خادم الحرمین الشریفین فقید الامۃ شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود کا انتقال پر ملال مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی تعزیت/ مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی

دہلی:۳۲/ جنوری ۵۱۰۲ء
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے اخبار کے نام جاری ایک بیان میں سعودی فرمانرواں خادم حرمین شریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود کے سانحہ ارتحال پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کیا ہے اور ان کی موت کو دنیائے عرب ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کا عظیم خسارہ قرار دیا ہی۔


ناظم عمومی نے کہا کہ شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز جن کا گذشتہ ۱ بجے شب کو بعمر ۰۹ سال انتقال ہوگیا، کو اللہ تعالیٰ نے بڑی خوبیوں سے نوازا تھا ان میں دین پرستی ، انسان دوستی اور امن پسندی، وسعت نظری اور عرب اور اسلامی کاز سے قلبی لگائو قابل ذکر ہی۔ وہ ایک باخبر مصلح اور انسان دوست حکمراں تھی۔ انہوں نے ساری انسانی برادری کو میدان جنگ اور نفرت و عداوت کی جگہ سے ہٹا کر باہمی بات چیت ، گفتگو و حوار اور افہام و تفہیم کے ذریعہ تقریب و اتحاد اور الفت ومحبت کا پیغام دیا۔ شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے اپنی دینی فراست، سیاسی بصیرت کے ذریعہ صرف سعودی عرب ہی نہیں بلکہ خلیج عرب میں رونما ہونے والے مسائل و مشکلات کی کامیابی کے ساتھ گتھی سلجھائی اور اپنی زیرکی ، معاملہ فہمی، رعایا پروری ، علم و علماء نوازی ، تحفظ حقوق ، بین ممالک دوستانہ تعلقات اور پوری دنیا میں امن مساعی اور امن مذاکرات کی وجہ سے پوری دنیا سے خراج تحسین حاصل کی۔ بلاشبہ انہوں نے حوار و مذاکرات کا موثر سلسلہ قائم کر کے دفاع عن الاسلام ، اسلام سے متعلق غلط فہمیوں کے ازالے اور امن وبھائی چارہ کے فروغ کا وہ عظیم کارنامہ انجام دیا ۔ اسلام اور انسانیت دشمن طاقتوں نے مسلم ممالک کے خلاف سازشوں کا جو تانا بانا بنا ہے اسے وہ خوب سمجھتے تھے اور بروقت اس کا اعلاج بھی کرتے تھی۔ یہ اور بات ہے کہ مسلمان اپنی سادہ لوحی اور دین سے دور ی کی وجہ سے باربار ان فتنوں کا شکار ہورہے ہیں۔
ناظم عمومی نے کہا کہ شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کا عظیم کارنامہ حرمین شریفین ودیگر مشاعر مقدسہ کی توسیع ہی۔ جس کی وجہ سے عالم اسلام سے آنے والے حجاج کرام کو مناسک حج ادا کرنے میں بڑی آسانی ہوگئی ہے اور بے ساختہ ان کے دل سے سعودی فرمانرواں کے لیے دعا نکل جاتی ہی۔ الھم اغفر لہ وارحمہ وادخلہ الجنۃ الفردوس
ناظم عمومی نے کہا کہ شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود مملکت سعودی عرب میںحالات کے پیش نظر ملک و عوام کے مفاد میں اٹھائے گئے مختلف اقدامات اور اصلاحات کی وجہ سے بھی معروف ہیں۔ شاہ عبداللہ کی پیدائش ۴۲۹۱ء کو ریاض میں ہوئی تھی۔ وہ مملکت سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن الفیصل آل سعود کے بارہواں بیٹے اورچھٹے بادشاہ تھے ۔ خادم حرمین شریفین فہد بن عبدالعزیزآل سعود کے انتقال کے بعد یکم اگست ۵۰۰۲ء میں مملکت سعودی عرب کے فرمانرواں بنائے گئی۔ سیاسی زندگی کا آغاز ۵/فروری ۳۶۹۱ء میںکیا جب وہ نیشنل گارڈ کے رئیس متعین کئے گئے اور اس منصب پر ۰۱۰۲ء تک فائز رہی۔ ۵۷۹۱ ء میں نائب دوم وزیر اعظم پھر ۲۸۹۱ء میں ولی عہد مملکت اور نائب اول وزیر اعظم نامزد کئے گئی۔ آپ نے اس کے علاوہ حکومت میں متعدد اہم ذمہ داریاں نبھائی۔ آپ نے امریکہ سمیت مختلف ممالک کے اسفار کئے ۔ جنوری۶۰۰۲ء میں یوم جمہوریہ کی تقریب میں شرکت کے لیے وطن عزیز ہندوستان تشریف لائے ۔ انہوں نے اپنے اسفار کے ذریعہ مملکت سعودی عرب سے عالمی برادری کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔
پریس ریلیز کے مطابق مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی کے علاوہ امیر حافظ محمد یحییٰ دہلوی، نائب امراء ، ناظم مالیات، الحاج وکیل پرویز ، نائب نظماء و دیگر ذمہ داران و اراکین مجلس عاملہ و شوریٰ نے بھی شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود کے انتقال پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کیا ہی۔ مملکت سعودی عرب کے فرمانرواں شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود ولی عہد، شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز آل سعود، شاہی خاندان،علماء اور عوام سے قلبی تعزیت کی ہے اور دعا گو ہیں کہ بارہ الہ ان کی مغفرت فرما، بلندی درجات عطاکر، امت کو شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کا نعم البدل عطا فرما اور نئے فرمانروا انکے جاری کردہ عظیم دینی و انسانی کاموں کو آگے بڑھانے کی توفیقات سے نواز ۔ آمین

The Collective Fatwa against Daish and those of its ilk

ہمارے رسائل وجرائد

http://ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/al-isteqamah2gk-is-214.jpglink
http://ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/islahe-samaj2gk-is-214.jpglink
http://ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/jareeda-tarjumah2gk-is-214.jpglink
http://ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/the-symple-truth2gk-is-214.jpglink
«
»
Loading…