مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کا راحتی وفد زلزلہ متاثرین کی راحت رسانی کے لیے روانہ

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے اخبار کے نام جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ وطن عزیز اور پڑوسی ملک نیپال میں آئے تباہ کن زلزلے سے متاثرین کی راحت رسانی کے لیے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کا ایک راحتی وفد آج متاثرہ مقامات کے لیے روانہ ہوا۔ جووہاں پہنچ کر متاثرین کے مابین ریلیف و راحتی اشیاءتقسیم کرے گا اور وہاں کی صحیح صورت حال کا جائزہ لے کر مرکز کو آگاہ کر ے گا تاکہ متاثرین کی باز آباد کاری کے لیے مرکز سے ہر ممکن تعاون ارسال کیا جاسکے۔

پریس ریلیز کے مطابق مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے اس راحتی وفد کی سربراہی مولانا محمد علی مدنی ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث بہار کررہے ہیں اور اس وفد میں مولانا محمد ہاشم سلفی اور مولانا کلیم اللہ انصاری سلفی وغیرہ شریک ہیں۔

ناظم عمومی نے اپنے بیان میں عوام وخواص سے اپیل کی ہے کہ مصیبت کی اس گھڑی میں وطن عزیز اور پڑوسی ملک کے زلزلہ متاثرین کی راحت رسانی اور باز آباد کاری کے لیے اپنا بھر پور تعاون پیش کریں۔

واضح ہو کہ مورخہ ۵۲/ اپریل کو پڑوسی ملک نیپال میں ایک بڑا زلزلہ آیا تھا جس سے بہا ، یوپی اور مغربی بنگال وغیرہ صوبوں کے متعدد علاقے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ مذکورہ وفد ان تمام علاقوں کا دورہ کرے گا۔

جاری کردہ

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند

 

دہلی،۷۱جنوری۔مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے اپنی ایک  پریس ریلیز میں  ادب کے نام پر بے ادبی کا مظاہرہ کرنے والے شیطانی آیات کے دریدہ دہن مصنف سلمان رشدی کی ملک میں آمد کو بدبختانہ قرار دیتے ہوئے اس پر  اپنی شدیدناراضگی کا اظہار کیاہے اورکہاہے کہ دنیاکاکونسا ایساادب ہے جو کروڑوں مسلمانوں اور لاکھوں غیرمسلم عقیدت مندوںکے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے شیطان صفت نام نہادمصنف کودعوت سخن دے  اورہندوستان جیسے کثیرمذاہب پریقین رکھنے والے ملک کے عوام کے جذبات کو مجروح کرے ۔نیزحکومت ہند سے مطالبہ کیاہے کہ وہ فورا اس کے پرسن آف انڈین اوریجن کارڈ کو منسوخ کردے تاکہ آئندہ کبھی بھی اس شیطان صفت اوردوسروں کے جذبات مجروح کرنے والے انسان کے ناپاک    قدم وطن عزیز کی زمین پر نہ پڑسکیں۔
ناظم عمومی نے مزیدکہاکہ ہندوستانی تہذیب احترام باہم کے  اصولوں پرقائم ہے لیکن نامعلوم کن مجبوریوں کے تحت حکومت ہندوقفہ وقفہ سے ایسے شعوری یاغیرشعوری اقدامات کرتی رہتی ہے جن سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں اوران کی بے چینی میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔بنگلہ دیشی نام نہاد مصنفہ تسلیمہ نسرین کو پناہ دینے سے پہلے ہی مسلمانوں کے جذبات مجروح ہیں۔  ان باتوں  سے حکومت بخوبی  واقف ہوتے ہوئے بھی  خاموش   تماشائی بنی بیٹھی ہے جوکروڑوں انسانوں کی دل آزاری کاباعث ہی، اس پر اعیان حکومت کوٹھنڈے دل سے  غورکرناچاہئے اورٹھوس اقدامات کی جانب گامزن ہوناچاہئی۔مولانانے مزیدکہاکہ بعض ناعاقبت اندیش اس طرح کے لوگوں کو آزادئ رائے کے نام پرحق بجانب ٹھرانے کی کوشش کرتے  ہیںلیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ آزادئ رائے کا دنیاکی کسی بھی ڈکشنری میں یہ مطلب نہیںکہ کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی جائے یامذہبی پیشواؤں کوسب وشتم کیاجائی۔

 

