مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کا راحتی وفد زلزلہ متاثرین کی راحت رسانی کے لیے روانہ

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے اخبار کے نام جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ وطن عزیز اور پڑوسی ملک نیپال میں آئے تباہ کن زلزلے سے متاثرین کی راحت رسانی کے لیے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کا ایک راحتی وفد آج متاثرہ مقامات کے لیے روانہ ہوا۔ جووہاں پہنچ کر متاثرین کے مابین ریلیف و راحتی اشیاءتقسیم کرے گا اور وہاں کی صحیح صورت حال کا جائزہ لے کر مرکز کو آگاہ کر ے گا تاکہ متاثرین کی باز آباد کاری کے لیے مرکز سے ہر ممکن تعاون ارسال کیا جاسکے۔

پریس ریلیز کے مطابق مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے اس راحتی وفد کی سربراہی مولانا محمد علی مدنی ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث بہار کررہے ہیں اور اس وفد میں مولانا محمد ہاشم سلفی اور مولانا کلیم اللہ انصاری سلفی وغیرہ شریک ہیں۔

ناظم عمومی نے اپنے بیان میں عوام وخواص سے اپیل کی ہے کہ مصیبت کی اس گھڑی میں وطن عزیز اور پڑوسی ملک کے زلزلہ متاثرین کی راحت رسانی اور باز آباد کاری کے لیے اپنا بھر پور تعاون پیش کریں۔

واضح ہو کہ مورخہ ۵۲/ اپریل کو پڑوسی ملک نیپال میں ایک بڑا زلزلہ آیا تھا جس سے بہا ، یوپی اور مغربی بنگال وغیرہ صوبوں کے متعدد علاقے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ مذکورہ وفد ان تمام علاقوں کا دورہ کرے گا۔

جاری کردہ

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند

دہلی۹۱مئی ۔مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کی  ایک پریس ریلیز کے مطابق ۷۱مئی  ۲۱۰۲ئ؁ کومولانامحمدحنیف مدنی سابق استاذ جامعہ سلفیہ بنارس تقریباًستر سال کی عمر میںاس دارفانی سے رحلت فرماگئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
مولانا کاآبائی وطن موضع مظہریا،مغربی چمپارن، بہارہی۔ ابتدائی تعلیم یہیں حاصل کی ۔اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے مئوناتھ بھنجن کا سفرکیا اورمدرسہ فیض عام  سے سندفراغت حاصل کی۔موصوف نے اسی ادارے میں تدریس کے فرائض کی انجام دہی سے عملی زندگی کا آغاز کیا اورتقریبا دس سال تک درس وتدریس اور دعوت وتبلیغ سے منسلک رہی۔ان کی خواہش تھی کہ مزید حصول علم کے لئے بلاد عربیہ کا رخ کیاجائے اور وہاں کے علماء سے کسب فیض کیاجائے چنانچہ عرصہ دراز کے بعد آپ کی یہ خواہش پوری ہوئی اورجامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں داخلہ ہوگیاوہاں سے سندلیسانس حاصل کرنے کے بعد المعھد العالی مکہ مکرمہ سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی اورواپس ہندوستان آکر درس وتدریس نیز دعوت وتبلیغ کے فرائض انجام دینے لگے اور طویل مدت تک جامعہ سلفیہ بنارس  سے وابستہ رہے ۔ طبیعت میں سادگی، بردباری اور تواضع موصوف کا طرۂ امتیاز تھا۔تدریس میں مطالعہ کا خاص اہتمام کرتے تھے اورفرائض، منطق اورفلسفہ میں انہیں خاص مہارت حاصل تھی۔موصوف کی پوری زندگی تعلیم وتعلم دعوت وارشادمیں گذری اورہزاروں طلبہ آپ کے علم سے فیضیاب ہوئی۔اورکتاب وسنت کی خالص تعلیمات کی نشرواشاعت میں بھرپورکردار اداکیا۔
qپیرانہ سالی اورصحت کی خرابی کے باعث کچھ عرصہ قبل جامعہ سلفیہ بنارس سے سبکدوش ہوگئے تھے اوراپنے بڑے صاحبزادے کے ساتھ مئوناتھ بھنجن میں سکونت پذیرتھے یہاں تک کہ داعی اجل کو لبیک کہا۔ان کی وفات جماعت ہی نہیں ملت کا عظیم خسارہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ جماعت وملت کوان کا نعم البد ل عطافرمائے  ان کی حسنات کو قبول فرمائے اورزلات سے درگذر فرماکر جنت الفردوس میں جگہ دے نیز پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق بخشی،آمین۔ ناظم عمومی نے اپنے اخباری بیان میںکہا کہ ان کے سانحۂ ارتحال سے نہ صرف ان کے اہل خانہ مغموم ہیں بلکہ جملہ متعلقین جماعت ان کے غم میں برابرکے  شریک ہے

