Thursday, 03 September 2015 09:11

قرآن کریم سے وابستگی سب سے بڑی سعادت اور مضطرب انسانیت کے لئے امن واطمینان کا ابدی پیغام/مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام سولہواںکل ہند مسابقہ قرآن کریم بحسن و خوبی اختتام پذیر
اول پوزیشن حاصل کرنے والے بعض طلبہ کا روح پرورمظاہر ہ قرأت اور اہم شخصیات کے گراں قدرتاثرات
دہلی:۱۳اگست ۔قرآن کریم کے حفّاظ کرام ،ملت اسلامیہ کا سرمایۂ افتخار ہیںاوروہ سب سے اعلیٰ وارفع درجے پر فائز ہیں ان کی جتنی بھی تحسین کی جائے کم ہے ۔جو قوم کتاب اللہ سے جڑی ہوئی ہواس کے مفاہیم وتقاضوں کو سمجھتی ہواور اس پر عمل پیراہو وہ روئے زمین پر سب سے زیادہ معزز اور سعادت مندقوم ہے نیز قرآن کریم مضطرب انسانیت کے لئے امن واطمینان کا ابدی پیغام ہی۔قرآن و حدیث سے براہ راست تعلق بڑے شرف و سعادت کی بات ہے اور اس کی ہمہ جہت خدمت قسمت والوں کو حاصل ہوتی ہے ۔مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند ملک کی پہلی تنظیم ہے جس نے اس کی نشرو اشاعت مقامی زبانوں میں ترجمہ وتفسیر اور مسابقہ کے ذریعہ نونہالان ملت میں اس کے حفظ وتجویدوتفسیر کا شوق پیداکرکے نمایاں کردار اداکیاہی۔ ان خیالات کا اظہار مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے سولہویں کل ہندمسابقہ حفظ وتجوید وتفسیر قرآن کریم کے اختتامی اجلاس منعقدہ ۰۳ اگست بمقام اہل حدیث کمپلیکس اوکھلا، نئی دہلی زیر صدارت حافظ عتیق الرحمن طیبی حفظہ اللہ کے حاضرین سے خطاب کررہے تھی۔


انہوں نے اپنے افتتاحی خطاب میںمزیدکہا کہ یہ دینی ادارے جو قرآن کریم کی خدمت کررہے ہیں بڑے ہی سعادت مند ہیں۔ کیونکہ اللہ کی کتاب کا بڑاونچامقام ہے اللہ تعالیٰ اسی کتاب کے ذریعہ بعض قوموں کو بلندی عطاکرتاہے اوربعض کو قعر مذلت میں ڈھکیل دیتاہی۔بہتوں کو اسی کتاب سے ہدایت نصیب ہوتی ہے اور بہتوں کے حصے میں ضلالت وگمراہی آتی ہے جو اس سے جڑتاہے وہ خوش بختیوں کے چار چاند لگالیتاہے ۔مولانا نے مدارس اسلامیہ کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ مدارس اسلامیہ دین کے قلعے ہیں ان کا قیام واستحکام، پھر خارجی سازشوں سے ان کی حفاظت، ملت کی اہم ذمہ داری ہے جس میں مرکزی جمعیت نے ہر سطح پر اپنا نمایاں کردار ادا کیاہی۔جو لوگ ان مدارس کو دہشت گردی کے اڈے بتاتے تھے انہیںتسلیم کرنا پڑاکہ یہ مدارس اسلامیہ امن وآشتی کے مراکزاور خدمت انسانیت کے قلعے ہیں اسی طرح ان کے تئیں شکوک وشبہات کا ازالہ کرانے میںمرکزی جمعیت نے اپنے پروگراموں کے ذریعہ اہم رول اداکیا ۔ناظم عمومی اپنے خطاب میں شرکت کے لئے تمام اہل مدارس کا بھی شکریہ اداکیا۔
سعودی سفارت خانہ کے فضیلۃ الشیخ احمد علی الرومی نے قرآن کریم کی عظمت کا ذکرکرتے ہوئے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کوہدایت واستقامت سے بڑی کسی نعمت سے نہیں نوازاجوکہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کے ذریعہ ہی حاصل ہوسکتی ہی۔ کتاب اللہ ہی وہ واحدکتاب ہے جس کو مضبوطی سے تھام کرانسان فتنوںاور حوادث زمانہ سے محفوظ رہ سکتاہے اور اندھیروں سے نکل کر روشنی کی طرف آسکتاہے لہٰذا یہ مسابقۂ قرآن اللہ کی خوشنودی اورجنت کے حصول کے مسابقہ کی حیثیت رکھتاہے جن لوگوں نے قرآن کو اپنے سینوں میں بسایاہے اس پر عمل کرتے ہیں اور اس کو اپنے لئے مشعل راہ بناتے ہیں وہ دنیاوآخرت میں سب سے زیادہ اونچے درجے پر فائز ہیں۔لہٰذا آپ لوگ اللہ کے خاص بندے ہیں،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے سیکھنے اور سکھانے والوں کو سب سے بہتر بتایاہے لہٰذا آپ سب کو یہ خوشخبری مبارک ہو۔انہوں نے مرکزی جمعیت کے ذمہ داروں کا مسابقے کے انعقاد کے لئے تہ دل سے شکریہ بھی اداکیا ۔
