Press Release

Children categories

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کا راحتی وفد زلزلہ متاثرین کی راحت رسانی کے لیے روانہ

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کا راحتی وفد زلزلہ متاثرین کی راحت رسانی کے لیے روانہ (80)

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے اخبار کے نام جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ وطن عزیز اور پڑوسی ملک نیپال میں آئے تباہ کن زلزلے سے متاثرین کی راحت رسانی کے لیے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کا ایک راحتی وفد آج متاثرہ مقامات کے لیے روانہ ہوا۔ جووہاں پہنچ کر متاثرین کے مابین ریلیف و راحتی اشیاءتقسیم کرے گا اور وہاں کی صحیح صورت حال کا جائزہ لے کر مرکز کو آگاہ کر ے گا تاکہ متاثرین کی باز آباد کاری کے لیے مرکز سے ہر ممکن تعاون ارسال کیا جاسکے۔

پریس ریلیز کے مطابق مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے اس راحتی وفد کی سربراہی مولانا محمد علی مدنی ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث بہار کررہے ہیں اور اس وفد میں مولانا محمد ہاشم سلفی اور مولانا کلیم اللہ انصاری سلفی وغیرہ شریک ہیں۔

ناظم عمومی نے اپنے بیان میں عوام وخواص سے اپیل کی ہے کہ مصیبت کی اس گھڑی میں وطن عزیز اور پڑوسی ملک کے زلزلہ متاثرین کی راحت رسانی اور باز آباد کاری کے لیے اپنا بھر پور تعاون پیش کریں۔

واضح ہو کہ مورخہ ۵۲/ اپریل کو پڑوسی ملک نیپال میں ایک بڑا زلزلہ آیا تھا جس سے بہا ، یوپی اور مغربی بنگال وغیرہ صوبوں کے متعدد علاقے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ مذکورہ وفد ان تمام علاقوں کا دورہ کرے گا۔

جاری کردہ

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند

View items...


دہلی: ۷۱/اکتوبر ۲۱۰۲ء
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے اخبار کے نام جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ آج مورخہ ۷۱/اکتوبر۲۱۰۲ء بروز بدھ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت جناب حافظ محمد یحییٰ دہلوی ،ا میر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند بمقام اہل حدیث کمپلیکس اوکھلا ، نئی دہلی منعقد ہوا جس میں ملک کے تمام صوبوں سے موقر اراکین عاملہ و ذمہ داران صوبائی جمعیات اہل حدیث شریک ہوئے ۔ ان موقر اراکین عاملہ و صوبائی جمعیات کے ذمہ داران نے بیک زبان مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر جناب حافظ محمد یحییٰ دہلوی اور ناظم عمومی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کی قیادت میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند سے اپنی والہانہ وابستگی کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم موجودہ ذمہ داران کی قیادت میں ملکی سطح پر متحد و منظم ہیں۔
موقر اراکین نے کہا کہ مرکزی جمعیت کے اندر کسی طرح کی بیجا مداخلت یا جمعیت و جماعت کے اندر انتشار و فساد پھیلانے کی کسی طرح کی بھی کوشش نا قابل برداشت ہے ۔ نیز موقر ہائوس نے جمعیت مخالف سرگرمیوں میں ملوث لوگوں کے خلاف سخت نوٹس لیتے ہوئے ان کو موقع دیا کہ وہ ایک مہینہ کے اندر اپنی غیر دستوری جمعیت کو تحلیل کردیں اس کے بعد ہی کسی طرح کی بھی گفتگو دستورکی روشنی میں ممکن ہوسکے گی۔

