داعش کی دہشت گردی کے خلاف مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کا اجتماعی فتویٰ جاری شدہ بموقع قومی سمپوزیم بعنوان’عالمی دہشت گردی، داعش کی خود ساختہ خلافت اور اسلام کاپیغام امن‘

 

Akhbar بتاریخ ۵۱/ فروری ۵۱۰۲ء، بمقام: اہل حدیث کمپلیکس اوکھلا، نئی دیلی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
استفتاء
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین درج ذیل مسائل کے بارے میں کہ :
۱ ۔ اس حقیقت کے باوجود کہ اسلام امن وشانتی کا مذہب ہے اور اس میں کسی بھی طرح کے تشدد ،انتہا پسندی اور دہشت گردی کی گنجائش نہیں ہی،ہندوستان سمیت دنیا کے مختلف ملکوں میں جاری دہشت گردی کے واقعات اور کارروائیوں کو اسلام اور مسلمانوں سے جوڑ کر پیش کیا جارہا ہی۔حالانکہ اسلام اور اس کے نمائندے اکابر علماء اسلام نے دہشت گردی کو حرام قرار دیا ہے اور آج سے تقریبا دس سال قبل مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے بھی ملک کے تقریبا چھتیس علماء کرام کے دستخط سے دہشت گردی مخالف فتوی جاری کیا تھا۔ بعد میں اس سے رہنمائی حاصل کرکے کچھ اور تنظیموں نے بھی اس کی حرمت پر فتوے جاری کیی۔ اس سب کے باوجود مسلمانوں پر ایسے الزامات لگائے جارہے ہیں نیز کیا رد عمل کے طور پر بھی دہشت گردی کا جواب دہشت گردی سے دیا جاسکتا ہے جیسا کہ کچھ لوگ خود کش حملوں کے ذریعہ اس طرح کے کام کرتے ہیں۔ ازروئے شرع اس کا کیا حکم ہی؟


۲ ۔ آج کل خلافت اسلامیہ کا دعویٰ کرنے والی نام نہاد تنظیم داعش اوراس جیسی دوسری تنظیمیں جو کہ متعددممالک میں خوف ودہشت برپا کیے ہوئی ہیں،حکومتوں اورعوام کے خلاف ہتھیار اٹھائے ہوئی ہیں، معصوم مردوں، عورتوں ، بوڑھوں اوربچوں پرجان لیوا حملے کررہی ہیں اوران کے ان دہشت گردانہ حملوں اورتکفیری کارروائیوں کی وجہ سے ملک وعوام کا امن وسکون کو غارت ہوچکاہے ۔ان حملوںمیں اب تک ہزاروںجانیں تلف ہوچکی ہیں۔املاک تباہ ہوگئی ہیں اورعوام کو ہرگھڑی اپنی جان ومال، اہل وعیال اورخویش واقارب کے تئیں خوف ودہشت لاحق ہی۔ توکیا نام نہاد خلافت کے نام پرداعش یااس جیسی تنظیموںکے ذریعہ ملک کے امن و قانون کو ہاتھ میںلینے کی کوشش کرنا، چوک چوراہوں اورشارع عام پربم باری ودھماکہ کرنا،سر کاری وشخصی املاک اور فوجی تنصیبات کوتباہ کرنا،جہازوں کوہائی جیک کرنا، سیاحوں ، صحافیوں اورغیرملکی ملازمین اورنرسوں کو بندھک بنانا،یاقتل کردینا، پردہ نہ کرنے والی خواتین،تعلیمی اداروں ،اخبارات اور نیوز چینلوںکے دفاتراور سفارت خانوں پر حملہ کرنا، عوام کو حکومت کے خلاف ورغلانا اورملک کے امن وامان کو غارت کرنے کی کوشش کرنا ازروئے شرع درست ہے ؟
براہ کرم کتاب وسنت کی روشنی میں ان اہم وحساس مسئلوں کی وضاحت فرمائیںاورعنداللہ ماجوروعندالناس مشکورہوں۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
