensions and disputes between Indians and to punish those people who were taking an active part in the Indian freedom movement. Hence at that time “Wahabis” and “rebels of British government” were considered this word worthy of attention nor did Muslim use it for themselves. It is, however, a fact that these very people were always in the forefront in liberating this country from British imperialism. It is also an undeniable historical fact that the main mission of these people was to present Islam among the ‘Ulama in the same spirit and form in which it was in the days of the Holy Prophet’s (صلى الله عليه وسلم) companions, and which was a blessing, guarantor of peace, embodiment of clear teachings of the Holy Quran and Hadeeth and quite simple, free from all adulterations alterations and free from un-Islamic customs and of violence, differences and extremism. Therefore, the rhetoric from Muslim Maha-pan-Chayat is in no way correct, just and in the interest of the country and nation but harmful from all aspects.

۳۱ویں دوروزہ آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس کاانعقاددہلی میں ۲ـ۳مارچ۲۱۰۲ئ؁ کو
 مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کا اجلاس اختتام پذیر
ملک وملت جماعت اورانسانیت کی بھلائی سے متعلق متعدداہم مسائل پر غوروخوض
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کا ایک غیرمعمولی اجلاس گذشتہ ۲۲جنوری ۲۱۰۲ئ؁ کواہل حدیث کمپلیکس اوکھلا نئی دہلی میں زیر صدار ت جناب حافظ محمد یحییٰ دہلوی حفظہ اللہ منعقد ہوا جس میں ملک بھر سے بڑی تعداد میں اراکین ومدعوئین خصوصی شریک ہوئے ۔اجلاس کا ایجنڈاحسب ذیل تھا۔
(۱)        گذشتہ کارروائی کی خواندگی و توثیق
(۲)       رپورٹ ناظم عمومی
(۳)   اجلاس مجلس شوریٰ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند منعقدہ ۷۱اکتوبر ۰۱۰۲ء میں منظور شدہ عظمت صحابہ کانفرنس کے انعقاد پر غور وخوض
(۴)  جمعیت کے بعض دعوتی ،تربیتی، تنظیمی اورتعمیری مسائل پر غور وخوض
(۵) بعض صوبائی جمعیات اہل حدیث کے انتخابات پر غور وخوض
(۶) جمعیت کے مالی استحکام پر غور و خوص
(۷) ملکی، ملی وجماعتی مسائل پر غور
(۸) دیگر امور باجازت صدر

ملک وملت جماعت اورانسانیت کی بھلائی سے متعلق متعدداہم مسائل پر غوروخوض
امام حرم سماحۃ الشیخ علامہ ڈاکٹر سعود ابراہیم الشریم حفظہ اللہ شرکت فرمائیںگی
’’صحابہ ٔ کرام ـاخلاق وکردار کے حقیقی معیار اورانسانیت کے سچے معمار‘‘کے عنوان پر
۱۳ویں دوروزہ آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس کاانعقاددہلی میں ۲ـ۳مارچ۲۱۰۲ئ؁ کو
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کا ایک غیرمعمولی اجلاس گذشتہ ۲۲جنوری ۲۱۰۲ئ؁ کواہل حدیث کمپلیکس اوکھلا نئی دہلی میں زیر صدار ت جناب حافظ محمد یحییٰ دہلوی حفظہ اللہ منعقد ہوا جس میں ملک بھر سے بڑی تعداد میں اراکین ومدعوئین خصوصی شریک ہوئے ۔اجلاس کا ایجنڈاحسب ذیل تھا۔