ملک کے بیشتر صوبوں سے اراکین کی شرکت ۔ جناب حافظ محمد یحییٰ دہلوی اورمولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کی قیادت میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند سے اپنی والہانہ وابستگی اور اعتماد کا اظہار
دہلی۱۱/مارچ ۳۱۰۲ء
[مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے اخبار کے نام جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ آج مورخہ۰۱/مارچ ۳۱۰۲ء بروز اتوار مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت جناب ڈاکٹر سید عبدالحلیم صاحب نائب ا میر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند بمقام اہل حدیث کمپلیکس اوکھلا ، نئی دہلی منعقد ہوا جس میں ملک کے تمام صوبوں سے موقر اراکین عاملہ و ذمہ داران صوبائی جمعیات اہل حدیث شریک ہوئے ۔ اور مختلف دینی، ملی، جماعتی، ملکی اور انسانی مسائل پر غور و خوض کیا اور ان کے حل کے لیے مناسب تدابیر کی گئیں۔ من جملہ ان امور کے ناظم عمومی نے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے مختلف صوبوں کے ذریعہ ہمہ جہت دینی، ملی، جماعتی اور انسانی خدمات پر مشتمل رپورٹ پیش کی جس پر موقر ہائوس نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا ۔ اجلا س میں طے پایا کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام بتیسویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس منعقد کی جائی۔ تاریخ اور مقام کی تعین عاملہ کی اگلی میٹنگ میں کی جائے گی۔ حسب ایجنڈااجلاس میں ناظم مالیات الحاج وکیل پرویز نے سالانہ آمد وخرچ کی مکمل تفصیل پیش کی جس کو ہائوس نے کافی تشفی بخش بتایا۔ اسی طرح ہائوس نے آسام فساد متاثرین کی باز آباد کاری کے لیے کئے گئے مکانات کی تعمیر کی رپورٹ پیش کی گئی اور اس سلسلے میں ہورہی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ نیز طے پایا کہ مرکزی جمعیت کے ذمہ داران اور مجالس عاملہ و شوریٰ کے موقر اراکین کے خلاف کسی طرح کی ہرزہ سرائی ناقابل برداشت ہی۔ ہیئۃ کبار علماء بنانے کے لیے مولانا طہٰ سعید

دہلی،۲اپریل۔ ۳۱۰۲ء
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیرمحترم حافظ محمدیحيٰ،ان کے نائبین ڈاکٹر سیدعبدالحلیم، مولاناحافظ شیخ عین الباری عالیاوی، جناب الحاج وکیل پرویز ناظم مالیات اورمولانا ریاض احمدسلفی نائب ناظم مرکزی جمعیت اور مجلس عاملہ کے ارکان مولاناعبدالقدوس عمری امیرصوبائی جمعیت اہل حدیث مدھیہ پردیش، حافظ عبدالقیوم ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث آندھراپردیش، مولانامحمدہارون سنابلی ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث مغربی یوپی، جناب، غلام رسول ملک و عبدالرحمن بٹ امیر وناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث جموں وکشمیر وغیرہم کی مشترکہ پریس ریلیز میں گذشتہ دنوں ایک اردو روزنامے میں شائع خبر کی شدیدالفاظ میں تردید ومذمت کی گئی ہے جس میں مرکزی جمعیت کے ناظم عمومی پر یہ الزام لگایاگیاہے کہ انہوں نے جمعیت کا ایشوعدلیہ میں پہنچاکرناعاقبت نااندیشی کا ثبوت دیاہی۔ درحقیقت ناظم عمومی کا یہ اقدام نہیں ہے بلکہ مجلس عاملہ کی ایک میٹنگ میں مرکزی جمعیت کے ذمہ داران اورجملہ ارکان عاملہ وذمہ داران صوبائی جمعیات کا مشترکہ فیصلہ تھا جس کی تعمیل کی گئی ہی۔ نیز یہ کہ یہ دعویٰ انتشار اور غلط فہمی پھیلانے پر روک لگانے اور حکم امتناعی کے لیے کیا گیا ہے کہ وہ جمعیت کا غلط استعمال نہ کریں ۔ اراکین عاملہ نے اس بات کی بھی سخت الفاظ میں تردیدکی ہے کہ ناظم عمومی نے مقدمہ بازی کی شروعات کرکے ایک غلط پہل کی ہے جبکہ مقدمہ بازی کی ابتدا الزام لگانے والوں کی طرف سے اس وقت کردی گئی تھی جب انہوں نے امیر جمعیت حافظ محمدیحيٰ دہلوی اور ناظم عمومی مولانااصغر علی امام مہدی سلفی کے خلاف کچھ دنوں قبل ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا۔