المستفتی:
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند
۴۱/ فروری ۵۱۰۲ء
الجواب اللہ ھوا لموفق للصواب :
صورت مسئولہ عنہا میں عرض ہے کہ بلاشبہ اسلام ساری مخلوقات کے خالق اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا امن وشانتی کا مذہب ہے ۔ اور وہ سارے جہان کے لیے سراپا رحمت ہے اس میں کسی طرح کی دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں ہی۔ اعتدال ووسطیت پر مبنی اس دین نے انسانی عظمت وکرامت کاہمیشہ خیال رکھا ہے اور امن وامان قائم کرنے میں قابل ستائش رول ادا کیا ہی۔ لاضرر ولا ضرار کے عظیم اصول پر مبنی اس دین نے سماج میں بے چینی پیدا کرنے والے عناصر کی ہمیشہ ہمت شکنی کی ہی۔ اللہ تعالیٰ انتہائی رحم کرنے والا بے حد مہربان ہے اس کے آخری رسول محمد ؐ سارے عالم کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئی۔ آپ کی تعلیمات تشدد سے پاک اور رحمت سے بھر پور ہی۔ اسلام وسطیت ، اعتدال، آپسی بھائی چارہ، انسانیت نوازی اور بلاتفریق مسلک و ملت پڑوسیوں اور انسانوں کے حقوق ادا کرنے کی تلقین کرتا ہی۔ حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی کا حکم دیتا ہی۔ اسلام میں ظلم وزیادتی اور قتل و غارت گری شرک کے بعد سب سے بڑا ظلم اور گناہ ہی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہی:
’’ جس شخص نے کسی بے گناہ شخص کو قتل کردیا تو وہ گویا سارے جہاں کا قاتل ہے اور جس نے کسی جان کو بچالیا تو وہ گویا اس نے ساری انسانیت کو زندہ کردیا‘‘ (المائدہ: ۲۳)
اسلام کی تعلیم ہے کہ عین جہاد کے وقت بھی دشمن کے بچوں، عورتوں، بوڑھوں ان کے عابدوں اور پروہتوں کو جو اپنی عبادت گاہوں میں گوشہ نشین ہیں ان کو قتل نہ کیا جائی۔ نہ باغات کا ٹے جائیں نہ کھیتیاں جلائی جائیں نہ جانوروں کو ہلاک کیا جائی۔ ہمارے پیارے نبی محمد رسول اللہ ؐ نے بتایا کہ ایک نیک خاتون جہنم میں داخل ہوگئی کیونکہ اس نے ایک بلی کو بھوکا پیاسا باندھ رکھا تھا جس سے وہ مر گئی۔ اور ایک گناہ گار انسان جس نے ایک پیاسے کتے کو کنویں سے پانی بھر کر پلادیا تھا ، بتایا کہ وہ جنت میں داخل ہوگیا۔
اسلامی نظام عدل کے اندر ہر گز اس بات کی گنجائش نہیں ہے کہ ایک شخص کی غلطی کا انتقام دوسرے سے لیا جائے (سورہ انعام: ۴۶۱)
اسلامی حکومت میں رہنے والے غیر مسلموں کو مامون و محفوظ رکھنا حکومت اور مسلمانوں کی ذمہ داری ہی۔ ان کو ناحق قتل کرنے والے کو جنت کی ہوا بھی نہیں لگے گی۔ (صحیح بخاری)
اسی طرح حالت جنگ سے باہر رہنے والے کفار سے بھی کوئی تعرض نہیں کیا جاسکتا ۔ امام ابن قدامہ فرماتے ہیں: ائمہ اسلام کے درمیان اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ قتل ناحق حرام ہی۔