 (۱)        گذشتہ کارروائی کی خواندگی و توثیق
 (۲)       رپورٹ ناظم عمومی
 (۳)   اجلاس مجلس شوریٰ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند منعقدہ ۷۱اکتوبر ۰۱۰۲ء میں منظور شدہ عظمت صحابہ کانفرنس کے انعقاد پر غور وخوض
 (۴)  جمعیت کے بعض دعوتی ،تربیتی، تنظیمی اورتعمیری مسائل پر غور وخوض
 (۵) بعض صوبائی جمعیات اہل حدیث کے انتخابات پر غور وخوض
 (۶) جمعیت کے مالی استحکام پر غور و خوص
 (۷) ملکی، ملی وجماعتی مسائل پر غور
 (۸) دیگر امور باجازت صدر
منجملہ دیگرامورکے طے پایا کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیراہتمام صحابہ کرام اخلاق وکردار کے حقیقی معیار اورانسانیت کے سچے معمارکے عنوان پر  عظیم الشان ۱۳ویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس ان شاء اللہ ۲ـ۳مارچ ۲۱۰۲ئ؁ کو دہلی کے رام لیلا گرائونڈ میںمنعقد ہوگی جس میں امام حرم شریف مکہ مکرمہ سماحۃ الشیخ علامہ ڈاکٹر سعود ابراہیم الشریم حفظہ اللہ شرکت فرمائیں گے اور اپنے بصیرت افروز ، دل نشیں اور روح پرور خطاب سے سامعین کے قلوب وارواح کو جلا بخشیں گے ۔ نیز مغرب وعشاء کی امامت بھی فرمائیں گی۔نیزامام محترم کی اقتدامیں نما ز جمعہ بھی ادا کی جائے گی۔نیز مؤقراراکین ومدعوئین خصوصی نے کانفرنس کو بہرصورت کامیاب کرنے کا عہد کیا اورصحابہ کرام حوالے سے منعقدہونے والی اس کانفرنس کو وقت کی سب سے اہم ضرورت قرار دیا۔ عاملہ کے اس اجلاس میں قومی ملی اورانسانی مسائل پر بھی غوروخوض ہوا۔ اور اخیر میں ملک وملت اور انسانیت کے متعلق متعدد امور زیر غور آئے اور درج ذیل قرارداد پاس کی گئیں:
۱ـ  مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کے اس اجلاس کایہ احساس ہے کہ عصر حاضرمیں مسلمانوں کی تمام پریشانیوں کاسبب قرآن وحدیث سے دوری ہی۔ اس لئے مسلمان اپنے جملہ مسائل کے حل کے لئے قرآن وحدیث کواپناآئیڈیل بنائیں۔
۲ـ  مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کایہ اجلاس اقلیتوں کے لئے 4.5فیصدریزرویشن کا خیر مقدم کرتاہی۔ لیکن یہ کوٹہ آبادی کے تناسب سے ناکافی ہی۔ اگرحکومت مسلمانوں کی سماجی ترقی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے تووہ سچرکمیٹی اورمشرا کمیشن کی سفارشات جلد ازجلد نافذ کری۔
۳ـ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کایہ اجلاس ملک اور بیرون ملک میں ہونے والے دہشت گردانہ واقعات اوربم دھماکوں کی مذمت کرتاہے اور حکومت سے مطالبہ کرتاہے کہ وہ ان واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لئے ٹھوس قدم اٹھائے تاکہ انصاف کا بول بالا ہو اور بے قصور ،بے جااذیت سے بچ سکیں۔
۴ـمرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس حکومت سے دیگرانکاؤنٹروں کی طرح بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کی بھی تحقیقات کا مطالبہ کرتاہی۔عاملہ کا یہ احساس ہے کہ ان تحقیقات سے کسی بھی ادارہ کا مورال نہیں گرے گابلکہ اس سے قانون وانصاف کی برتری ہی ثابت ہوگی۔
۵ـ  مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کا یہ اجلاس ملک کے مختلف حصوں میں بے قصور مسلم نوجوانوں کی گرفتاری پر اظہار تشویش کرتا ہے اورمتعلقہ سرکاری ایجنسیوں سے مطالبہ کرتاہے کہ وہ اس سلسلے میں غیرجانبداری سے کام لیں۔