دہلی۹اکتوبر ۲۱۰۲ء
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے اخبار کے نام جاری ایک بیان میں     جامعہ اسلامیہ بھوارہ مدھوبنی کے موقر استاذ   مولانا  مطیع الرحمن مدنی کے انتقال پر گہرے رنج وافسوس کا اظہارکیا ہے اوران کی موت کو ملک وملت اور جماعت کا  بڑا خسارہ قرار دیا ہے ۔
انہوںنے کہا کہ مولانا  مطیع الرحمن مدنی صاحب جن کاآج صبح   طویل علالت کے بعد دہلی کے  ایمس اسپتال میں انتقال ہوگیا ، وہ جماعت کے معتبر ادارہ  جامعہ امام ابن تیمیہ، بہار میں کئی سالوں تک درس و تدریس کا فریضہ انجام دیتے رہے اور خدیجۃ الکبریٰ کے پرنسپل بھی رہی،  جامعہ ابو ہریرہ الاسلامیہ لال گوپال گنج ، الہ آباد، جامعہ ابو بکر الصدیق، برندا بن مغربی چمپارن میں تدریسی ، تربیتی اور دعوتی خدمات انجام دیں۔ آپ جامعہ اسلامیہ بھوارہ کے فارغ التحصیل اور جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے فاضل تھے ۔ آپ کا تعلق ایک معتبر علمی، جماعتی خانوادے سے تھا ، آپ کے والد حافظ عبید الرحمن صاحب ایک  معروف شخصیت ہیں او ر خود مولانا مرحوم بھی جماعتی   کاز سے کافی دلچسپی رکھتے تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں کہیں رہے جماعت اور اس کی سرگرمیوں سے وابستہ رہے ۔
ناظم عمومی نے کہا کہ جماعت اہل حدیث ایک بہت ہی اچھے مربی وا ستاذ سے محروم ہوگئی۔ ذاتی طور پر وہ میرے بڑے ہی مخلص دوستوں میں سے تھی، آج وہ  مخلص دوست بھی مجھ سے بچھڑ گیا۔  پسماندگان میں اہلیہ ، چھ بچے اور تین بچیاں اور والدین ہیں ۔  اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرمائے ،ان  کی مغفرت کری، جنت الفردوس میں مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق ارزانی کری۔

 دہلی ۷ اکتوبر :
 مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر جناب حافظ محمدیحییٰ دہلوی ، ناظم عمومی مولانا اصغر علی امام مہد ی سلفی، اور ناظم مالیات الحاج وکیل پرویز اور صوبائی جمعیات کے ذمہ داران نے  ایک مشترکہ اخباری بیان میں بعض اخبارات میں شائع ان خبروں کی پرزور تردید کی ہے جن میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی تقسیم کی بات کہی گئی ہے ۔ اس لیے کہ ذاتی مصالح کی بنیا د پر قائم کی جانے والی مختلف فیہ جمعیت کا جماعت اہل حدیث کے مصالح اور کاز سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ، اورجن لوگوں نے اسے قائم کیا ہے ان کا بھی جمعیت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔بلکہ ماضی میں ان کی جماعت و انسانیت مخالف سرگرمیوں اور شرانگیزیوں کی وجہ سے ان کے خلاف مرکزی جمعیت کے مؤقر اراکین عاملہ وشوری قرارداد مذمت پاس کرچکے ہیں اور یہ جمعیت کی ہمہ جہت خدمات سے جلے بھنے ہیں ۔ ان میں سے بعض  طالع آزما لوگ ہیں، بعض ذاتی مصالح کی بنیاد پر جمع ہوئے ہیں اوربعض شرفاء کو دھوکہ سے جمع کیا گیا تھا ۔ واضح ہو کہ ماضی میں یہ عناصر ایک دوسرے کو انتہائی مجرم گردانتے رہے ہیں ۔