امام ابن تیمیہ اور امام نووی فرماتے ہیں: سب سے بڑا گناہ کفر و شرک ہے اور اس کے معا بعد قتل ناحق کا درجہ ہی۔
حافظ ابن حجر فرماتے ہیں: جب جانوروں کو ناحق قتل کرنا جائز نہیں ہے تو انسان کو ناحق قتل کرنا کیسے جائز ہوسکتا ہی۔(فتح الباری)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہلاکت کا گڈھا جہاں گرنے کے بعد باہر نکلنا ناممکن ہے وہ بلا استحقاق خوں ریزی ہی۔
اس لیے بعض تنظیموںکے ذریعہ ملک کے امن و قانون کو ہاتھ میںلینے کی کوشش کرنا، چوک چوراہوں اورشارع عام پربم باری ودھماکہ کرنا،سر کاری وشخصی املاک اور فوجی تنصیبات کوتباہ کرنا،جہازوں کوہائی جیک کرنا، سیاحوں ، صحافیوں اورغیرملکی ملازمین اورنرسوں کو بندھک بنانا،یاقتل کردینا، پردہ نہ کرنے والی خواتین،تعلیمی اداروں ،اخبارات اور نیوز چینلوںکے دفاتراور سفارت خانوں پر حملہ کرنا، عوام کو حکومت کے خلاف ورغلانا اورملک کے امن وامان کو غارت کرنے کی کوشش کرنااز روئے شرع درست نہیں ہی۔ شریعت میں بھلائی کا حکم دینے اور منکر کا انکار کرنے کے لیے شروط و ضوابط ہیں اور ہر کس و ناکس اس کی تنفیذ کا مکلف نہیں ہے اور شریعت نے ہر شخص کے لیے تمام معاملات کی طرح حدود کار متعین کی ہے جن کا لحاظ نہ رکھنے کی وجہ سے فتنہ وفساد برپا ہوتا ہے اور خونریزی و بد امنی پیدا ہوتی ہی۔
بدقسمتی سے موجودہ دور میں کچھ ایسی تنظیمیں وجود میں آگئی ہیں جو اسلام کا نام لیکر مسلمانان عالم کے لیے باعث ننگ و عار بنی ہوئی ہیں صورت مسئولہ میں داعش وغیرہ جیسی تنظیمیں خصوصا اسلام اور مسلمانوں کی شبیہ بگاڑنے اور ان کو نقصان پہنچانے کا باعث بن رہی ہیں۔ اور ان کے اقدامات کسی بھی طرح سے اسلامی تعلیمات سے میل نہیں کھاتے بلکہ جن اعمال کے وہ مرتکب ہورہے ہیں وہ اسلام میں سراسر حرام ہیں اورصریح دہشت گردی ہیں اور خلافت اور دولت اسلامیہ کا ان کا خود ساختہ دعویٰ ایک فریب ہے اور اسلامی خلافت کے بالکل منافی ہی۔ نہ اس میں و ہ شرائط پائے جاتے ہیں اور نہ ہی خلافت کے قائم ہونے کے تقاضے پورے کرتے ہیں۔ چنانچہ دیار حرم کے مفتی اعظم اور سعودی سپریم علماء کونسل کے صدر نشیں سماحۃ الشیخ علامہ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ حفظہ اللہ فرماتے ہیں: داعش اور اس جیسی تنظیمیں اسلام کی نمائندگی نہیںکرتیں۔
سماحۃ الشیخ عبدالمحسن بن حمد العباد، شیخ محمد المنجد حفظہم اللہ وغیرہم اور دیار عرب کے دیگر مقتدر و معتبر علماء کرام نے کھلے الفاظ میں کہا ہے کہ یہ لوگ اس امت کے خوارج ہیں ۔ ماضی قدیم میں بھی ان کے قصور علم وفہم سے اسلام کی قبا چاک ہوئی اور جسے یہ لوگ جہاد کہہ رہے ہیں وہ ایک فتنہ اور دہشت گردی ہے ۔کیونکہ جہاد کے کچھ اصول وشرائط ہیں جن کی ان کے پاس کوئی رعایت نہیں ہے اور نہ وہ اس کے مجازہیں۔ اسی طرح اسلامی خلافت کے کچھ اصول وشرائط ہیں جن کی پابندی کے بغیر نہ کوئی خلیفۃ المسلمین بن سکتا ہے اور نہ ہی کسی کے لیے جائز ہے کہ ایسے ظالم و جابر کے لیے امیر المومنین جیسے بھاری بھرکم لفظ استعمال کری۔