۶ـ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کایہ اجلاس حکومت ہندسے مطالبہ کرتاہے کہ وہ فرقہ وارانہ فسادات کے رونما ہونے پر انتظامیہ کوجواب دہ بنائے اور ملوث افراد کوقرارواقعی سزادی، علاوہ ازیں متاثرین کی بازآبادکاری  اورمعاوضہ کو یقینی بنائی۔
۷ـ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کایہ اجلاس مطالبہ کرتاہے کہ مذہب کوبنیاد بناکر مسلم اقلیت کے ساتھ سوتیلا رویہ نہ اپنایاجائے کیونکہ سچرکمیٹی نے دلائل اورشواہد کی بنیاد پر مسلمانوں کودلتوں سے بھی زیادہ پسماندہ قرار دیاہے ۔ اس لئے پسماندگی کو بنیاد بناکر پوری مسلم اقلیت کورزرویشن کے دائرہ میں لایا جائی۔اس میں کسی طرح کی کوئی آئینی رکاوٹ نہیں ہی۔
۸ـ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کایہ اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ ڈائریکٹ ٹیکس بل سے مذہبی اداروں، عبادت گاہوں اورمذہبی تنظیموں کومستثنی رکھاجائی۔
۹ـ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کایہ اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتاہے کہ وقف تربیتی بل میں قابل اعتراض امورپر نظر ثانی کی جائے کیونکہ اگر بل کے قابل اعتراض مجوزہ نکات کوحذف نہیں کیا گیا تواس سے ہزاروں وقف اراضی ضائع ہوجائیںگی۔
۰۱ـ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کایہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ حق تعلیم ایکٹ میں شامل ان نکات کو ختم کیاجائے جن سے اقلیتوں کے تعلیمی اداروں پر ضرب پڑتی ہی۔
۱۱ـ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس حالیہ دنوں انگریزی ہفت روزہ انڈیا ٹوڈے ودیگر اخبارات کے ذریعہ جمعیت اہل حدیث کو دہشت گردی کے الزام سے متہم کئے جانے اور مملکت سعودی عرب پہ دہشت گردی کی تمویل کا بے بنیاد الزام لگائے جانے کی پرزور مذمت کرتا ہی۔ اس لیے کہ اس سے ایک امن پسند جماعت اور انسانیت نواز مملکت کی کردار کشی ہوتی ہی۔عاملہ کا یہ احساس ہے کہ صحافت ایک مقدس مشن اورایک سماجی ذمہ داری ہے لہٰذا ذرائع ابلاغ رپورٹنگ میں غیر جانبداری سے کام لے کیونکہ اس کی جانبدارانہ رپورٹنگ سے ایک خاص طبقہ کوذہنی اذیت ہوتی ہے اوروہ دیگر اقوام کی نگاہ میں مذموم ہوجاتاہی۔یہ اجلاس مذکورہ اخبارات سے مطالبہ کرتا ہے کہ اس گستاخی کے لیے معافی مانگیں اور اس کی تردید شائع کریں۔
۲۱ـ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کایہ اجلاس فلسطین میں جاری اسرائیل کی جارحیت کی مذمت کرتاہے اوراقوام عالم سے مطالبہ کرتاہے کہ وہ فلسطین کو اسرائیل کی ظلم وبربریت سے نجات دلانے کے لئے ذاتی مفاد سے اٹھ کرکام کریں، کیونکہ اسرائیل کی جارحیت کی وجہ سے مشرق وسطی میں امن وقانون کی صورت حال درہم برہم ہی۔
۳۱ـ مجلس عاملہ کا یہ اجلاس شہزادہ نایف بن عبدالعزیز آل سعود کو مملکت سعودی عرب کا ولی عہد مقرر کئے جانے پر خادم حرمین شریفین ، شاہی خاندان، وزارت اسلامی امور اور سعودی عوام وخواص کو مبارک باد پیش کرتا ہی۔نیز حالیہ دنوں میں سلفیت کے حوالے سے ان کے بیان کو بنظر استحسان دیکھتا ہی۔
