Press Release

Children categories

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کا راحتی وفد زلزلہ متاثرین کی راحت رسانی کے لیے روانہ

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کا راحتی وفد زلزلہ متاثرین کی راحت رسانی کے لیے روانہ (80)

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے اخبار کے نام جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ وطن عزیز اور پڑوسی ملک نیپال میں آئے تباہ کن زلزلے سے متاثرین کی راحت رسانی کے لیے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کا ایک راحتی وفد آج متاثرہ مقامات کے لیے روانہ ہوا۔ جووہاں پہنچ کر متاثرین کے مابین ریلیف و راحتی اشیاءتقسیم کرے گا اور وہاں کی صحیح صورت حال کا جائزہ لے کر مرکز کو آگاہ کر ے گا تاکہ متاثرین کی باز آباد کاری کے لیے مرکز سے ہر ممکن تعاون ارسال کیا جاسکے۔

پریس ریلیز کے مطابق مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے اس راحتی وفد کی سربراہی مولانا محمد علی مدنی ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث بہار کررہے ہیں اور اس وفد میں مولانا محمد ہاشم سلفی اور مولانا کلیم اللہ انصاری سلفی وغیرہ شریک ہیں۔

ناظم عمومی نے اپنے بیان میں عوام وخواص سے اپیل کی ہے کہ مصیبت کی اس گھڑی میں وطن عزیز اور پڑوسی ملک کے زلزلہ متاثرین کی راحت رسانی اور باز آباد کاری کے لیے اپنا بھر پور تعاون پیش کریں۔

واضح ہو کہ مورخہ ۵۲/ اپریل کو پڑوسی ملک نیپال میں ایک بڑا زلزلہ آیا تھا جس سے بہا ، یوپی اور مغربی بنگال وغیرہ صوبوں کے متعدد علاقے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ مذکورہ وفد ان تمام علاقوں کا دورہ کرے گا۔

جاری کردہ

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند

View items...

دہلی۸۲جولائی۔مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکے ناظم عمومی مولانااصغرعلی امام مہدی سلفی نے اپنے ایک اخباری بیان میںآسام میں فرقہ وارانہ فسادات کی بگڑتی ہوئی صورت حال پرگہری تشویش اوراس بھیانک فساد پر شدید رنج وغم کا اظہارکیاہے نیزکہاہے کہ صوبائی و مرکزی حکومتیں اس کی روک تھام کے لئے سنجیدہ اقدامات کریں اورعوام کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔
مولانانے کہاکہ اگر صوبائی حکومت پہلے سے حالات پرکڑی نظر رکھتی، انتظامیہ چوکس رہتی اور فسادات کی روک تھام کے لئے مناسب اقدامات کئے جاتے تو اتنے بڑے پیمانے پرجانی ومالی تباہی نہ ہوتی اورآسام میں ماضی کی طرح ایک خوںچکاں داستان دوبارہ رقم نہ ہوتی۔
ناظم عمومی نے حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ  فسادات کی فوری روک تھام کے لئے مناسب اقدامات کئے جائیں پناہ گزیں کیمپوںمیں حفاظتی انتظامات کے علاوہ لوازمات زندگی کی سہولیات فراہم کی جائیں اورجلد حالات پر قابوپاکر متاثرہ خاندانوں کی اپنے گھروں کو واپسی اوراجاڑے گئے لوگوں کی بازآبادکاری پر خصوصی اور فوری توجہ دی جائے ۔علاوہ ازیںآئندہ کے لئے اقلیتوں کے جان ومال کے تحفظ کے پختہ انتظامات کئے جائیں ۔انہوں نے عوام سے  اپیل کرتے ہوئے کہاکہ کسی بھی قسم کی فرقہ پرستی سے احتراز کرتے ہوئے   متحد ہوکرروایتی قومی یکجہتی اور امن وآشتی کا رویہ اختیار کریںاوربقائے باہم کے اصولوں کو مدنظر رکھیں۔ یہ بات نہ صرف وطن عزیز کے مفاد میں ہے بلکہ شرپسند عناصرکے منہ پر بھی طمانچہ ہوگی جوکہ ملک، قوم، سماج اورانسانیت کے بدترین دشمن ہیں۔
مولانانے اپنے اخباری بیان میں فساد میں جاں بحق ہونے والے افراد کے اہل خانہ  سے اظہار تعزیت نیز متاثرین سے اظہارہمدردی کیا ہے اورعوام سے  صبروتحمل سے کام لینے کی اپیل کی ہی۔