داعش اور اس جیسی تنظیمیں جو حرکتیں کررہی ہیں ان کی خبریں سن کر اور تصویریں دیکھ کر انسانیت چیخ اٹھتی ہے ۔ یہ تشدد وظلم،قتل اور سلب ونھب، فتنہ وفساد ملک کے امن پسند شہریوں کو یرغمال بناکر انہیں تہ تیغ کرنا، جلادینا یہ ایسے اعمال شنیعہ ہیں جو انسان تو انسان جانوروں کے ساتھ بھی جائز نہیں ہوسکتے ہیں اور جسے خلافت کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کے نام پر کیا جارہا ہے جو یقینا اسلام دشمن طاقتوں اور انسانیت کے قاتلوں کی گہری سازش کا نتیجہ معلوم ہوتا ہی۔
افسوس کا مقام ہے کہ کچھ سادہ لوح حضرات ان جرائم کو مظلوم انسانوں اور مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کا رد عمل سے تعبیر کرتے ہیں جو یقینا علم و فکر کی کوتاہی ہی۔ دین اسلام میں کسی کے گناہ کا بدلہ دوسرے معصوم انسانوں کی ہلاکت وتباہی سے لینا جائز نہیں ہی؟ جیسا کہ مذکورہ بالا آیات قرآنی واحادیث نبویہ اور اقوال سلف سے واضح ہوتا ہی۔
نیز ہمارے سامنے مظلوم حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ کا یہ مثالی طرز عمل موجود ہے کہ جب قید خانہ میں ان کے ہاتھوں میں استرا دیکھ کر ایک عورت کانپ اٹھی اور اسے یہ خطرہ لاحق ہوا کہ اس چاقو سے میرے معصوم بچہ کی گردن نہ کاٹ دی جائی۔ حضرت خبیب نے اس عورت کی بے تابی کو محسوس کیا اور اس کی دہشت کو ختم کرنے کے لیے فرمایا کہ ہم مسلمان معصوم بچے کو قتل نہیں کرتے اور اس بچہ کو ماں کے حوالہ کردیا۔ حالانکہ اس وقت ان کو پھانسی پر لٹکادینے اور ان کے بچوں کو یتیم اور بیوی کو بیوہ بنادینے کی تیاری اس عورت اور بچے کے گھروالوں کی طرف سے ہوچکی تھی۔ داعش ایک ایسی تنظیم اور ایسی جماعت ہے جو اسلامی طاقتوں کو کمزور کرنی، مسلمانوں کی صفوں میں انتشار پیدا کرنے اور اسلام کے رخ زیبا کو دنیا کے سامنے بگاڑنے اوردنیا کو اس آسمانی انسانیت نواز دین سے متنفر کرنے کے لیے معرض وجود میں آئی ہی۔ یہ یقینا عالم انسانیت کے لیے خطرہ اور امت مسلمہ کے زوال کا سبب ہی۔
لہذا ایسی تنظیمیں دہشت گرد ہیں اور لائق مذمت ہیں اور ان کی حمات کرنا اور ان کا کسی حیثیت سے تعاون کرنا شرعا حرام ہے ۔ امت مسلمہ کے باشعور افراد کا یہ دینی واخلاقی فریضہ ہے کہ وہ ان کے خطرات سے دنیا کو آگاہ کریں اور مسلم نوجوانوں کو ان کی تائید و تشجیع اور مادی و معنوی حمایت سے بچا نے کی کوشش کریں۔ ہذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب وعلمہ اتم واصح

sign

The Collective Fatwa against Daish and those of its ilk