۴۱ـ مجلس عاملہ کا یہ اجلاس ولی عہد مملکت سعودی عرب شہزادہ سلطان بن عبدالعزیز آل سعود کی وفات پر اظہار غم وافسوس کرتا ہے اور ان کی وفات کو مملکت سعودی عرب اورانسانیت کے لیے عظیم خسارہ قرار دیتا ہے نیزمرحوم شہزادہ کی ملک وانسانیت کے تئیں عظیم خدمات کو قدرکی نگاہ سے دیکھتا ہے اور مملکت توحید کے فرمانروا ملک عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود ، شاہی خاندان اور سعودی عوم و خواص کی قلبی تعزیت کرتے ہوئے دعاگو ہے کہ بار الہ ان کی مغفرت فرما۔آمین
۵۱ـ مجلس عاملہ کا یہ اجلاس آئندہ دنوں ملک کے پانچ صوبوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے حوالے سے عوام سے اپیل کرتاہے کہ وہ سیکولر اور ایماندار فرض شناس امیداروں کو وٹ دیں۔اور فسطائی فرقہ وارانہ ذہنیت رکھنے والی طاقتوں کا راستہ روکے تاکہ سیکولر حکومتوں کا قیام عمل میں آسکے اور روایتی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ماحول قائم رہے اور ہر فرقہ کو یکساں طور پر ترقی کے مواقع میسر آسکیں۔
y۶۱ـ  مجلس عاملہ کا یہ اجلاس سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین جیسے دریدہ دہن شیطان صفت ،نام نہاد قلم کاروں کی بعض اداروں کی جانب سے ہمت افزائی کی بھر پور مذمت کرتا ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ آئندہ ملک میں ان جیسے لوگوں کی آمد پر پابندی عائد کرے تاکہ مسلمانوں ودیگر سیکولر رجحانات رکھنے والے لوگوں کے جذبات مجروح نہ ہوں۔ساتھ ہی ان دنوں مسلمانوں کے پرامن احتجاج اور دانشمندانہ اقدامات کے باعث سلمان رشدی کی جو حوصلہ شکنی ہوئی اور حکومت کی جانب سے بھی اس کے دورے کو روکنے کے لیے جو اقدامات کئے گئی، اس کو بنظر تحسین دیکھتا ہے اور اسے ملک وملت کے لیے خوش آئندتصور کرتا ہی۔
۷۱ـمجلس عاملہ کا یہ اجلاس جناب محمد غالب یمانی،صدر جامعات المفلحات حیدر آباد، مولانا عبدالسلام رحمانی طیب پوری، ڈاکٹر جاوید الاعظم ، صدر جامعہ سلفیہ بنارس، دبستان دار الحدیث رحمانیہ دہلی کے آخری چراغ مولانا عبد الحکیم مجاز اعظمی اور مولانا عبدالقدوس اطہرنقوی کی اہلیہ محترمہ کے انتقال پر اپنے رنجم وغم کا اظہار کرتا ہے اور مذکورین کے پسماندگان سے اظہار تعزیت کرتاہی۔نیز اللہ سے دعا گو ہے کہ اللہ ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائی، ان کی کوتاہیوں سے درگزرفرمائے نیز پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق بخشی۔آمین

 

دہلی،۷۱جنوری۔مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے اپنی ایک  پریس ریلیز میں  ادب کے نام پر بے ادبی کا مظاہرہ کرنے والے شیطانی آیات کے دریدہ دہن مصنف سلمان رشدی کی ملک میں آمد کو بدبختانہ قرار دیتے ہوئے اس پر  اپنی شدیدناراضگی کا اظہار کیاہے اورکہاہے کہ دنیاکاکونسا ایساادب ہے جو کروڑوں مسلمانوں اور لاکھوں غیرمسلم عقیدت مندوںکے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے شیطان صفت نام نہادمصنف کودعوت سخن دے  اورہندوستان جیسے کثیرمذاہب پریقین رکھنے والے ملک کے عوام کے جذبات کو مجروح کرے ۔نیزحکومت ہند سے مطالبہ کیاہے کہ وہ فورا اس کے پرسن آف انڈین اوریجن کارڈ کو منسوخ کردے تاکہ آئندہ کبھی بھی اس شیطان صفت اوردوسروں کے جذبات مجروح کرنے والے انسان کے ناپاک    قدم وطن عزیز کی زمین پر نہ پڑسکیں۔