دہلی:۲۱جنوری۲۱۰۲ء
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے اپنی ایک  پریس ریلیز میں جماعت اہل حدیث کے معروف قلم کاراورمرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے آرگن پندرہ روزہ جریدہ ترجمان کے ایڈیٹرجناب عبدالقدوس اطہرنقوی صاحب کی اہلیہ کے  سانحۂ ارتحال پر اپنے شدیدرنج وغم کا اظہار فرمایاہی۔گذشتہ رات تقریبا بعمر۰۷ سال اپنے گھراوکھلا،نئی دہلی میں اس دار فانی سے رحلت فرماگئیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
موصوفہ انتہائی دیندار ،صوم وصلوۃ کی پابند،قناعت پسندخاتون تھیںاورنیکی کے کاموں میں ہمہ وقت پیش پیش رہتی تھیں،  بچوں کی تربیت  اورگھریلو مسائل کو بڑی ہی خوش اسلوبی سے انجام دیتی رہیںاور نقوی صاحب کوگھریلومسائل سے بے فکررہ کر علمی کاموں کو انجام دینے کا بھرپورموقعہ میسرآیا۔اورثابت کیا کہ ہرکامیاب انسان کے پیچھے عموماایک سلیقہ مند،فرض شناس اورنیک طینت خاتون کاہاتھ ہوتاہی۔اللہ تعالیٰ ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے اورنقوی صاحب کی دینی خدمات کو ان کے لئے بھی   صدقہ جاریہ  بنائی۔
ناظم عمومی نے اپنے اخباری بیان میںکہا کہ ان کے سانحۂ ارتحال سے نہ صرف ان کے اہل خانہ مغموم ہیں بلکہ جملہ متعلقین جماعت ان کے غم میں برابرکے  شریک ہی۔ دعاہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے  اور پسماندگان  ومتعلقین کو صبر جمیل کی توفیق بخشی۔آمین

 

ملت کے افرادکے ذریعہ اس کی اشاعت درپردہ مملکت توحیدکوبدنام کرنے کی سازش
دہلی،۵جنوری ۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی جناب مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے اپنے اخباری بیان میںایک اردواخبارکے ذریعہ انڈیاٹوڈے کے حوالے سے کشمیرمیں وہابیوں پر دہشت گردی کے لگائے گئے  الزام  اورمملکت توحید سعودی عرب کو اس میں گھسیٹنے کی کوشش کی شدیدالفاظ میںمذمت کی ہے اورملت اسلامیہ جو آج گوناگوں مسائل ومشکلات سے گھری ہوئی اوردشمنان اسلام کی سازشوں کاشکارہے اسے مزیدمشکلات میں مبتلاکرنے کے مترادف قراردیاہی۔
ناظم عمومی نے مزیدکہاکہ  اہلحدیثوں پر دہشت گردی کا الزام اورسعودی عرب کے ذریعہ اس کی فنڈنگ اتنامضحکہ خیز الزام   اورسنگین جرم ہے جس کا ارتکاب کوئی جمعیت اہل حدیث کے اغراض ومقاصد اس کی سرگرمیوں اورمساعی جمیلہ سے ناواقف،   اسی طرح مملکت توحیدسعودی عرب کی عالمی پیمانے پرملی ،سماجی اور انسانی ظاہر وباہر خدمات کی بناپر بغض وحسدکرنے والا انسان ہی کرسکتاہی۔  یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ملت اسلامیہ ہند میں سب سے پہلے اٹھنے والی آوازجمعیت اہل حدیث کی تھی، اسی نے سب سے پہلے اس کے خلاف علماء کی ایک بڑی تعدادکے فتاویٰ کااجرا اس کے خلاف کانفرنسوں سمپوزیموں کاانعقادکیاتھا۔ اس کے ایک پروگرام میں اس وقت کے وزیرداخلہ مرکزی حکومت ہندنے برملاکہاتھا کہ اس تنظیم کاریکارڈبالکل صاف وشفاف ہے اور اس کے خلاف دہشت گردی وغیرہ کاکوئی   الزام ثابت نہیںہی۔
  مذکورہ اخبار کے نامہ نگارنے انڈیاٹوڈے کے مضمون نگاراست جولی جن کی رپورٹ کوبنیاد بناکر اہلحدیثوں اورسعودی عرب کے خلاف الزامات لگائے ہیں کی معتبریت  اوران کے سیکولرکردارکی خوب قصیدہ خوانی کی ہے اور ان کے بلندی کردار کو ثابت کرنے کے لئے اس نے کہاہے کہ انہوں نے  اپنی ہی سکھ قوم میں  دہشت گردی پھیلانے کی کوششوں میں مصروف تنظیموں پر ایک خصوصی کوراسٹوری لکھی تھی،اس کا مطلب یہ ہوا کہ نام نہاد مسلم مصنفہ تسلیمہ نسرین اگراسلام اورمسلمانوں کے خلاف زہرافشانی کررہی ہے اوربزعم خویش اندرکی باتوں کا انکشاف کررہی ہے تو وہ اسلام اورمسلمانوں کے خلاف اس کے ایک فرد کی معتبر گواہی اور اس کی حق گوئی اور معتبریت پر دلالت ہوگی؟کتنامضحکہ خیز استدلال ہی۔ مضمون نگارنے کہاہے کہ  اہل حدیث کے سربراہ مولانااصغرعلی امام مہدی سلفی سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن باربار گھنٹی جاتی رہی اورفون ریسیونہیں کیا،اس سے وہ سربراہ کو ملزم کے کٹہرے میں کھڑاکرناچاہتے تھے  یا جرم کی پاداش سے بچانے کے لئے کوئی ڈیل کرناچاہتے تھی۔اگرحقیقت حال جاننے یااس سلسلے میں معلومات حاصل کرنا مقصود تھا تو مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکوئی ہوائی تنظیم نہیں ہے کہ صرف سربراہ کے موبائل پر ہی بات ہوسکتی تھی بلکہ یہ ملک کی بہت ہی مؤقر قدیم ترین اسلامی تنظیم ہے جس کاصدردفتردہلی ہی میںہی،  اس سے رابطہ کیاجاسکتاتھا۔
ناظم عمومی نے مزیدکہاکہ اس وقت ملت اسلامیہ کے سامنے مسائل کا انبارہے وہ اس طرح کی بیان بازیوں اورالزام تراشیوں سے گریز کرے اورایسے بیانات کی حوصلہ شکنی کرے جن سے ملت کے انتشارمیں ادنیٰ درجہ کے امکان کا بھی شائبہ ہو،یہی حالات کاتقاضاہے اور اسی کی موجودہ حالات میں سب سے زیادہ ضرورت ہی۔
واضح ہوکہ مولانا گذشتہ دنوںایک سہ روزہ کانفرنس بعنون’’انسانی اقداراورروحانیت‘‘میں شرکت کی غرض سے کولکاتا گئے ہوئے تھے اوراسی کی سرگرمیوںمیں مصروف تھے