ملک وملت اور انسانیت کے متعلق متعدد امورپر غور وخوض
نئی دہلی ۲۲اپریل ۲۱۰۲ء
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند سے جاری ایک اخباری بیان کے مطابق آج مورخہ ۲۲اپریل۲۱۰۲ء بروز اتوار بمقام اہلحدیث کمپلیکس، اوکھلا، نئی دہلی مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کا ایک غیر معمولی اجلاس زیر صدارت جناب حافظ محمد یحییٰ دہلوی امیر مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند منعقد ہوا۔ جس میں ملک کے مختلف صوبوں سے بڑی تعداد میںاراکین اور مدعوئین خصوصی نے شرکت کی اور اس اہم اجلاس میں ملک وملت اور انسانیت کے متعلق متعدد امور زیر غور آئے اور اخیر میں درج ذیل قراردادیں پاس کی گئیں:

دہلی: ۲۱مارچ ۲۱۰۲ء
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے اخبار کے نام جاری ایک بیان میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے رکن مجلس شوریٰ اور صوبائی جمعیت اہل حدیث پنجاب کے نائب امیر، معروف قلمکارمولانا ڈاکٹر یونس ارشد بلرامپوری کے انتقال پر گہرے رنج وافسوس کا اظہار کیا ہے اور ان کی موت کو ملک وملت اور جماعت کے لیے بڑا خسارہ قرار دیا ہی۔
انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر یونس ارشد بلرامپوری صاحب کو اللہ تعالیٰ نے بڑی خوبیوں اور صلاحیتوں سے نوازاتھا۔ آپ بیک و قت  قرآن کریم کے حافظ وقاری ، مستند عالم وفاضل ، مایہ ناز شاعر وادیب اور ممتاز محقق و نقاد تھی۔آپ کی پیدائش ۱۲اگست ۸۴۹۱ کو یوپی کے ضلع بلرامپور میں ہوئی۔ آپ نے مدرسہ فیض عام مئو پھر مرکزی دار العلوم جامعہ سلفیہ بنارس سے اکتساب فیض کیااور ۴۷۹۱ ء میں طبیہ کالج دہلی سے بی ، یو ، ایم، ایس کی ڈگری حاصل کی اور ۴۷۹۱ ء سے بطور میڈیکل آفیسر پنجاب میں ملک وملت اورانسانیت کی خدمت انجام دی۔
ناظم عمومی نے کہا کہ آپ ایک کہنہ مشق شاعر اور صاحب طرز قلمکار تھی۔ آپ نے طالب علمی کے زمانے ہی میں چہل حدیث منظوم لکھی جو پندرہ روزہ ’’ اہل حدیث ‘‘ دہلی اور ماہنامہ ’’ الاسلام‘‘ دہلی میںقسط وار شائع ہوئی۔ آپ قیام دہلی کے دوران کچھ عرصہ تک مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے پندرہ روزہ ’’ترجمان‘‘ کے مدیر بھی رہے ہیں۔ آپ کی کئی کتابیں منظر عام پر آکر اہل علم سے خراج تحسین حاصل کیں۔ ’’اطاعت رسول کی شرعی حیثیت ‘‘اور ’’ احکام اسلام اور میڈیکل سائنس‘‘ جیسی کتابیں منتظر اشاعت ہیں۔ ۱۳اگست ۶۰۰۲ء کو آپ سرکاری سروس سے ریٹائر ڈ ہوگئے اور مالیر کوٹلہ پنجاب میں ذاتی مکان بنا کر مستقل رہائش پذیر ہوگئی۔
ناظم عمومی نے کہا کہ ڈاکٹر یونس ارشد بلرامپوری نے ملک وملت کی گراں قدر خدمات کے ساتھ ساتھ جماعتی خدمات بھی انجام دیں اور کئی تنظیمی عہدوں پر مامور کئے گئے ۔ ۵۹۹۱ء میں آپ صوبائی جمعیت اہل حدیث پنجاب کے ناظم اعلیٰ بھی بنائے گئی۔
انہوں نے کہا کہ یونس ارشد صاحب کا انتقال گزشتہ شب ہوگیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ پسماندگان میں اہلیہ اور تین لڑکے اور تین لڑکیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے ، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے اور ان کی قومی ، ملی اور جماعتی خدمات کو قبول فرمائے اور جنت الفردوس کا مکیں بنائی۔ آمین
پریس ریلیز کے مطابق مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر جناب حافظ محمد یحییٰ دہلوی ، دیگر ذمہ داران واراکین اور کارکنان نے بھی ڈاکٹر صاحب کے انتقال پر گہرے رنج وافسوس کا اظہار کیا ہے اور ان کی مغفرت کے لیے دعا گو ہیں۔