ناظم عمومی نے مزیدکہاکہ ہندوستانی تہذیب احترام باہم کے  اصولوں پرقائم ہے لیکن نامعلوم کن مجبوریوں کے تحت حکومت ہندوقفہ وقفہ سے ایسے شعوری یاغیرشعوری اقدامات کرتی رہتی ہے جن سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں اوران کی بے چینی میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔بنگلہ دیشی نام نہاد مصنفہ تسلیمہ نسرین کو پناہ دینے سے پہلے ہی مسلمانوں کے جذبات مجروح ہیں۔  ان باتوں  سے حکومت بخوبی  واقف ہوتے ہوئے بھی  خاموش   تماشائی بنی بیٹھی ہے جوکروڑوں انسانوں کی دل آزاری کاباعث ہی، اس پر اعیان حکومت کوٹھنڈے دل سے  غورکرناچاہئے اورٹھوس اقدامات کی جانب گامزن ہوناچاہئی۔مولانانے مزیدکہاکہ بعض ناعاقبت اندیش اس طرح کے لوگوں کو آزادئ رائے کے نام پرحق بجانب ٹھرانے کی کوشش کرتے  ہیںلیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ آزادئ رائے کا دنیاکی کسی بھی ڈکشنری میں یہ مطلب نہیںکہ کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی جائے یامذہبی پیشواؤں کوسب وشتم کیاجائی۔

 

دہلی:۲۱جنوری۲۱۰۲ء
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے اپنی ایک  پریس ریلیز میں جماعت اہل حدیث کے معروف قلم کاراورمرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے آرگن پندرہ روزہ جریدہ ترجمان کے ایڈیٹرجناب عبدالقدوس اطہرنقوی صاحب کی اہلیہ کے  سانحۂ ارتحال پر اپنے شدیدرنج وغم کا اظہار فرمایاہی۔گذشتہ رات تقریبا بعمر۰۷ سال اپنے گھراوکھلا،نئی دہلی میں اس دار فانی سے رحلت فرماگئیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
موصوفہ انتہائی دیندار ،صوم وصلوۃ کی پابند،قناعت پسندخاتون تھیںاورنیکی کے کاموں میں ہمہ وقت پیش پیش رہتی تھیں،  بچوں کی تربیت  اورگھریلو مسائل کو بڑی ہی خوش اسلوبی سے انجام دیتی رہیںاور نقوی صاحب کوگھریلومسائل سے بے فکررہ کر علمی کاموں کو انجام دینے کا بھرپورموقعہ میسرآیا۔اورثابت کیا کہ ہرکامیاب انسان کے پیچھے عموماایک سلیقہ مند،فرض شناس اورنیک طینت خاتون کاہاتھ ہوتاہی۔اللہ تعالیٰ ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے اورنقوی صاحب کی دینی خدمات کو ان کے لئے بھی   صدقہ جاریہ  بنائی۔
ناظم عمومی نے اپنے اخباری بیان میںکہا کہ ان کے سانحۂ ارتحال سے نہ صرف ان کے اہل خانہ مغموم ہیں بلکہ جملہ متعلقین جماعت ان کے غم میں برابرکے  شریک ہی۔ دعاہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے  اور پسماندگان  ومتعلقین کو صبر جمیل کی توفیق بخشی۔آمین

 

ملت کے افرادکے ذریعہ اس کی اشاعت درپردہ مملکت توحیدکوبدنام کرنے کی سازش
دہلی،۵جنوری ۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی جناب مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے اپنے اخباری بیان میںایک اردواخبارکے ذریعہ انڈیاٹوڈے کے حوالے سے کشمیرمیں وہابیوں پر دہشت گردی کے لگائے گئے  الزام  اورمملکت توحید سعودی عرب کو اس میں گھسیٹنے کی کوشش کی شدیدالفاظ میںمذمت کی ہے اورملت اسلامیہ جو آج گوناگوں مسائل ومشکلات سے گھری ہوئی اوردشمنان اسلام کی سازشوں کاشکارہے اسے مزیدمشکلات میں مبتلاکرنے کے مترادف قراردیاہی۔