Monday, 23 July 2012 08:57

بیان پریس کانفرنس

2:30 بجے سہ پہر،پیر، 9 جولائی 2012ء، ہوٹل سمراٹ انٹر نیشنل ،پٹنہ
’’مسلمانوںد میں خوف و ہراس ‘‘
\ دہشت گردی بلاشک و شبہ ایک لعنت ہی۔ لہٰذا اس کی ہر سطح پر خواہ وہ سرکاری ہو یا غیر سرکاری، مذمت اور اس کے خلاف ایکشن ضروری ہوجاتا ہی۔ اس تعلق سے جہاں سرکار کی جانب سے متعدد اقدامات کئے گئے ہیں وہیں عوامی سطح پر بھی پوری دلچسپی لی گئی ہی۔ ملت اسلامیہ ہند نے بھی مجموعی طور پر وقتاً فوقتاً دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھائی ہی۔ اس تعلق سے سب سے پہلے 8 مارچ 2006ء کو مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیرِ اہتمام انصاری آڈیٹوریم، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی میں ’’دہشت گردی عصر حاضر کا سب سے بڑا ناسور‘‘ کے موضوع پر سمپوزیم ہوا اور اس موقع پر تقریباً 40 علماء کرام کے دستخط سے دہشت گردی مخالف تاریخی اجتماعی فتوی جاری کیا گیا جو کہ دہشت گردی مخالف جنگ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہی۔ بعد ازاں اسی سال 23 جولائی کو اہل حدیث کمپلیکس، ابوالفضل انکلیو، نئی دہلی میں ’’مدارس۔ اسلامیہ دہشت گردی کے اڈّے یا خدمت انسایت کے مراکز‘‘ کے موضوع پر ہوئے سمپوزیم میں اُس وقت کے مرکزی وزیر داخلہ شیوراج پاٹل نے واضح طور پر مدارس کو دہشت گردی سے مستثنیٰ قرار دیا۔ اس سمپوزیم میں سابق وزیراعظم وی پی سنگھ اور وزیر مملکت برائے امور خارجہ ای احمد اہم شرکاء تھی۔ دہشت گردی کے خلاف مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکی ہمہ جہت اور مسلسل کوششوں کی اندرون و بیرون ہند ہمیشہ پذیرائی ہوتی رہی ہی۔ 2-3 مارچ 2012ء کو رام لیلا میدان میںمنعقد ہوئی عظیم الشان آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس کے موقع پر مرکزی وزیر برائے فروغ انسانی وسائل جناب کپل سبل و دیگر شخصیات کے ساتھ ساتھ امام کعبہ ڈاکٹر سعود بن ابراہیم الشریم نے ملک میں دہشت گردی کے خلاف ماحول بنانے میں اس کی کوششوں کو سراہا جو کہ حق و صداقت کا اعتراف جمیل ہی۔
 لیکن ان حقائق کے باوجود اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے مرکزی و ریاستی سطحوں پر جو بھی قوانین بنتے ہیں اُن سے ملک میں اقلیتی طبقات بشمول مسلمانوں کے بے گناہ و معصوم افراد بالخصوص نوجوان زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور پورے معاشرہ میں خوف و ہراس کا ماحول بنتا ہی۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں مرکزی حکومتوں کے ذریعے دو دہشت گردی مخالف قوانین ٹاڈ اور پوٹا کو اپنی اپنی مدت کے پورا ہونے پر توسیع نہیں ملی اور انہیں اپنی موت آپ مرجانے دیا گیا۔ ٹاڈا اور پوٹا کے تحت گرفتار شدگان میں سے اب بھی ایک قابل ذکر تعداد جیل کی آہنی سلاخوں کے پیچھے بند ہے مگر اس کی تفصیل دستیاب نہیں ہی۔
 مسلمانوں کی مختلف جیلوں میں مجموعی صورتحال کیا ہے اور صحیح تعداد کیا ہی، اس تعلق سے 29 اکتوبر 2006ء کو معروف انگریزی روزنامہ ’’انڈین ایکسپریس‘‘ میں صحافی سیما چشتی کی جو خصوصی رپورٹ ’’issing Muslims‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئی تھی، اس کے  بارے میں ان کا یہ دعویٰ تھا کہ وہ دراصل سچر کمیٹی رپورٹ کا جُز تھی اور اس رپورٹ میں اسے جس عنوان کے تحت شامل کیا گیا تھا وہ یہ تھا کہ ’’جیل وہ واحد جگہ ہے جہاں مسلمانوں کو اپنی آبادی کے تناسب سے زیادہ نمائندگی حاصل ہی‘‘۔ مگر جب یہ رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی گئی تب اس میں سے یہ جُز غائب تھا۔ ابھی حال میں ممبئی کی ایک این جی او ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز (ISS) کی اس تعلق سے جو تفصیلی رپورٹ آئی ہے وہ بھی بہت انکشافاتی ہی۔ اس سے مہاراشٹر کی جیلوں میں 37فیصد مسلم قیدیوں کا پتہ چلتا ہی۔
 جہاں تک مسلم نوجوانوں کا معاملہ ہی، انہیں پہلے مدھیہ پردیش، پھر مہاراشٹر، خاص کر ممبئی اور حیدرآباد (آندھرا پردیش) کو نشانہ بنایا گیا اور اس طرح یہاں ان کی گرفتاری کا سلسلہ شروع ہوا۔ بٹلہ ہائوس انکائونٹر کے بعد اعظم گڑھ کو ٹارگیٹ کیا گیا۔ اس کے بعد اب بہار کے دربھنگہ اور مدھوبنی ودیگر مقامات ان کے نشانے پر ہیں۔
 گزشتہ ایک سال میں بہار کے مختلف مقامات سے اب تک بہت سے مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا جاچکا ہی۔ان بدنصیب مسلم نوجوانوں میں سے ایک قتیل صدیقی ہیں جن کی جیل کے اندر ہلاکت نے ملک کے ہرعدل و انصاف پسند شخص کو اس وسوسے میں ڈال دیا ہے کہ کیا جیل جیسی محفوظ جگہ میں بھی مسلمان محفوظ نہیں ہی؟ قتیل صدیقی کے تعلق سے لوک جن شکتی پارٹی کے قومی صدر اور رکن پارلیمنٹ رام ولاس پاسوان کا یہ مطالبہ بہت بروقت ہے کہ ان کے اہل خانہ کو 15 لاکھ روپے معاوضہ دیا جائی۔
 مجموعی طور پر ان سب صورتحال میں مسلم ملت کو سخت خوف و ہراس میں مبتلا کردیا ہے اور یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ ملک میں مظلومین اور کمزوروں کے لیے آئین و قانون کی بالادستی نہیں رہ گئی ہی۔غنیمت ہے کہ ملک میں عدلیہ اپنا کردار ادا کر رہا ہی،لیکن وہ اس قدر مہنگا اور دیر طلب ہے کہ اکثر مظلوم اور اس کے کنبے کی  دسترس سے باہر ہوتاہے اور اس کی زندگی کے اہم ایام اسی مظلومیت میںگھٹ گھٹ کر ختم ہوجاتے ہیں ،جو سب کو معلوم ہی۔
  لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ مرکزی و ریاستی حکومت دونوں اس تعلق سے ضروری کارروائی کرے تاکہ اس طرح کی صورتحال سے جمہوری و سیکولر نظام کو جو خطرہ پیدا ہوگیا ہے وہ دور ہوسکی۔ گرفتار شدگان میں سے جو ملزم قرار دیے جا تے ہیں ان کے خلاف باضابطہ فاسٹ ٹریک عدالت میںمقدمہ چلایا جانا چاہیے ،قصورواروں کو سزا ملے ،جبکہ بے گناہ اور معصوم افراد کو محض ذات یا مذہب کی بنیاد پر خواہ مخواہ ہراساں نہیں کیا جانا چاہیے ۔عامر خان کے معاملہ سے اب کون واقف نہیں ہے ۔چودہ برس جیل میں گزارنے کے بعد وہ تمام الزامات سے بری قرار دیے گئے اور رہا کیے گیی۔اس طرح کے تمام معاملات کے ذمہ دار سرکاری عہدیداران کے خلاف بھی کارروائی کی جانی چاہیے ،اور رہا کیے گئے افراد کی عزت و احترام اور وقار کے ساتھ بازآبادکاری ہونی چاہیی۔اسی طرح دوسری جانب بلا تفریق مذہب و ملت ملک کے تمام حق پسند و انصاف پرور افراد و طبقات سے توقع ہے کہ وہ متحد ہوکر اس صورتحال سے نمٹیں گی۔
 مرکزی جمعیۃ اہل حدیث ہند مرکزی و ریاستی حکومتوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ جو افراد اس کے مختلف مقامات سے اٹھائے گئے ہیں ان کے تعلق سے وہ مناسب و مؤثر انداز سے اقدامات کری۔ مقامی انتظامیہ و پولیس سے بھی یہی گزارش ہے کہ وہ خوف و ہراس کی اس فضا کو ختم کرنے کی کوشش کریں تاکہ معاشرے میں امن و امان کا ماحول قائم رہ سکی۔
جاری کردہ
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند،مسلم تنظیمیں واداری،سماجی وحقوق انسانی کارکنان ودیگ