 

دہلی :۲جنوری ۲۱۰۲ء عربی زبان ایک زندہ پائندہ زبان ہے اور اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہی، اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میںموجو دہیں کیوں کہ قرآن کریم جوکہ انسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہی۔ عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہی۔ ان خیالات کا اظہار مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے کیا ، موصوف گزشتہ کل مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام اہل حدیث کمپلیکس اوکھلا نئی دہلی میںمنعقد پانچ روزہ آل انڈیا ریفریشر کورس برائے اساتذہ عربی زبان وادب کے اختتامی اجلاس میں استقبالیہ خطاب کررہے تھی۔ Aانہوں نے اپنے خطاب میں مہمانان خصوصی ، شرکائے ریفریشر کورس اور دیگرسامعین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہندوستان نے عربی زبان ادب کی سیکڑوں عبقری وماہرترین شخصیات پیدا کی ہیں ۔ان میں بڑی تعداد اہل حدیث علماء کی ہی، علامہ عبد العزیز میمنی ، ابو عبداللہ السورتی اور مولانا عبدالعزیز حریری کانام ان عباقرہ میں سر فہرست ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ عربی زبان وادب کو وسیع پیمانے پر فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے ریفریشر کورس کامزید اہتمام ہوناچائیے تاکہ اساتذہ کرام عربی زبان وادب کی تدریس وتعلیم کا کام بحسن وخوبی انجام دے سکیں۔ سعودی سفارت خانہ نئی دہلی کے شیخ احمد علی رومی نے اس ریفریشر کورس کے انعقاد پر مرکزی جمعیت کو مبارکباد پیش کی اورکہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عربی زبان وادب کی تعلیم کے لیے متعدد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مختلف مقامات پر ارسال کیا جس سے اس زبان کو سیکھنے اور سکھانے کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے ، عربی زبان کی تعلیم وتدریس کی اہمیت ہمیشہ باقی رہے گی ۔ ریفریشر کورس کے خصوصی ٹرینر ڈاکٹر محمد صالح الششری (نمائندہ العربیہ للجمیع سعودی عرب) نے کہا کہ عربی زبان وادب اور اسے سیکھنے والوں کی اہمیت وضرورت ہردور میں مسلم ہی۔ ہم اپنی عبادتوں میں اس زبان کو دہراتے ہیں۔ ہندوستان بھی عربی زبان وادب کا گہوارہ رہا ہے یہاں اس کی تعلیم وتدریس بڑے پیمانے پر ہوتی ہے ۔ ہم لوگ اس لیے یہاں حاضر ہوئے ہیں کہ قرآن کریم کی زبان کی تدریس وتعلیم اور تفہیم کا طریقہ سیکھیں۔ آپ سے گزارش ہے کہ آپ نے یہاں جو کچھ سیکھا ہے اسے عملی زندگی میں بھی برتیں اور عربی زبان وادب کی نئی ٹیم تیار کریں۔ معزز مہمان جناب پروفیسر اخترا لواسع صاحب صدر شعبہ اسلامک اسٹڈیز جامعہ ملیہ اسلامیہ اور وائس چیر مین دہلی اردو اکادمی نے کہا کہ عربی زبان معاش کی ہی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا آخری پیغام اسی زبان میں نازل فرمایا، اس لیے اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا فریضہ ہی۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہی۔ اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر الاسلام خان ایڈیٹر دی ملی گزٹ نئی دہلی نے کہا کہ ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا، مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند عربی اساتذہ کے لیے ریفرشر کورس کے انعقاد پر شکریہ اور مبارکباد کی مستحق ہی۔ اجلاس کے اخیر میں معزز مہمان شیخ محمد حسن السیاری ( ٹرینر ریفریشر کورس و نمائندہ العربیہ للجمیع سعودی عرب) نے ریفریشر کو رس کا نتیجہ سنایا اور جناب حافظ محمد یحییٰ دہلوی امیرمرکزی جمعیت اہل حدیث ہند ودیگر مہمانوں کے ہاتھوں مہمانان خصوصی کو مومنٹو اور شرکاء ریفریشر کو رس کو اسناد سے نوازا گیا۔ واضح رہے کہ یہ پانچ روزہ ریفریشر کورس مورخہ ۸۲ دسمبر ۱۱۰۲ء کو شروع ہوا تھا جو گزشتہ یکم جنوری ۲۱۰۲ء کو اختتام یذیر ہوا۔ اس میں ملک کے مختلف حصوں سے بیسیوں ادارے کے کل ۴۳ اساتذہ عربی ادب نے شرکت کی اور عرب ماہرین سے عربی زبان وادب کی تعلیم وتدریس کا ہنر سیکھا ۔ اس اجلاس میں دہلی کی دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔

 

دہلی،۹۲دسمبر۔ مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی ناظم عمومی مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے اپنے ایک  اخباری بیان میںمرکزی حکومت کے ذریعہ پسماندہ طبقات کے لئے مخصوص کوٹے میں اقلیتوں کے لئے ۵ئ۴فیصد ریزرویشن کی منظوری کاخیرمقدم کیاہے ساتھ ہی اس بات پر مایوسی کا  اظہارکیاہے کہ مذکورہ مقدارمیں رزریشن رنگاناتھ مشراکمیٹی کی سفارشات کی روشنی میںقطعاناکافی ہے کیونکہ کمیشن نے مذہبی ولسانی اقلیتوں کی پسماندگی دورکرنے کے لئے ۵۱ فیصد ریزوریشن کی سفارش کی تھی جس میں ۰۱ فیصدمسلمانوں کے لئے مختص ہونی کی سفارش کی ہی،اس طرح مسلمانوں کی پسماندگی دورکرنے میں یہ ریزرویشن خاطرخواہ حد تک کامیاب ثابت ہوسکتاتھا۔انصاف پسند حلقوں میں اس بات کی توقع کی جارہی تھی دیرآیددرست آیدکے مصداق یہ رزرویشن جب بھی آئیگا مناسب ہوگا،لیکن اس میں کمیشن کی سفارشات کی روح کہیں نظر نہیں آتی بلکہ یہ حد درجہ مایوس کن ہے  ۔
ناظم عمومی نے مزیدکہاکہ جب ملک کے دو نامورماہرین قانون نے مطلوبہ رزرویشن کی سفارش کردی اوریہ بھی کہہ دیاکہ اس میں کوئی آئینی رکاوٹ نہیں ہوگی تو پھران کی سفارشات کو نظر انداز کرنا کسی بھی طورسے مناسب نہیں ہی۔ لہٰذا مرکزی حکومت کو چاہئے کہ وہ  مسلمانوں کو ان کی آبادی کے تناسب سے ریزرویشن دے تاکہ مسلمانوں کو ان کاحق مل سکے اوران کی اقتصادی   پسماندگی دور کرنے میںممد و معاون ہوسکے