ناظم عمومی نے مزیدکہاکہ  اہلحدیثوں پر دہشت گردی کا الزام اورسعودی عرب کے ذریعہ اس کی فنڈنگ اتنامضحکہ خیز الزام   اورسنگین جرم ہے جس کا ارتکاب کوئی جمعیت اہل حدیث کے اغراض ومقاصد اس کی سرگرمیوں اورمساعی جمیلہ سے ناواقف،   اسی طرح مملکت توحیدسعودی عرب کی عالمی پیمانے پرملی ،سماجی اور انسانی ظاہر وباہر خدمات کی بناپر بغض وحسدکرنے والا انسان ہی کرسکتاہی۔  یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ملت اسلامیہ ہند میں سب سے پہلے اٹھنے والی آوازجمعیت اہل حدیث کی تھی، اسی نے سب سے پہلے اس کے خلاف علماء کی ایک بڑی تعدادکے فتاویٰ کااجرا اس کے خلاف کانفرنسوں سمپوزیموں کاانعقادکیاتھا۔ اس کے ایک پروگرام میں اس وقت کے وزیرداخلہ مرکزی حکومت ہندنے برملاکہاتھا کہ اس تنظیم کاریکارڈبالکل صاف وشفاف ہے اور اس کے خلاف دہشت گردی وغیرہ کاکوئی   الزام ثابت نہیںہی۔
  مذکورہ اخبار کے نامہ نگارنے انڈیاٹوڈے کے مضمون نگاراست جولی جن کی رپورٹ کوبنیاد بناکر اہلحدیثوں اورسعودی عرب کے خلاف الزامات لگائے ہیں کی معتبریت  اوران کے سیکولرکردارکی خوب قصیدہ خوانی کی ہے اور ان کے بلندی کردار کو ثابت کرنے کے لئے اس نے کہاہے کہ انہوں نے  اپنی ہی سکھ قوم میں  دہشت گردی پھیلانے کی کوششوں میں مصروف تنظیموں پر ایک خصوصی کوراسٹوری لکھی تھی،اس کا مطلب یہ ہوا کہ نام نہاد مسلم مصنفہ تسلیمہ نسرین اگراسلام اورمسلمانوں کے خلاف زہرافشانی کررہی ہے اوربزعم خویش اندرکی باتوں کا انکشاف کررہی ہے تو وہ اسلام اورمسلمانوں کے خلاف اس کے ایک فرد کی معتبر گواہی اور اس کی حق گوئی اور معتبریت پر دلالت ہوگی؟کتنامضحکہ خیز استدلال ہی۔ مضمون نگارنے کہاہے کہ  اہل حدیث کے سربراہ مولانااصغرعلی امام مہدی سلفی سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن باربار گھنٹی جاتی رہی اورفون ریسیونہیں کیا،اس سے وہ سربراہ کو ملزم کے کٹہرے میں کھڑاکرناچاہتے تھے  یا جرم کی پاداش سے بچانے کے لئے کوئی ڈیل کرناچاہتے تھی۔اگرحقیقت حال جاننے یااس سلسلے میں معلومات حاصل کرنا مقصود تھا تو مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکوئی ہوائی تنظیم نہیں ہے کہ صرف سربراہ کے موبائل پر ہی بات ہوسکتی تھی بلکہ یہ ملک کی بہت ہی مؤقر قدیم ترین اسلامی تنظیم ہے جس کاصدردفتردہلی ہی میںہی،  اس سے رابطہ کیاجاسکتاتھا۔
ناظم عمومی نے مزیدکہاکہ اس وقت ملت اسلامیہ کے سامنے مسائل کا انبارہے وہ اس طرح کی بیان بازیوں اورالزام تراشیوں سے گریز کرے اورایسے بیانات کی حوصلہ شکنی کرے جن سے ملت کے انتشارمیں ادنیٰ درجہ کے امکان کا بھی شائبہ ہو،یہی حالات کاتقاضاہے اور اسی کی موجودہ حالات میں سب سے زیادہ ضرورت ہی۔
واضح ہوکہ مولانا گذشتہ دنوںایک سہ روزہ کانفرنس بعنون’’انسانی اقداراورروحانیت‘‘میں شرکت کی غرض سے کولکاتا گئے ہوئے تھے اوراسی کی سرگرمیوںمیں مصروف تھے

Page 6 of 7

The Collective Fatwa against Daish and those of its ilk