Monday, 23 July 2012 08:57

بیان پریس کانفرنس

2:30 بجے سہ پہر،پیر، 9 جولائی 2012ء، ہوٹل سمراٹ انٹر نیشنل ،پٹنہ
’’مسلمانوںد میں خوف و ہراس ‘‘
\ دہشت گردی بلاشک و شبہ ایک لعنت ہی۔ لہٰذا اس کی ہر سطح پر خواہ وہ سرکاری ہو یا غیر سرکاری، مذمت اور اس کے خلاف ایکشن ضروری ہوجاتا ہی۔ اس تعلق سے جہاں سرکار کی جانب سے متعدد اقدامات کئے گئے ہیں وہیں عوامی سطح پر بھی پوری دلچسپی لی گئی ہی۔ ملت اسلامیہ ہند نے بھی مجموعی طور پر وقتاً فوقتاً دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھائی ہی۔ اس تعلق سے سب سے پہلے 8 مارچ 2006ء کو مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیرِ اہتمام انصاری آڈیٹوریم، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی میں ’’دہشت گردی عصر حاضر کا سب سے بڑا ناسور‘‘ کے موضوع پر سمپوزیم ہوا اور اس موقع پر تقریباً 40 علماء کرام کے دستخط سے دہشت گردی مخالف تاریخی اجتماعی فتوی جاری کیا گیا جو کہ دہشت گردی مخالف جنگ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہی۔ بعد ازاں اسی سال 23 جولائی کو اہل حدیث کمپلیکس، ابوالفضل انکلیو، نئی دہلی میں ’’مدارس۔ اسلامیہ دہشت گردی کے اڈّے یا خدمت انسایت کے مراکز‘‘ کے موضوع پر ہوئے سمپوزیم میں اُس وقت کے مرکزی وزیر داخلہ شیوراج پاٹل نے واضح طور پر مدارس کو دہشت گردی سے مستثنیٰ قرار دیا۔ اس سمپوزیم میں سابق وزیراعظم وی پی سنگھ اور وزیر مملکت برائے امور خارجہ ای احمد اہم شرکاء تھی۔ دہشت گردی کے خلاف مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکی ہمہ جہت اور مسلسل کوششوں کی اندرون و بیرون ہند ہمیشہ پذیرائی ہوتی رہی ہی۔ 2-3 مارچ 2012ء کو رام لیلا میدان میںمنعقد ہوئی عظیم الشان آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس کے موقع پر مرکزی وزیر برائے فروغ انسانی وسائل جناب کپل سبل و دیگر شخصیات کے ساتھ ساتھ امام کعبہ ڈاکٹر سعود بن ابراہیم الشریم نے ملک میں دہشت گردی کے خلاف ماحول بنانے میں اس کی کوششوں کو سراہا جو کہ حق و صداقت کا اعتراف جمیل ہی۔
 لیکن ان حقائق کے باوجود اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے مرکزی و ریاستی سطحوں پر جو بھی قوانین بنتے ہیں اُن سے ملک میں اقلیتی طبقات بشمول مسلمانوں کے بے گناہ و معصوم افراد بالخصوص نوجوان زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور پورے معاشرہ میں خوف و ہراس کا ماحول بنتا ہی۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں مرکزی حکومتوں کے ذریعے دو دہشت گردی مخالف قوانین ٹاڈ اور پوٹا کو اپنی اپنی مدت کے پورا ہونے پر توسیع نہیں ملی اور انہیں اپنی موت آپ مرجانے دیا گیا۔ ٹاڈا اور پوٹا کے تحت گرفتار شدگان میں سے اب بھی ایک قابل ذکر تعداد جیل کی آہنی سلاخوں کے پیچھے بند ہے مگر اس کی تفصیل دستیاب نہیں ہی۔
 مسلمانوں کی مختلف جیلوں میں مجموعی صورتحال کیا ہے اور صحیح تعداد کیا ہی، اس تعلق سے 29 اکتوبر 2006ء کو معروف انگریزی روزنامہ ’’انڈین ایکسپریس‘‘ میں صحافی سیما چشتی کی جو خصوصی رپورٹ ’’issing Muslims‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئی تھی، اس کے  بارے میں ان کا یہ دعویٰ تھا کہ وہ دراصل سچر کمیٹی رپورٹ کا جُز تھی اور اس رپورٹ میں اسے جس عنوان کے تحت شامل کیا گیا تھا وہ یہ تھا کہ ’’جیل وہ واحد جگہ ہے جہاں مسلمانوں کو اپنی آبادی کے تناسب سے زیادہ نمائندگی حاصل ہی‘‘۔ مگر جب یہ رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی گئی تب اس میں سے یہ جُز غائب تھا۔ ابھی حال میں ممبئی کی ایک این جی او ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز (ISS) کی اس تعلق سے جو تفصیلی رپورٹ آئی ہے وہ بھی بہت انکشافاتی ہی۔ اس سے مہاراشٹر کی جیلوں میں 37فیصد مسلم قیدیوں کا پتہ چلتا ہی۔
 جہاں تک مسلم نوجوانوں کا معاملہ ہی، انہیں پہلے مدھیہ پردیش، پھر مہاراشٹر، خاص کر ممبئی اور حیدرآباد (آندھرا پردیش) کو نشانہ بنایا گیا اور اس طرح یہاں ان کی گرفتاری کا سلسلہ شروع ہوا۔ بٹلہ ہائوس انکائونٹر کے بعد اعظم گڑھ کو ٹارگیٹ کیا گیا۔ اس کے بعد اب بہار کے دربھنگہ اور مدھوبنی ودیگر مقامات ان کے نشانے پر ہیں۔
 گزشتہ ایک سال میں بہار کے مختلف مقامات سے اب تک بہت سے مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا جاچکا ہی۔ان بدنصیب مسلم نوجوانوں میں سے ایک قتیل صدیقی ہیں جن کی جیل کے اندر ہلاکت نے ملک کے ہرعدل و انصاف پسند شخص کو اس وسوسے میں ڈال دیا ہے کہ کیا جیل جیسی محفوظ جگہ میں بھی مسلمان محفوظ نہیں ہی؟ قتیل صدیقی کے تعلق سے لوک جن شکتی پارٹی کے قومی صدر اور رکن پارلیمنٹ رام ولاس پاسوان کا یہ مطالبہ بہت بروقت ہے کہ ان کے اہل خانہ کو 15 لاکھ روپے معاوضہ دیا جائی۔
 مجموعی طور پر ان سب صورتحال میں مسلم ملت کو سخت خوف و ہراس میں مبتلا کردیا ہے اور یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ ملک میں مظلومین اور کمزوروں کے لیے آئین و قانون کی بالادستی نہیں رہ گئی ہی۔غنیمت ہے کہ ملک میں عدلیہ اپنا کردار ادا کر رہا ہی،لیکن وہ اس قدر مہنگا اور دیر طلب ہے کہ اکثر مظلوم اور اس کے کنبے کی  دسترس سے باہر ہوتاہے اور اس کی زندگی کے اہم ایام اسی مظلومیت میںگھٹ گھٹ کر ختم ہوجاتے ہیں ،جو سب کو معلوم ہی۔
  لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ مرکزی و ریاستی حکومت دونوں اس تعلق سے ضروری کارروائی کرے تاکہ اس طرح کی صورتحال سے جمہوری و سیکولر نظام کو جو خطرہ پیدا ہوگیا ہے وہ دور ہوسکی۔ گرفتار شدگان میں سے جو ملزم قرار دیے جا تے ہیں ان کے خلاف باضابطہ فاسٹ ٹریک عدالت میںمقدمہ چلایا جانا چاہیے ،قصورواروں کو سزا ملے ،جبکہ بے گناہ اور معصوم افراد کو محض ذات یا مذہب کی بنیاد پر خواہ مخواہ ہراساں نہیں کیا جانا چاہیے ۔عامر خان کے معاملہ سے اب کون واقف نہیں ہے ۔چودہ برس جیل میں گزارنے کے بعد وہ تمام الزامات سے بری قرار دیے گئے اور رہا کیے گیی۔اس طرح کے تمام معاملات کے ذمہ دار سرکاری عہدیداران کے خلاف بھی کارروائی کی جانی چاہیے ،اور رہا کیے گئے افراد کی عزت و احترام اور وقار کے ساتھ بازآبادکاری ہونی چاہیی۔اسی طرح دوسری جانب بلا تفریق مذہب و ملت ملک کے تمام حق پسند و انصاف پرور افراد و طبقات سے توقع ہے کہ وہ متحد ہوکر اس صورتحال سے نمٹیں گی۔
 مرکزی جمعیۃ اہل حدیث ہند مرکزی و ریاستی حکومتوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ جو افراد اس کے مختلف مقامات سے اٹھائے گئے ہیں ان کے تعلق سے وہ مناسب و مؤثر انداز سے اقدامات کری۔ مقامی انتظامیہ و پولیس سے بھی یہی گزارش ہے کہ وہ خوف و ہراس کی اس فضا کو ختم کرنے کی کوشش کریں تاکہ معاشرے میں امن و امان کا ماحول قائم رہ سکی۔
جاری کردہ
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند،مسلم تنظیمیں واداری،سماجی وحقوق انسانی کارکنان ودیگ