 اختتامی اجلا س میں امام کعبہ ڈاکٹر سعودبن ابراہیم الشریم حفظہ اللہ کا ایمان افروز خطاب
آخر میں دینی وسماجی، قومی وملی اور عالمی و انسانی امور پر ۲۳نکاتی قرارداد پاس کی گئی
 نئی دہلی : ۳ مارچ ۲۱۰۲ء
 امام کعبہ ڈاکٹر سعود بن ابراہیم الشریم حفظہ اللہ نے عدالۃ الصحابہ کے عنوان پر خطاب کرتے ہوئے صحابہ کرام کی فضیلت قرآن وسنت کی روشنی میں بیان فرمائی اور کہا کہ صحابہ کرام کی طرف انگلی اٹھانا در اصل دین کی تنقیص اور دین کا کفر ہے ۔
صحابی کی تعریف میں مہاجرین ، انصار اور وہ تمام لوگ شامل ہیں جنہوں نے اسلام قبول کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کا شرف حاصل کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی فضیلت کہیں تفصیل سے اور کہیں اجمالا بیان فرمائی۔ اور وضاحت سے فرمادیا ہے کہ’’رضی اللہ عنہ ورضوا عنہ‘‘» اللہ ان سے راضی ہوا اوروہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوگئی«۔