دہلی ،۸۲   ستمبر ۔مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکے ناظم عمومی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے اپنے ایک اخباری بیان میں مسلم جوانوں کی رہائی سے متعلق سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ کومایوسی کے شکار مسلمانوں کے لئے امیدافزا بتایاہے اور عدلیہ کی تعریف کرتے ہوئے اس فیصلہ کا والہانہ خیرمقدم کیاہے نیز کہاہے کہ اب وقت آگیاہے کہ حکومت، حفاظتی ایجنسیوں کے ذریعہ مسلمانوں کی اندھادھند گرفتاری کے اسباب کا تجزیہ کرے اوراس کی پیش بندی کے لئے ٹھوس اورسنجیدہ اقدامات کری۔کیونکہ جہاں ان رہائیوں سے قانون کی بالادستی اورعدلیہ کا صاف وشفاف کردار واضح ہواہے وہیں حفاظتی ایجنسیوں کی کارکردگی انتہائی مخدوش ہورہی ہے اور ان پر سے عام شہریوں کا اعتماد اٹھتاجارہاہے جوجمہوریت کے لئے انتہائی مضر ونقصان دہ ہی۔
mناظم عمومی نے اپنے اخباری بیان میں مزیدکہاکہ معصوم اورملک وملت کے لئے انتہائی ہونہار نوجوانوںکی گرفتاری پھر سالہاسال کے بعد ان کی زندگی کے قیمتی اوقات ضائع اورکیریر برباد ہونے کے بعد رہائی پر جب نظرپڑتی ہے اورانجام وعواقب پر غور کیاجاتاہے تو کسی بھی انصاف پسند فردکادل فطری طورپربے چین ہوجاتاہے اور خون کے آنسو رونے کو جی چاہتاہی۔لہذاہم حکومت سے اپنے دیرینہ مطالبہ کو پھردوہراتے  ہیںکہ اس سلسلہ کی روک تھام کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں اور جو بدنصیب نوجوان اس متعصبانہ اورظالمانہ رویہ کے شکار ہوگئے ہیں ان کے ہر قسم کے نقصانات کی بھرپائی کی راہ بلاتاخیرنکالی جائی۔

دہلی : ۵۱ستمبر ۲۱۰۲ء
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے بدنام زمانہ دستاویزی فلم ’’ا نوسنس آف مسلم‘‘کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے امت مسلمہ کی دل آزاری کی منصوبہ بند سازش قرار دیاہی۔ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔انہوںنے کہا ہے کہ یہ فلم نہ صرف شرانگیزہے بلکہ یہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے بھی خلاف ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دوسرے مذاہب کا احترام سبھی اقوام عالم کی ذمہ داری ہے اورخوداسلام نے بھی کسی مذہب کی دل آزاری یا اس کے پیشواؤں کو گالی دینے سے منع کیاہی۔
انہوںنے کہا کہ پوری دنیا میں فلم کے خلاف احتجاج ہورہا ہے اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ امت مسلمہ کی کس قدر دل آزاری کی گئی ہی۔ مولانا نے کہا جب بھی پیغمبر اسلام کے خلاف کسی طرح کی کوئی گستاخانہ حرکت ہوئی ہی، فرزندان توحید نے اس کے خلاف پرامن آواز اٹھائی ہی۔ انہوںنے کہا کہ جولوگ اس طرح کی حرکت کا ارتکاب کرتے ہیں وہ خودہی اپنے انجام کو پہنچیں گے اور عظمت رسول پرکوئی آنچ نہیں آئے گی۔