مؤقر اراکین نے جمعیت کے استحکام اور ملک وملت اورانسانیت کی خدمت کے حوالے سے اہم فیصلے کئی
۵۱جولائی ۲۱۰۲ء
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکے ناظم عمومی مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے اخبار کے نام جاری ایک بیان میں کہاہے کہ آج مورخہ ۵۱جولائی ۲۱۰۲ء بروز اتواربمقام اہل حدیث کمپلیکس اوکھلا ،نئی دہلی،زیر صدارت جناب حافظ محمدیحییٰ دہلوی امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند مجلس عاملہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکی مجلس عاملہ کا ایک غیرمعمولی اجلاس منعقد ہوا۔جس میںپورے ملک سے اراکین مجلس عاملہ وذمہ داران صوبائی جمعیات نے شرکت کی ۔چونکہ یہ اجلاس نئی میقات کااولین اجلاس تھا اس لیے اس میں تنظیمی امور پر خاص طورسے غوروخوض کیا گیااور پالیسی پروگرام کی تعےین کے ساتھ عملی طورپر ان کے نفاذ کے لیے متعدد اہم فیصلے کئے گئی۔اورحسب روایت حرکت ونشاط کے پیش نظرتقسیم کارکوبروئے کار لاتے ہوئے متعددشعبہ جات مثلااوقاف کمیٹی،تعمیرات کمیٹی، رویت ہلال کمیٹی، میڈیا سیل، مجلس تحقیقی علمی وافتاء، مسابقہ حفظ وتجوید وتفسیر قرآن کریم کمیٹی، ریفریشر کورس آرگنائزنگ کمیٹی، کمیٹی برائے نشرواشاعت، کانفرنس کمیٹی، کمیٹی برائے تنظیمی ودعوتی امور، ریلیف ورک کمیٹی، کمیٹی برائے ملکی ، ملی وعالمی مسائل، کمیٹی برائے نصاب تعلیم، اسٹوڈینٹس گائیڈنس سنٹر کمیٹی،وفاق المدارس کمیٹی، ہیئۃ کبارالعلماء کمیٹی، کمیٹی برائے المعہد العالی، صحافت کمیٹی اور لیگل کمیٹی برائے امورمسلم نوجوان کے کنوینرس مقررکیے گئے اور ان کو مکلف کیا گیا کہ وہ اپنی اپنی کمیٹیوںکے اراکین منتخب کرکے متعلقہ شعبہ جات کومنظم وفعال بنائیں اور ملک وملت ، جماعت اورانسانیت کی خدمت جوکہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کا امتیاز ہے ۔اس میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔
مولانا سلفی نے کہا کہ اس اجلاس میں مؤقرہاؤس نے مسلم نوجوانوں کی مشتبہ گرفتاری پر اظہار تشویش کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مسلمانوں کے درمیان خوف وہراس کے ماحول کو جلدختم کرنے کے لیے عملی اقدام کری۔
ناظم عمومی نے مزید کہا کہ مؤقر اراکین نے بعض اشخاص کے ذریعہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ذمہ داران اعلیٰ کے خلاف کورٹ میں مقدمہ دائرکیے جانے کی مذمت کی اوراس پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔نیز مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے نئے انتخابات کے سلسلے میں زردصحافت کی آئینہ دار ایک معروف روزنامہ اوربعض جرائدکے ذریعہ حقیقت کو مسخ کرنے اور غلط پروپیگنڈہ کرنے پر اپنی گہری تشویش کااظہار کیا اور اسے انتخابات کی شفافیت کو مجروح کرنے سے تعبیر کرتے ہوئے اس کی پرزور الفاظ میں مذمت کی۔
انہوںنے کہا کہ مؤقر ہاؤس نے افراد جماعت کی مردم شماری کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے زور دیا کہ صوبائی جمعیتیں اس کام کو منظم انداز میں انجام دیں۔ اوراس کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔نیز یہ بھی طے پایا کہ ملک بھرمیں مساجداہل حدیث کی تفصیلات جمع کی جائیںتاکہ ڈائرکٹری کی شکل میں اس کوشائع کیا جاسکی۔اسی طرح صوبائی جمعیات سے متعلق معلومات پرمشتمل ڈائرکٹری کومنظر عام پرلانے کے لیے صوبائی جمعیات کوتاکید کی گئی کہ وہ مکمل معلومات مرکز کو فراہم کریں۔
پریس ریلیز کے مطابق اس اہم اجلاس میں ملک وملت اورانسانیت کودرپیش مسائل پر بھی غوروخوض کے ساتھ ساتھ سماج میں پھیلی ہوئی اخلاقی برائیوں،جنسی بے راہ روی ،رشوت ستانی کی صورت حال پرتشویش کا اظہار کیا گیا۔حکومت سے وقف ترمیمی بل میں قابل اعتراض امور پرنظر ثانی کی اپیل کی گئی،برما میں بودھسٹ حکومت وعوام کے ذریعہ مسلمانوں پر ہورہے مظالم کی روک تھام کے لیے عالمی برادری سے مؤثرکردار ادا کرنے کی گذارش کی گئی ،فلسطین میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی گئی۔شام میں حکومت کی جانب سے جاری ظلم وبربریت کوتشویش کی نگاہ سے دیکھا گیا ، یوپی کے مختلف مقامات پر فرقہ وارانہ فسادات پر اظہار افسو س کیا گیا ۔برادران وطن سے بھائی چارہ اوریکجہتی بنائے رکھنے کی اپیل کی گئی۔ جماعت اہل حدیث کو بعض اخبارات کے ذریعہ انسانیت دشمن قوتوں کی پیداوار دہشت گردتنظیم القاعدہ ،لشکرطیبہ سے بعض قدیم ترین انسانیت نواز جماعتوں کو جوڑنے کومذموم قرار دیا گیا۔نیزمملکت سعودی عرب کے ولی عہدشہزادہ نائف بن عبدالعزیز کے انتقال کو دین وملت اورانسانیت کا عظیم خسارہ قرار دیاگیااور بعض اہم جماعتی شخصیات کی وفیات پر اظہار افسوس کیا گیا اوراخیرمیں ملکی، ملی وجماعتی امور سے متعلق درج ذیل قرار داد پاس کی گئیں۔
٭  اسلام دین امن وسلامتی اور سراپا رحمت ہی۔اس کی تعلیمات میں ساری انسانیت کے مسائل کا حل موجودہی۔آج انسانیت خاص طورسے امت مسلمہ اس لیے پریشان ہے کہ اس نے قرآن وسنت پر مبنی صحیح اسلامی تعلیمات کوفراموش کردیا ہی۔ اس لیے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس عامۃ الناس خصوصا امت مسلمہ سے اپیل کرتاہے کہ وہ اپنے جملہ مسائل کے حل کے لیے قرآن وحدیث کو صحابہ کرام ؓ کی طرح اپنا آئیڈیل بنائیںاوران کی روشن تعلیمات کوعام کریں۔اسی میں ساری انسانیت کی بھلائی ہے ۔
٭  مجلس عاملہ کا یہ اجلاس ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کے الزام میں معصوم مسلمانوں کی گرفتاری پر شدید غم وغصہ کا اظہار کرتا ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ فاسٹ ٹریک عدالت قائم کرکے گرفتار شدگان کے مسائل کا نپٹارہ کیا جائی۔مجرموں کوقرار واقعی سزا ملی۔لیکن معصوموں کو بلاتاخیر رہا کیا جائے اوران کوقومی سطح پرمحب وطن کے طورپرمشتہر کیاجائی۔ نیز دہشت گردی کے الزام میں جیل کے اندرقید نوجوانوں کا جرم ثابت نہ ہونے کی صورت میں ان کی باز آبادکاری اورمناسب معاوضہ کا اقدام کیاجائی۔ تاکہ مسلمانوں کے اندر جوخوف وہراس کی کیفیت طاری ہے وہ ختم ہواور وہ بلا خوف پرامن زندگی گذارسکیں۔
٭  مجلس عاملہ کا یہ اجلاس ملک میں روز بروز مہنگائی کی بڑھتی ہوئی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے اور حکومت سے اپیل کرتا ہے کہ مہنگائی پر کنٹرول کرنے کی مناسب تدابیر اختیار کرے نیزبنیادی ضرورتوں اور خوردنی اشیاء پر مناسب سبسڈی دے تاکہ عام آدمی اپنی زندگی بسرکرسکے ۔ بصورت دیگر غریبی میں اضافہ ہوگا اور مختلف جرائم پیدا ہوں گی۔