مرکزی وزیر کپل سبل نے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکی تعلیمی خدمات اور دہشت گردی مخالف سرگرمیوں کی تعریف کی
نئی دہلی‘ 2 مارچ:  آج یہاں امام حرم مکہ مکرمہ ڈاکٹر شیخ سعود بن ابراہیم الشریم  نے رام لیلا گراونڈ میںمرکزی جمعیت اہل حدیث کے زیر اہتمام دو روزہ اکتیسویں اہل حدیث کانفرنس کے موقع پر نماز جمعہ کے خطبہ کے دوران ملت اسلامیہ ہند میں اتحاد و یگانگت کی تلقین کی اور کہا کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ دین اسلام کو مکمل طور پرہر قسم کی بدعتوں سے بچتے ہوئے معاشرے میں پیش کیا جائے ۔
امام حرم شریف جو کہ سعودی عرب میں جج کے عہدے پر بھی فائز رہ چکے ہیں  اور ام القری یونیورسٹی مکہ سے پی ایچ ڈی کرنے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعدفقہ کے پروفیسر کی خدمت انجام دے رہے ہیں ، نیز بین الاقوامی شہرت یافتہ ممتاز فقیہ ہیں نے کہاکہ  ایک ایسے وقت میں جب کہ پوری انسانیت مختلف مسائل اور مصائب سے کراہ رہی ہے اور ذہنی کرب و اذیت سے دوچا ر ہی‘ اسلام سسکتی ہوئی انسانیت کے لئے سب سے بہترین نظام حیات اور دین رحمت کے طور پر تمام مسائل کا حل پیش کرتا ہی۔امام حرم نے کہا کہ اسلام کوا س کی حقیقی شکل میں پیش کیا جائے اور اس کا عملی نمونہ معاشرے کے سامنے لایا جائے جس سے معاشرے میں امن و آشتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ حاصل ہو۔
انہوںنے کہا کہ آج دنیا میں جونسلی امتیاز پایا جاتاہے وہ ختم ہونا چاہےی۔ انہوںنے مزید کہا کہ اسلام نے اس ضمن میں جوشاندار مثال قائم کی ہے وہ تاریخی ہی۔اس کے تحت کالے کوگورے پراورگورے کوکالے پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ہی۔
امام حرم مکہ مکرمہ نے ہندوستان میں اپنی آمد کو اپنے لئے باعث سعادت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان جیسے عظیم ملک اور یہاں کے عوام کے لئے ان کے دل میں ہمیشہ محبت و احترام کا جذبہ رہا ہے وہ سرزمین ہند پر آکر خودکو اپنے گھر میں محسوس کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کی ضرورت ہے کہ صحابہ کو رول ماڈل کے طور پر بلاتفریق مذہب و ملت اور مسلک ہر شخص کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ ان کی آئیڈیل تعلیمات سے ہر کوئی استفادہ کرسکی۔
امام حرم نے نماز جمعہ کی امامت کی جس میں تقریباََ چار لاکھ افراد نے شرکت کی ۔ نماز جمعہ کے دوران پورا رام لیلا میدان کھچا کھچ بھرا ہواتھا۔ امام محترم بعد نماز کل مغرب وعشاء کی امامت اورایمان افروز خطاب فرمائیںگے اور عشا کی نماز کی امامت بھی کریں گی۔واضح رہے کہ ڈاکٹر الشریم 1991 سے مکہ مکرمہ میں حرم شریف کے امام و خطیب ہیں۔
اس موقع پر مرکزی وزیر برائے فروغ انسانی وسائل کپل سبل نے کہا کہ ملک کی موجودہ حالات میں عدالت صحابہ کے موضوع پر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکی یہ دوروزہ کانفرنس بہت ہی موضوع ہی۔ انہوںنے توقع ظاہرکی کہ اس موقع پرامام محترم تشریف آوری سے اسلام کے امن اوراخوت کے پیغام کو فروغ ملے گا۔انہوںنے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکے ذریعہ دہشت گردی کے خلاف علماء کرام کے دستخط سے جاری فتوے کی تعریف کی اورکہا کہ اس سے اسلام کے تعلق سے جوغلط فہمی پھیلائی جارہی تھی اسے دورکرنے میں مددملی۔
کپل سبل نے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکی ہمہ جہت ملکی وانسانی خدمات خصوصا تعلیمی سرگرمیوں کوسراہتے ہوئے کہا کہ اس سے جہاں ناخواندگی کو دورمیں کرنے میں مددملی ہے وہیں تعلیم کے فروغ میں مددمل رہی ہی۔ انہوںنے کہا کہ اس کے ذریعہ قائم ہزارہا مدارس ومکاتب اس کاز کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
قبل ازیں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکے اہمیت اور امیر حافظ محمد یحیی دہلوی نے اپنے خطبہ صدارت میں عدالت صحابہ کانفرنس کی غرض و غایت بتاتے ہوئے کہا کہ ہمیں ان نفوس قدسیہ کی تابندہ زندگی کی سنہری کرنوں سے اپنی ذات‘ گردو پیش اور اپنے محبوب وطن کے طول وعرض کو معمور و منور کرنا چاہئی۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا جس بدامنی اور اخلاقی بے راہ روی کی طرف جارہی ہے اس کو ہدایت اور رہنمائی صرف صحابہ کرام کے مقدس گروہ سے مل سکتی ہی۔ انہوں نے مسلمانوں کواپنے اعمال کو سدھارنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج جس مسلمان جن مصائب و مشکلات اور ابتلاء و آزمائش کا شکار ہیں وہ صرف اعدا اسلام کی سازشوں کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ اس میں ہماری بداعمالیوں اور فکری و نظریاتی انحراف کا بھی عمل دخل ہی۔