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام اور صوبائی جمعیت اہل حدیث آندھراپردیش کے زیر انتظام
دو ‘ روزہ آل انڈیا مسابقہ حفظ وتجویدو تفسیر قرآن کریم حیدرآباد میںبحسن خوبی اختتام پذیر
معزز شخصیات کے ہاتھوں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو گراں قدر انعامات سے نوازا گیا
اورماہنامہ گلستان اہل حدیث کا اجراء عمل میں آیا 
حیدرآباد :4 /ستمبر 0122
قرآن کریم ساری انسانیت کے لئے ہی۔اس کا حق یہ ہے کہ اس کو مخارج کی رعایت اور خوش الحانی کے ساتھ پڑھا جائے ۔اس کے معانی کو سمجھا جائے اور اس کی عمدہ اور انسانیت نواز تعلیمات پر عمل کیا جائے اور اس کے پیغام انسانیت کو عام کیا جائے ۔قرآن مجیداللہ تعالی کا کلام ہے ۔قرآن کریم اور حدیث کی تعلیمات کو اپنانے میں ہماری حقیقی زندگی ‘ نجات اور بقا ہے ۔اللہ اوراس کے رسول کی پکارپرلبیک کہنے سے حیات جاوداں اور سعادت دارین حاصل ہوگی ملک وملت اور انسانیت کی مسائل حل ہوں گے ۔اور ہر طرف امن وسکون ‘اخوت ومحبت ‘اتحاد ویگانگت‘ اعلی اخلاق وکردار اور ایمان و یقین کی باد بہاری چلے گی ۔ان خیالات کا اظہار مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی ناظم عمومی مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے کیا ۔موصوف کل مؤرخہ3 /ستمبر 2012 کی شام کو ایلیشن گارڈن حیدرآباد میں منعقد تیرہواں دو روزہ آل انڈیا مسابقہء حفظ وتجوید وتفسیر قرآن کریم کے اختتامی اجلاس میں کلیدی خطاب کررہے تھی۔
انہوں نے کہاایسے وقت جب کہ دنیا کے اندر انسانیت دشمن عناصر کی طرف سے قرآن کریم اور پیغمبر اسلام کی شان میںگستاخی کی جارہی ہے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم قرآن کریم کی تعلیمات کا پیکر بن کر اس کی تعلیمات کو عام کریں ۔فلم کے ذریعہ رسول گرامی کی کردار کشی بلاشبہ قابل مذمت ہے لیکن احتجاج کی نام پر مشتعل ہونا ‘سڑکوں پر آنااورآگ جلانا اوراپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا قرآن اور پیغمبر اسلام کی روشن تعلیمات اور سلف صالحین کے عمل سے میل نہیں کھاتا ۔

  مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیرِ اہتمام اورصوبائی جمعیت اہل حدیث آندھراپردیش کے زیرِ انتظام
تیرہواں دوروزہ آل انڈیامسابقہ حفظ وتجوید وتفسیرِ قرآن کریم کا حیدرآباد میںحسنِ آغاز
افتتاحی اجلاس میںمعزز شخصیات نے اظہارِخیال فرمایااور مسابقہ کے انعقاد کو وقت کی ضرورت اور مستحسن اقدام قرار دیا ۔
حیدرآباد ۲۲/ستمبر ۲۱۰۲ء ۔
 قرآن کریم اللہ رب العزت کا انسانیت کے نام آخری پیغام ہے ،اس کے اندر انسانیت کی بھلائی وخیر خواہی کا راز مضمر ہے اور اس کی تلاوت،تعلیم،تفسیر،توضیح اور تفہیم امت کا فریضہ ہے ۔آج جب کہ پوری دنیا کے اندر قرآن اور پیغمبراسلام کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں اور ان کے رُخِ زیبا کو مسخ کرنے کی ناروا کوشش کی جارہی ہے امتِ مسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ قرآنی تعلیمات کو عام کریں ۔اور یہ اسی وقت زیادہ ممکن ہوسکے گا جب امتِ مسلمہ قرآن کریم کو اپنی زندگی کا لائحہ عمل بنائے گی اور امن وشانتی کے ماحول میں اپنے قول وعمل سے قرآن کریم کاحسنِ تعارف پیش کرے گی ۔ہمارے دینی مدارس جو دین کے قلعے ہیں ،اس کام کو انجام دے رہے ہیں لیکن عملی طورپر زندگی کے ہر شعبہ میں اسے نافذ کرنے کی ضرورت ہے ۔ان خیالات کا اظہارمولانااصغر علی امام مہدی سلفی ناظم عمومی مرکزی جمعیت ا ہل حدیث ہند نے کیا۔موصوف آج مورخہ۲۲،۳۲/ستمبر ۲۱۰۲ء کوبمقام جامعہ دار الفرقان للبنات سعیدآباد ،حیدرآباد مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیرِ اہتمام اورصوبائی جمعیت اہل حدیث آندھراپردیش کے زیرِ انتظام تیرہواںدو روزہ آل ا نڈیا مسابقہ حفظ وتجوید وتفسیرِ قرآن کریم کے افتتاحی اجلاس میں صدارتی
خطاب کررہے تھے ۔