 

 دہلی: ۴۲دسمبر ۱۱۰۲ء
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر جناب حافظ محمد یحییٰ دہلوی اور ناظم عمومی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے اخبار کے نام جاری ایک مشترکہ بیان میں استاذ الاساتذہ ، عظیم شاعر وادیب مولانا عبدالحکیم مجاز اعظمی رحمانی کے انتقال پر گہرے رنج وافسوس کا اظہار کیا ہے اور ان کی موت کو ملک وملت ، جماعت ، انسانیت اور بالخصوص علمی وادبی دنیا کے لیے عظیم خسارہ قرار دیا ہی۔
yانہوں نے کہا کہ مجاز اعظمی عربی، فارسی اور اردو کے بڑے اسکالر، عظیم شاعروادیب،ممتاز استاذ ومربی، کامیاب صحافی ، کالم نگار  اور مصنف تھی۔ آپ نے مختلف اخبارات ورسائل کی ادارت کی اور مضامین لکھی۔ ۳۵۹۱ء سے ۸۵۹۱ء تک مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ’’ترجمان ‘‘ کے ایڈیٹر رہی۔ ۹۶۹۱ ء میں اتر پردیش کی مشہو ر وقدیم ترین درسگاہ جامعہ عالیہ عربیہ مئو کے نگراں ومدرس بنائے گئی۔ آپ نے اس دوران تصنیفی خدمات بھی انجام دیں۔روحانی عورت، آثار نبوت، خلیفہ اسلام ابو بکر صدیق، عمرفاروق ؓ ، روحِ نماز، ہدایت نامہ مسلمان بیوی، ہدایت نامہ مسلمان خاوند اور اسلامی زندگی آپ کی مشہور تصانیف ہیں۔
پریس ریلیز کے مطابق مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے عظیم شاعر اور ناموور ادیب مولانا مجاز اعظمی کی ہمہ جہت علمی وادبی خدمات کے اعتراف میں ۸۲ویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس پاکوڑ کے موقع پرا ن کو ایورڈ سے نوازا تھا۔
مولانا مجاز اعظمی ۵۸برس کے تھی۔آپ کی ابتدائی تعلیم مئو میں ہوئی ، پھر بر صغیر کی مشہور درسگاہ دار الحدیث رحمانیہ دہلی تشریف لے گئے مولانا حکیم محمد سلیمان تلمیذ شیخ الکل فی الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی، شیخ الحدیث مولانا عبید اللہ رحمانی، مولانا نذیر احمد املوی، مولانا عبید الرحمن طالب مبارکپوری اور مولانا عبدالجلیل رحمانی رحمہم اللہ آپ کے اکابر اساتذہ میں سے تھی۔آج صبح آبائی وطن مئو میں آپ کا انتقال ہوگیا۔ انا الیہ وانا الیہ راجعون اور شام ساڑھے چار بجے ان کی تدفین عمل میں آئی۔
جناب حافظ محمد یحییٰ دہلوی اور مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے اپنے تعزیتی بیان میںمولانا کے تمام پسماندگان ، اہل خاندان اور ذمہ داران ، اساتذہ ،طلبہ ومتعلقین جامعہ عالیہ عربیہ مئو سے قلبی تعزیت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ہے کہ بار الہ ان کی مغفرت فرما،ان کی خدمات کو قبول فرما، ان کی لغزشوں سے درگزر فرما، ان کے درجات بلند فرما اور پسماندگان کو صبر جمیل توفیق ارزانی کر۔
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے نائب امیر جناب ڈاکٹر عبدالحلیم ، ناظم مالیات جناب ازہر وزیری و دیگر ذمہ داران وکارکنان بھی ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور مرحوم کی مغفرت کے لیے دعا گو ہیں۔

Page 8 of 8

The Collective Fatwa against Daish and those of its ilk

ہمارے رسائل وجرائد

http://ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/al-isteqamah2gk-is-214.jpglink
http://ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/islahe-samaj2gk-is-214.jpglink
http://ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/jareeda-tarjumah2gk-is-214.jpglink
http://ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/the-symple-truth2gk-is-214.jpglink
«
»
Loading…