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکے جنرل سکریٹری مولانا اصغر امام مہدی سلفی نے امام حرم کی شرکت کو کانفرنس کے شرکاء اور اہل وطن کے لئے باعث سعادت قرار دیا۔انہوںنے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب معاشرے میں ہر طرف بدامنی اور افراتفری کے ساتھ ساتھ خوف و ہراس کی فضا پائی جارہی ہے صحابہ کرام کی حیات مبارکہ اور ان کی تعلیمات سب کے لئے مشعل راہ ہی نہیں بلکہ عملی نمونہ ہی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث صحابہ کرام کو آج بھی انسانیت کی فلاح کا معیار تسلیم کرتی ہے اور اسی وجہ ہے کہ اس نے دو سال قبل بھی عظمت صحابہ کانفرنس کا انعقاد کیا تھا اور پھر اس مرتبہ عدالۃ الصحابہ کے موضوع پر ۱۳ویں اہل حدیث کانفرنس کررہی ہی۔
مولانا عبدالرحمان عبیداللہ رحمانی مبارک پوری نے خطبہ استقبالیہ دیتے ہوئے کارکنان کو اپنی حکمت عملی کو زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور خلوص و للہیت اور کامل اتحاد و یکجہتی کے ساتھ اپنے قومی وانسانی فلاح وبہبودکے منصوبے ترتیب دینے کی تلقین کی۔اورزندگی کے ہرمرحلہ میں صحابہ کرام کے اسوہ کو پیش نظر رکھنے پر زوردیا۔
اس موقع پرمرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی صوبائی اکائیوں کے ذمہ داران خاص طورسے مولانا حافظ عین الباری عالیاوی، نائب امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند و امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث مغربی بنگال ، مولانا عبدالمنان سلفی جھنڈا نگری، ڈاکٹر عبدالدیان انصاری، مولانا شمس الحق سلفی، نائب ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث جھارکھنڈ ، مولانا صفی احمد مدنی، امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث آندھرا پردیش ، مولانا عبداللہ سعود سلفی، ناظم جامعہ سلفیہ بنارس، مولاناغلام رسول ملک ، امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث جموں و کشمیر ، مولانا عبدالسلام سلفی امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث ممبئی ، مولانا محمد ہارون سنابلی ، ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث مغربی یوپی، مولانا اقبال محمدی ، کنوینر کانفرنس ، ڈاکٹر سید عبدالحلیم صاحب، نائب امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند، مولانا شعیب میمن جونا گڈھی، ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث گجرات وغیرہ اہم شخصیات نے تقریریں کیں، تاثرات پیش کئے اور مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکی ہمہ جہت کوششوں اور خدمات کو سراہا اورمرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی دعوت پر امام محترم کی تشریف آوری کے لیے مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی ناظم عمومی مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کومبارکباد پیش کیا۔ مولانا عبدالسلام سلفی نے کہا کہ امام محترم کی تشریف آوری موجودہ قیادت کااہم کارنامہ ہی۔
دیگراہم شرکاء میں رکن دہلی اسمبلی شعیب اقبال، سماجی کارکن پنڈت این کے شرمااورروزنامہ اردوراشٹریہ سہاراکے مدیراسد رضا کے علاوہ اراکین مجالس عاملہ وشوری مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند قابل ذکرہیں۔
جاری کردہ
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہن

نئی دہلی:یکم مارچ
آج یہاں اندرا گاندھی انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر صبح ۱۱بجے امام حرم ڈاکٹرسعودبن ابراہیم الشریم حفظہ اللہ کا مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی ودیگر ذمہ داران ومعززین نے پرتپاک خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر امام حرم نے سرزمین ہندپر آکر اپنی دلی مسرت کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دل میں ہندوستان اوراس کے شہریوں کا بے حد احترام ومحبت ہی۔
قابل ذکر ہے کہ امام حرم آج اہل حدیث کمپلیکس میں نماز عشاء پڑھانے کے علاوہ کل رام لیلا میدان میں ۱۳ویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس کے دوران خطبہ جمعہ دیںگے اورنمازجمعہ پڑھائیں گی۔ نیز ۳مارچ کو بعدنماز مغرب عمومی خطاب فرمائیںگی۔

Page 7 of 8

The Collective Fatwa against Daish and those of its ilk

ہمارے رسائل وجرائد

http://ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/al-isteqamah2gk-is-214.jpglink
http://ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/islahe-samaj2gk-is-214.jpglink
http://ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/jareeda-tarjumah2gk-is-214.jpglink
http://ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/the-symple-truth2gk-is-214.jpglink
«
»
Loading…