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیراہتمام
چھ روزہ علمی ودعوتی دورے کا شاندار اختتام
اختتامی اجلاس میں شرکائے دورہ کو توصیفی سند سے نوازاگیا
نئی دہلی:۱۲/ستمبر۲۱۰۲ء
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیراہتمام ۴۱ستمبر۲۱۰۲ ء بروز جمعہ کو اہل حدیث کمپلیکس اوکھلا نئی دہلی میں چھ روزہ علمی ودعوتی دورے کا بڑے تزک واحتشام کے ساتھ آغاز ہوا ۔ اس میں ملک کی مختلف جامعات و مدارس و مساجد سے پچاس سے زائد علماء اور دعاۃ اور ائمہ شریک ہوئے ۔ یہ پروگرام ایک بڑے مصری محقق فضیلۃ الشیخ عمروعلی محمد بسیونی حفظہ اللہ کے سیاحتی، علمی، تحقیقی اور نجی دورہ پر آنے کی مناسبت سے منعقد کیا گیا۔ یہ دورہ تاریخ و عقیدہ سے متعلق تھا خصوصا تاریخی روایات کی چھان بین اور تحقیق کے سلسلہ میں گراں قدر تھا۔ اوربعض تاریخی روایات کے رواج پاجانے سے بہت سی غلط فہمیوں نے امت میں اختلاف و انتشار برپا کیا جس سے اسلامی تاریخ کے روشن چہرہ کو داغدار کرنے کی کوشش ہوئی ہی، اس کے اصل حقائق بیان کرنے کے سلسلہ میں اس کا انعقاد عمل میں آیا تاکہ اس سے غلط فہمیاں دورہوں اور اسلامی اخوت ومحبت پروان چڑھے ،اصل حقائق سامنے آئیں اور انسانیت کی بہی خواہی و ہمدردی میں اضافہ ہوسکی۔
گزشتہ کل مورخہ ۹۱ستمبر ۲۱۰۲ء کو اس کا اختتامی پروگرام زیر صدارت مولانا رفیق احمد سلفی باحث دارالدعوۃ نئی دہلی منعقد ہوا۔ تلاوت کے بعددورہ کی اہمیت وافادیت پرروشنی ڈالتے ہوئے ناظم عمومی مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے باحث جلیل ماہر فن تحقیق کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اورکہا کہ شیخ کے فضل وشرف کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ مصری عالم ہیں کویت میں مقیم ہیں اورمنہج سلف سے شیفتگی ووابستگی ہی۔

دہلی : ۵۱ستمبر ۲۱۰۲ء
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے بدنام زمانہ دستاویزی فلم ’’ا نوسنس آف مسلم‘‘کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے امت مسلمہ کی دل آزاری کی منصوبہ بند سازش قرار دیاہی۔ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔انہوںنے کہا ہے کہ یہ فلم نہ صرف شرانگیزہے بلکہ یہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے بھی خلاف ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دوسرے مذاہب کا احترام سبھی اقوام عالم کی ذمہ داری ہے اورخوداسلام نے بھی کسی مذہب کی دل آزاری یا اس کے پیشواؤں کو گالی دینے سے منع کیاہی۔
انہوںنے کہا کہ پوری دنیا میں فلم کے خلاف احتجاج ہورہا ہے اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ امت مسلمہ کی کس قدر دل آزاری کی گئی ہی۔ مولانا نے کہا جب بھی پیغمبر اسلام کے خلاف کسی طرح کی کوئی گستاخانہ حرکت ہوئی ہی، فرزندان توحید نے اس کے خلاف پرامن آواز اٹھائی ہی۔ انہوںنے کہا کہ جولوگ اس طرح کی حرکت کا ارتکاب کرتے ہیں وہ خودہی اپنے انجام کو پہنچیں گے اور عظمت رسول پرکوئی آنچ نہیں آئے گی۔
مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے برادران اسلام سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ وہ مذکورہ فلم کے خلاف کوئی ایسااقدام نہ کریں جس سے شرپسندعناصرکو ملک کا امن وامان خراب کرنے کا موقع ملی۔

Page 4 of 7

The Collective Fatwa against Daish and those of its ilk