٭  مجلس عاملہ کا یہ اجلاس سماج میں پھیلی ہوئی مختلف قسم کی اخلاقی برائیوں،جنسی بے راہ روی ،چوربازاری اور رشوت ستانی کی صورت حال پر اظہار تشویش کرتا ہے اور محسوس کرتا ہے کہ ان برائیوں کا خاتمہ ہونا چاہئے اور ایک صالح معاشرے کا قیام عمل میں آنا چاہئی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ملی ودینی تنظیمیں اور جماعتیں اورمعزز شہری اصلاح معاشرہ کی مہم شروع کریں اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور اسوہ کی روشنی میں سماجی برائیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں۔
 ٭  مجلس عاملہ کا یہ اجلاس حکومت ہند سے مطالبہ کرتا ہے کہ وقف ترمیمی بل میں قابل اعتراض امور پر نظر ثانی کی جائے کیونکہ اگر بل کے قابل اعتراض مجوزہ نکات کو حذف نہیں کیا گیا تو اس سے ہزاروں وقف اراضی ضائع ہوجائیں گی۔
٭  مجلس عاملہ کا یہ اجلاس برما میں حکومت وعوام کے ذریعہ مسلمانوں کے عرصہ حیات تنگ کیے جانے کی پرزور مذمت کرتا ہے اور عالمی برادری اورحقوق انسانی کے اداروں سے اپیل کرتاہے کہ وہ انسانیت کی بنیاد پر ان مظالم کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدام کریں نیز یہ اجلاس حکومت ہند سے بھی اپیل کرتا ہے کہ وہ برمی پناہ گزینوں کے ساتھ تبتی پناہ گزینوں کی طرح ہمدردی اورانسانیت کا برتاؤ کری۔
٭  مجلس عاملہ کے اجلاس کا احساس ہے کہ فلسطین میںاسرائیل کی جارحیت مصالحتی اٹھک بیٹھک کے سائے میں نقطہ عروج کو پہنچ چکی ہے اور اس کی ساری گھنائونی کاوشیں اس پر لگ گئی ہیں کہ وہ اسلامی مقدس مقامات کو تباہ و برباد کردی، قبلہ اول کو ڈھادے اور فلسطینیوںکی نسل کشی کر ڈالے اور ان پر عرصہ حیات تنگ کردی۔ یہ اجلاس حسب سابق اسرائیل کی بھی بھر پور مذمت کرتا ہے اور اس طرح اس کے مظالم میں ساتھ دینے والوں کے رویے پر تشویش کا اظہار کرتا ہے اور فلسطینی کاز سے ہمدردی رکھنے والوں کی ستائش کرتا ہی۔
٭  مجلس عاملہ کا یہ اجلاس حکومت شام کی جانب سے ملک میں جاری ظلم وبربریت کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور عالمی برادری سے اپیل کرتا ہے کہ ملک میں خون خرابے کو فوری طور پر روکا جائے اور عوام کی مرضی کے مطابق اقتدار کی منتقلی کا راستہ ہموار کرنے میں اپنا ذمہ دارانہ کرداراد کریں۔
٭  مجلس عاملہ کا یہ اجلاس حالیہ دنوں ملک کے مختلف حصوں خصوصا یوپی کے مختلف اضلاع میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات پر اظہار افسوس کرتا ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ اس کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کرے نیز جملہ برادران وطن سے بھائی چارہ و یکجہتی بنائے رکھنے اورفرقہ پرستوں اورفسطائی قوتوں کے عزائم کوناکام بنانے کی اپیل کرتا ہی۔
٭  مجلس عاملہ کا یہ اجلاس مولانا عبدالوہاب خلجی کے ذریعہ جمعیت کے ذمہ داران کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائرکرنے پراپنی شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے مذمت کرتا ہے اورذمہ داران کو تاکید کرتاہے کہ وہ قانونی کارروائی کو آگے بڑھائیں۔نیز یہ اجلاس اس حرکت کوشوری کے خلاف ناروا اقدام قرار دیتاہی۔
٭  مجلس عاملہ کا اجلاس پچھلے دنوں ایک بے اعتبارروزنامہ اوربعض مجلات کے ذریعہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے انتخاب جدید کے تعلق سے جوغلط بیانی کرکے انتخاب کی شفافیت کو مجروح کرنے کی کوشش ہوئی ہی۔اورجوغلط پروپیگنڈہ کیاہے اورہاتھا پائی کا جو گھناؤنا مجرمانہ الزام عائدکیا ہے اس کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتاہی۔
٭  مجلس عاملہ کا یہ اجلاس معروف انگریزی روزنامہ دی ہندستان ٹائمز کے ۲۱جولائی ۲۱۰۲ کے شمارے میں کسی شیشر گپتا کی رپورٹ Alqaida has Wahhabi Links کی بھرپور مذمت کرتاہے اور اسے زرد صحافت کا آئینہ دار قراردیتا ہی۔کیوں کہ اس میں انسانیت دشمن قوتوں کی پیداوار دہشت گرد تنظیم القاعدہ اور لشکر طیبہ سے بعض قدیم ترین انسانیت نوازجماعتوں کو جوڑنے کی مذموم حرکت کی گئی ہی،جس سے کروڑوں انسانوں کی دل آزاری ہوئی ہے ۔یہ اجلاس اس طرح کے ہفوات اور غلط پرو پیگنڈوں کی جہاں بھرپور مذمت اور تردید کرتا ہے وہاںمذکورہ اخبار سے اپیل کرتا ہے کہ اس طرح کے صحافیوں کے خلاف تادیبی کارروائی کری،اس طرح کے غلط پرو پیگنڈوں کی تشہیر پر معافی مانگے اور تردید شائع کری۔نیز اس طرح کی دہشت گردانہ اور غلط تحریر شائع کرنے سے پرہیز کری۔
٭  مجلس عاملہ کا یہ اجلاس عصرحاضر میں سلفیت کے عظیم نقیب ومناد مملکت سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ نایف بن عبدالعزیز کے انتقال پر گہرے رنج وافسوس کا اظہار کرتاہے اوران کی موت کودین وملت ،انسانیت اورسلفیت کا عظیم خسارہ قرار دیتاہے اوردعا گوہے کہ بارالہ ان کی مغفرت فرما، ان کی خدمات جلیلہ کوقبول فرما، نیز مجلس عاملہ کایہ اجلاس اس موقع پر مملکت سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود ، شاہی خاندان اور سعودی علماء وعوام کو قلبی تعزیت پیش کرتاہی۔
٭  مجلس عاملہ کا یہ اجلاس شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کومملکت توحید سعودی عرب کا نیا ولی عہد منتخب کیے جانے پر مملکت سعودی عرب کے فرمانرواخادم حرمین شریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود ،شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، مؤقر شاہی خاندان اورسعودی عرب کے علماء ومشائخ اور عوام کو دلی مبارکبادپیش کرتاہے اورتوقع کرتاہے کہ ان کے ذریعہ مملکت توحید ،عالم اسلام اورعام انسانیت کی فلاح وبہبود اور قیام امن کے حوالے سے کارہائے نمایاں انجام پائیںگے اورسابق ولی عہد شہزادہ نایف بن عبدالعزیز کے ذریعہ جاری کے گئے اصلاحی وتعمیری ، دینی وقومی اور انسانی حیثیت کے کاموں کومزیدرفتاردیںگی۔
!٭  مجلس عاملہ کایہ اجلاس مجلس تحقیق علمی مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے سابق رفیق معروف عالم دین مولانا عبیدالرحمن مدنی، سابق امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث ممبئی، مولانا عبدالحق قاسمی رکن مرکزی عاملہ وشوری مولانا عبدالرحمن مبارکپوری کی اہلیہ اوررکن مرکزی مجلس عاملہ وشوری اور مرکزی جمعیت کے جرائد ورسائل کے پرنٹروپبلشرخواجہ قطب الدین صاحب کی اہلیہ وغیرہ کی وفات پر اپنے رنج وغم کااظہار کرتاہے اوررب العالمین سے دعا گوہے کہ وہ ان کی لغزشوں سے درگذر فرمائے اوران کی حسنات کوقبول فرماکر جنت الفردوس میں جگہ دے اور درجات کوبلند کری۔ آمین

دہلی۶جولائی ۲۱۰۲ء
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے اخبار کے نام جاری ایک بیان میں سابق امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث ممبئی معروف عالم دین مولانا عبدالحق قاسمی کے انتقال پر گہرے رنج وافسوس کا اظہارکیا ہے اوران کی موت کو ملک وملت اور جماعت کا خسارہ قرار دیا ہے ۔
انہوںنے کہا کہ مولانا عبدالحق قاسمی صاحب جن کاآج صبح انتقال ہوگیا ،نے ایسے وقت میں جمعیت کی خدمت کی جب ممبئی میں تنظیم ابتدائی مرحلے میں تھی۔ آپ کئی سال تک مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس شوری کے رکن رہی۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائی، خدمات کو قبول کرے اورپسماندگان کو صبرجمیل کی توفیق ارزانی فرمائی۔آمین
پریس ریلیز کے مطابق مرکزی جمعیت کے امیر جناب حافظ محمد یحییٰ دہلوی ودیگر ذمہ د اران وکارکنان نے بھی اظہار غم افسوس کیا ہے اوران کی مغفرت کے لیے دعا گوہیں

دہلی:۶۲جون ۲۱۰۲ء
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے اخبار کے نام جاری ایک بیان میںمعروف عالم دین اورمرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے سابق مفتی مولانا عبیدالرحمن بن عصمت اللہ مدنی کے انتقال پر رنج وافسوس کا اظہار کیاہے اور ان کی موت کو دین وملت کا بڑا خسارہ قرار دیا ہی۔
انہوںنے کہا کہ مولانا عبیدالرحمن مدنی کی زندگی علم وتحقیق اور تعلیم وتعلم میں بسرہوئی اورانہوںنے اپنے گہرے علم سے ہزاروں طالبان علوم نبوت اورعام لوگوں کو فائدہ پہنچایا ۔آپ بڑے ذی علم ،باصلاحیت،معاملہ فہم اورمتدین انسان تھی۔مسائل پرآپ کی گہری نظر تھی اورعلم فرائض ومیراث میں بڑی مہارت حاصل تھی۔
5
مولانا نے کہا کہ مولانا عبیدالرحمن مدنی صاحب جن کا کل مورخہ ۵۲جون ۲۱۰۲ئ؁ کو شام کے وقت بعمر۲۶سال انتقال ہوگیا۔اترپردیش کی معروف مردم خیزعلمی سرزمین مئوکے علمی خانوادہ میں ۲مئی ۰۵۹۱ئ؁ کو پیدا ہوئی۔ آپ کے والد مولانا حکیم عصمت اللہ رحمانی یگانہ روزگارعالم دین تھی۔مولانا کی ابتدائی تعلیم جامعہ اثریہ مئو میں حاصل کی ۔ پھرجامعہ اسلامیہ فیض عام میں کسب فیض کیا۔ جامعہ سلفیہ بنارس سے فضیلت کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ تشریف لے گئی۔اوروہاںسے بی اے کی سند حاصل کی۔ بعدازاں مدرسہ شمس الہدی دلال پور مغربی بنگال بحیثیت مدرس تشریف لے گئی۔ اوروہاںہزاروں تشنگان علوم نبوت کوگہرے علمی وتعلیمی تجربات سے سیراب کیا۔ کچھ دنو ںکے بعد مدرسہ ریاض العلوم دہلی کے شعبہ تعلیم اورمرکزی جمعیت اہل حدیث کی مجلس تحقیق علمی وشعبہ افتاء سے وابستہ ہوگئی۔ یہاں آپ نے تقریبا دس سالوں تک افتاء اور دعوت وتبلیغ کی خدمت انجام دی۔قیام دہلی کے دوران انہوںنے دہلی یونیورسٹی سے امتیازی نمبرات کے ساتھ ایم اے پاس کیا اورگولڈمیڈل حاصل کیا۔ آپ نے دہلی چھوڑنے کے بعد جامعہ اثریہ دارالحدیث مئو میں درس وتدریس کا فریضہ انجام دیا۔ حالیہ دنوں آپ تحریک شہیدین ،علماء ومشائخ اورآزادی وطن کے جیالوں کے عظیم مرکز مدرسہ شمس الہدی دلال پورمغربی بنگال میں مدرس تھی۔ آپ کے پسماندگان میں ۳لڑکے اوراہلیہ ہیں۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائی۔ ان کی خدمات کو قبول کرے جنت الفردوس کا مکین بنائے اورپسماندگان کو صبرجمیل کی توفیق ارزانی فرمائے

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی کی مبارکباد
دہلی:۰۲جون ۲۱۰۲ء
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے اخبار کے نام جاری ایک بیان میںخادم حرمین شریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود کے شاہی فرمان کے ذریعہ شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کو مملکت سعودی عرب کا نیا ولی عہد مقرر کیے جانے پر شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود ، شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور دیگر اعیان مملکت و سعودی عوام کو دلی مبارک باد پیش کی ہے اورکہا ہے کہ شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز کے ولی عہد بنائے جانے سے خطے میں استحکام واستقرار اور امن وامان کی صورت حال میں مزید اضافہ ہوگا،ان کی اعلیٰ ملکی وانتظامی صلاحیت اور طویل سیاسی تجربات سے ملک مزید ترقی سے ہمکنار ہوگا اور دینی،ملکی وانسانی کاز کو تقویت ملے گی۔
مولانا نے کہا کہ توقع ہے کہ نئے ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز اپنے پیش روشہزادہ نایف بن عبدالعزیز آل سعود کے ذریعہ جاری کیے گئے متنوع ملکی ،سماجی، تعلیمی ، سیاسی ، علمی ،دینی ، انسانی اوراصلاحی کاموں کواسی دینی،ایمانی اورعربی جذبے کے ساتھ جاری رکھیںگی۔
ناظم عمومی  نے کہا کہ شہزاد ہ سلمان بن عبدالعزیز جن کی پیدائش ریاض کے اندر۵۳۹۱ء میں ہوئی تھی، تقریبا ۰۶سالوں سے سیاسی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ اس دوران وہ حکومت کے مختلف اہم عہدوں پر فائز رہی۔ ۴۵۹۱ء میں ریاض کے قائم مقام گورنر اور ۵۵۹۱میں گورنر اوروزیربنے ، پھر۱۱۰۲ء میں وزیر دفاع بنائے گئے اور شہزادہ نائف بن عبد العزیز کے انتقال کے بعد انھیں کوگزشتہ ۸۱جون ۲۱۰۲ء کو شاہی فرمان کے ذریعہ مملکت سعودی عرب کا ولی عہد اور نائب وزیراعظم اوروزیردفاع بنایا گیا۔امیرسلطان بن عبدالعزیز ۶۵۹۱ء سے اب تک درجنوں علمی، تعلیمی، سماجی اصلاحی ،ملکی وسیاسی اداروں کے صدرنشیں اورذمہ داراعلیٰ ہیں۔مثلا ریاض چیریٹیبل فاؤنڈیشن برائے سائنس،امیر سلمان ایوارڈبرائے حفظ قرآن کریم،سعودی مرکز برائے پیوندکاری اعضاء ،بورڈآف ڈائریکٹرزمرکز برائے تاریخ مکہ مکرمہ ومدینہ منورہ وغیرہ

Tuesday, 19 June 2012 09:49

OBITUARIES

Dr. Yunus Arshad Balrampuri, a well known writer and poet of national repute, deputy Ameer, Punjab unit of Jamiat Ahle Hadeeth passed away on March 11, 2012. He was approximately 65 years old. He is survived by wife, three sons and three daughters.

He was born on August 21, 1948 at Balrampur (UP). He started his early education at Madrasa Faize Aam, Mau, then Jamia Salafia Benaras of Darse Nizami. He got his professional degree of B.U.M.S. from Tibya College, Delhi and as a medical officer devoted his time to serve the nation and humanity in Punjab.

After retirement from government service on August 31, 2006 he opted to reside permanently at Maler Kotla (Punjab)

The General Secretary, Maulana Asghar Imam Mahadi Salafi, in his condolence message to the family, expressed shock over his death and appreciated his Jamaati services and tireless endeavours for the cause of Islam.

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیرحافظ محمد یحییٰ دہلوی اورناظم عمومی مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی کاتعزیتی پیغام
دہلی:۶۱جون۲۱۰۲ء
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیرحافظ محمدیحییٰ دہلوی اور ناظم عمومی مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے اخبار کے نام جاری ایک بیان میںمملکت سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ نائف بن عبدالعزیزآل سعودکے سانحہ انتقال پرگہرے رنج وافسوس کا اظہار کیاہے اوران کی موت کو مملکت سعودی عرب ہی نہیں بلکہ پوری اسلامی وانسانی دنیا کا عظیم خسارہ قرار دیاہی۔ انہوںنے کہا کہ شہزادہ نائف بن عبدالعزیز جن کا انتقال آج بعمر۸۷سال سوئیزرلینڈ کے جینواشہرمیں ہوگیا،پوری دنیا میں امن وشانتی کے نقیب، انسانیت کے بہی خواہ اورسلفیت کے مناد تھی۔بلاشبہ آج عالم اسلام بلکہ دنیائے انسانیت ایک عظیم رہنما اوربڑے محسن وبہی خواہ سے محروم ہوگئی۔ان کے ہمہ جہت روشن کارنامے ہمیشہ یاد کیے جائیںگی۔
انہوں نے کہا کہ شہزادہ نائف بن عبدالعزیز کو خادم حرمین شریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود کے ذریعہ مملکت سعودی عرب کا ولی عہد مقرر کیے جانے سے خطے میں استحکام واستقرار اور امن وامان کی صورت حال میں مزید اضافہ ہوا،ان کی اعلیٰ ملکی وانتظامی صلاحیت اور طویل سیاسی تجربات سے ملک مزید ترقی سے ہمکنار ہوا اور دینی،ملکی وانسانی کاز کو تقویت ملی۔
انہوںنے اپنے بیان میںخادم الحرمین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیزآل سعود،شاہی خاندان اور سعودی عوام کوقلبی تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہزادہ نایف بن عبدالعزیز ایک مضبوط وبااثر شخصیت کے مالک تھے ۔ انہوں نے بڑی کامیابی ومستعدی کے ساتھ ملک کے اند ر وباہر دہشت گردی کے قلع قمع کرنے کے حوالے سے صرف جزیرۃ العرب سے ہی نہیں بلکہ مغربی دنیا سے بھی خراج تحسین حاصل کیا ۔ کیوں کہ دہشت گردی کے خلاف مسلسل کامیاب کوششوں کی وجہ سے ان کی شخصیت اور امن واستقرار ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم ہوگئے تھی۔ مملکت سعود ی عرب میں امن وامان کا تذکرہ کرتے ہی شہزادہ نایف کا تصور ابھر کر سامنے آجاتاہے ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا اعتراف اپنوںہی نہیں غیر وں نے بھی کیا ہی۔ اللہ ان کی مغفرت کرے اور عالم اسلام خصوصا مملکت توحیدسعودی عرب کوان کا نعم البدل عطا فرمائی۔
انہوں نے کہا کہ شہزاد ہ نایف بن عبدالعزیز جن کی پیدائش طائف کے اندر ۳۳۹۱ء میں ہوئی تھی، جن کا نمبر شاہ عبدالعزیز کے بیٹوں میں۲۳واں تھا اورجن کی تعلیم وتربیت مختلف علوم وفنون کے اکابرعلماء کی نگرانی میں ہوئی تھی،تقریبا ۰۶ سالوں سے سیاسی خدمات انجام دے رہے تھے ۔ اس دوران وہ حکومت کے مختلف اہم عہدوں پر فائز رہی۔ ۳۵۹۱ء میں ریاض کے گورنر بنی، شاہ فیصل بن عبدالعزیز آل سعود نے ۰۷۹۱ میں انہیں نائب وزیر داخلہ مقرر کیاتھا ، پھر ۴۷۹۱ء میں وزیر داخلہ بنائے گئے ،جب کہ مارچ ۹۰۰۲ء میںان کونائب وزیر اعظم مقرر کیاگیا۔اس کے علاوہ وہ سعودی کمیٹی برائے انتفاضہ القدس کے سپر وائزر جنرل اور سپریم کونسل برائے اطلاعات اور حج کے سربراہ بھی تھی۔ وہ ولی عہدبنائے جانے سے قبل خادم حرمین شریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز اور اپنے پیش رو شہزادہ سلطان بن عبد العزیز کی عدم موجودگی میں کابینہ کے اجلاس کی صدارت بھی کرتے تھی۔ جس سے ان حسن تدبیر ،قائدانہ بصیرت اور انتظامی صلاحیتوں کا اندازہ ہوتا ہی۔اس کے علاوہ بھی وہ درجنوں علمی ،تحقیقی،تعلیمی،سماجی،انتظامی،رفاہی اورسیاسی مجالس اورکمیٹیوں کے مشرف اعلیٰ اور صدرنشیں تھی۔جن میں امیرنائف بن عبدالعزیزایوارڈ برائے سنت نبوی ؐ واسلامک اسٹڈیز،ہیومن ڈپلومنٹ فنڈ کمیٹی،سعودی سوسائٹی برائے وسائل اعلام،سعودی کمیٹی برائے رفاہ عامہ وانسانی خدمات،مین پاور کمیٹی،ریسرچ اینڈجنرل پروپیگنڈہ بورڈ،اعلیٰ کمیٹی برائے ذرائع ابلاغ،اعلیٰ کمیٹی برائے اسلامی امورقابل ذکرہیں۔وہ بلاشبہ ناصر السنہ تھی،انہوںنے امیرنائف ایوارڈبرائے سنت نبوی واسلامک اسٹڈیزکے ذریعہ پوری دنیا میں حدیث کی بڑی خدمت کی۔
ناظم عمومی نے کہا کہ شہزادہ نایف بن عبدالعزیز سعودی عوام اور انسانیت کے بڑے بہی خواہ اور ہمدرد تھی۔ یہی وجہ ہے کہ مملکت سعودی عرب ہی نہیں بلکہ دنیا کے کسی بھی خطے میں آفت ناگہانی آتی اور انسانیت اس سے متاثر ہوتی تھی تو ان کا دل تڑپ اٹھتا تھا اور وہ متاثرین کی امداد وخیر خواہی کے لیے آگے آتے تھے ۔ ان کی دوبیویاں تین بیٹے اور چھ بیٹیاں ہیں۔
پریس ریلیز کے مطابق امیرنائف بن عبدالعزیز کے انتقال پر مرکزی جمعیت کے دیگر ذمہ داران ،اراکین مجالس عاملہ وشوری، ذیلی جمعیات کے ذمہ داران، وکارکنان نے بھی گہرے رنج وافسوس کااظہار کیاہے اوردعاگوہیں کہ بارالہ ان کی مغفرت فرما۔ ان کی خدمات کو شرف قبولیت بخش ۔مملکت سعودی عرب کے فرمانروا، شاہی خاندان اور سعودی عوام کو صبرکی توفیق ارزانی فرما

دہلی۲جون۔مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکے ناظم عمومی مولانااصغرعلی امام مہدی سلفی نے اپنے ایک اخباری بیان میںگذشتہ کل متھراکے کوسی کلاں قصبہ میں ہوئے بھیانک فساد کو فرقہ پرستوں کی گہری سازش کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے انتہائی تشویش کا اظہارکیاہے  اورکہاہے کہ فرقہ پرست عناصرکافی عرصہ سے  علاقہ کی پرامن  فضا کو مکدرکرنے کی کوشش کررہے تھے آخرکارانتظامیہ کی لاپرواہی نیزحفاظتی دستوں کے جانبدارانہ رویہ کے باعث وہ اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب ہوگئے اورایک بار پھرشرپسندوں کو اقلیتوںکے مذہبی مقامات کونقصان پہنچانے اوران کے جان ومال سے کھلواڑ کرنے کا موقع مل گیا۔ دنگائیوں نے اقلیتی فرقے کی عبادت گاہوں کونقصان پہنچانے کے علاوہ دکانوں ومکانوں کو چن چن کرلوٹا اورنذرآتش کیا۔قصبے اورقرب وجوارکی صورت حال ابھی بھی تشویشناک بنی ہوئی ہے ، جس پرفوری کنٹرول کی ضرورت ہی۔
مولانانے کہاکہ حالات کے بے قابو ہونے میںبعض پولیس افسران کی لاپرواہی نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ ایسے افسران کو برطرف کیاجائے اور ان کے خلاف سخت  کار روائی کی جائے تاکہ ایسے لوگوں کو اپنی منصبی ذمہ داری کا احساس رہی۔ نیزمطالبہ کیاکہ آئندہ کے لئے اقلیتوں کے جان ومال کے تحفظ کے پختہ انتظامات کرے ۔انہوں نے عوام سے  اپیل کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ حالات میںسیکولر طاقتوںکی ذمہ داری ہے کہ وہ  متحد ہوکرروایتی قومی یکجہتی اور امن وآشتی کے دشمن فرقہ پرستوں کو ان کے ناپاک عزائم میںبہر صورت ناکام بنادیں اور اس کے لئے اپنا سیکولرکردار اداکرتے ہوئے ایماندارانہ کوشش کریں، نیز غلط پروپیگنڈوں اورافواہوں پر دھیان نہ دیں۔کیونکہ وطن و انسانیت کی بھلائی اسی میںہی۔
ناظم عمومی نے اپنے اخباری بیان میں فساد میں جاں بحق ہونے والے افراد کے اہل خانہ  سے اظہار تعزیت نیز متاثرین سے اظہارہمدردی کیا ہے اورعوام سے  صبروتحمل سے کام لینے کی اپیل کی ہے نیزحکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پرحالات کومعمول پر لانے کی کوشش اورفساد میں ہونے والے نقصانات کا خاطر خواہ معاوضہ اداکرے اور بھائی چارے کی فضا کو برباد کرنے کی کسی کو بھی اجازت نہ دے نیز اصل مجرمین کوجلد از جلد گرفتارکرکے قرار واقعی سزادے تاکہ بیمار ذہنیت کا علاج ہوسکی۔

دہلی۲جون۔مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکے ناظم عمومی مولانااصغرعلی امام مہدی سلفی نے اپنے ایک اخباری بیان میںگذشتہ کل متھراکے کوسی کلاں قصبہ میں ہوئے بھیانک فساد کو فرقہ پرستوں کی گہری سازش کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے انتہائی تشویش کا اظہارکیاہے  اورکہاہے کہ فرقہ پرست عناصرکافی عرصہ سے  علاقہ کی پرامن  فضا کو مکدرکرنے کی کوشش کررہے تھے آخرکارانتظامیہ کی لاپرواہی نیزحفاظتی دستوں کے جانبدارانہ رویہ کے باعث وہ اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب ہوگئے اورایک بار پھرشرپسندوں کو اقلیتوںکے مذہبی مقامات کونقصان پہنچانے اوران کے جان ومال سے کھلواڑ کرنے کا موقع مل گیا۔ دنگائیوں نے اقلیتی فرقے کی عبادت گاہوں کونقصان پہنچانے کے علاوہ دکانوں ومکانوں کو چن چن کرلوٹا اورنذرآتش کیا۔قصبے اورقرب وجوارکی صورت حال ابھی بھی تشویشناک بنی ہوئی ہے ، جس پرفوری کنٹرول کی ضرورت ہی۔
مولانانے کہاکہ حالات کے بے قابو ہونے میںبعض پولیس افسران کی لاپرواہی نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ ایسے افسران کو برطرف کیاجائے اور ان کے خلاف سخت  کار روائی کی جائے تاکہ ایسے لوگوں کو اپنی منصبی ذمہ داری کا احساس رہی۔ نیزمطالبہ کیاکہ آئندہ کے لئے اقلیتوں کے جان ومال کے تحفظ کے پختہ انتظامات کرے ۔انہوں نے عوام سے  اپیل کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ حالات میںسیکولر طاقتوںکی ذمہ داری ہے کہ وہ  متحد ہوکرروایتی قومی یکجہتی اور امن وآشتی کے دشمن فرقہ پرستوں کو ان کے ناپاک عزائم میںبہر صورت ناکام بنادیں اور اس کے لئے اپنا سیکولرکردار اداکرتے ہوئے ایماندارانہ کوشش کریں، نیز غلط پروپیگنڈوں اورافواہوں پر دھیان نہ دیں۔کیونکہ وطن و انسانیت کی بھلائی اسی میںہی۔
ناظم عمومی نے اپنے اخباری بیان میں فساد میں جاں بحق ہونے والے افراد کے اہل خانہ  سے اظہار تعزیت نیز متاثرین سے اظہارہمدردی کیا ہے اورعوام سے  صبروتحمل سے کام لینے کی اپیل کی ہے نیزحکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پرحالات کومعمول پر لانے کی کوشش اورفساد میں ہونے والے نقصانات کا خاطر خواہ معاوضہ اداکرے اور بھائی چارے کی فضا کو برباد کرنے کی کسی کو بھی اجازت نہ دے نیز اصل مجرمین کوجلد از جلد گرفتارکرکے قرار واقعی سزادے تاکہ بیمار ذہنیت کا علاج ہوسکی۔

Page 5 of 7

The Collective Fatwa against Daish and those of its ilk