مصر ی سفارت خانہ کے کلچرل اٹیجی عزت مآب احمدقاضی نے اپنے تاثرات میں کہا: علم کی بڑی فضیلت ہے اس کی بناپر انسان فرشتوں سے بھی آگے نکل گئے اور قرآن کا علم تو تمام علوم سے اعلیٰ وارفع ہے ۔ مسلمانوں نے علم کی نشرو اشاعت کے لئے بڑے بڑے ادارے قائم کئی۔ امت میں بڑے بڑے اہل علم ،دانشوراورسائنس داں پیداہوئی۔ سابق صدرجمہوریہ ہند ڈاکٹر عبدالکلام ایک معمولی گھرانے پیداہوئے لیکن علم نے انہیں کتنی بلندیوں پر پہنچادیا وہ کہتے تھی: خواب وہ نہیں جو سونے کی حالت میں دیکھے جاتے ہیں بلکہ خواب وہ ہیں جو آدمی کو سونے نہیں دیتے ‘‘ لہٰذا ہمارے اندر علم کے حصول کی وہی تڑپ ہونی چاہئے ۔انہوں نے اپنے تاثرات کے دوران مرکزی جمعیت کے ذمہ داروں کی مسابقہ کے انعقاد کے لئے ستائش کی اور مبارکباد پیش کی۔
پروفیسر اختر الواسع کمشنر برائے اقلیتی السنہ ، حکومت ہندنے کہا کہ میںپندرہ سالوں سے اس مسابقے کے انعقاد پر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانااصغرعلی امام مہدی سلفی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔انہوں نے اپنے تاثراتی کلمات کے دوران کہاکہ امت کا عروج وزوال دونوں قرآن کریم سے جڑے ہوئے ہیں۔ہمارے لئے خوشی کا مقام ہے کہ قرآن کریم کی گوناگوں خدمات خصوصا اس مسابقہ کا انعقاد مرکزی جمعیت کرتی ہی۔مدارس کی اہمیت بیان کرتے ہوئے پروفیسر صاحب نے کہا کہ مدارس اسلامیہ امت کے تحفظ کا ذریعہ ہیں اگر یہ نہ ہوتے تو ہندوستان کو اسپین بننے میں دیر نہیں لگتی لہٰذا ان کی اہمیت کو ہمیں سمجھنا چاہئے اور ان کے قیام واستحکام پر توجہ مبذول کرنی چاہئی۔
جماعت اسلامی ہندکے سکریٹری مولانا محمدرفیق قاسمی نے مرکزی جمعیت کے ذمہ داران وشرکائے مسابقہ کو مبارکباد دی نیز کہاکہ اگر قرآن کریم کی تعلیمات دنیا کے سامنے اس طرح پیش کی جاتیںجس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا عملی نمونہ پیش کیا تو آج حالات دیگر ہوتے اور امت اس کس مپرسی کے عالم کو نہ پہنچتی۔
شاہ ولی اللہ انسٹیٹیوٹ ،نئی دہلی کے چیئرمین مولانا عطاء الرحمن قاسمی نے مرکزی جمعیت کے ذمہ داران خصوصا ناظم عمومی مولانااصغرعلی سلفی کو سولہواں کل ہندمسابقہ حفظ وتجوید وتفسیر قرآن کریم کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی اور اسے وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔
مسابقہ میں ملک کی مختلف اہم جامعات ومدارس ومعاہدسے تشریف لائے حکم صاحبان کی نمائندگی کرتے ہوئے حافظ نثار احمد فیضی نے کہا کہ ہم مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند اور اس کے ذمہ داران کو سولہویںکل ہند مسابقہ حفظ و تجوید و تفسیر قرآن کریم کے انعقاد اور اس کے حسن انتظام پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں ۔مرکزی جمعیت قرآن کریم کی ہمہ جہت خدمات کا فریضہ بخوبی انجام دے رہی ہے اس کے لئے ہم ان کے شکر گذار ہیں ۔
پروگرام کے آغاز میں مسابقہ میں پوزیشن حاصل کرنے والے بعض طلبہ کا ایمان افروز مظاہرہ قرأت ہوا جس سے سامعین بے حد محظوظ ہوئے اورپروگرام کے اختتام سے قبل ملک کے کونے کونے سے آئے ہوئے بڑی تعداد میں طلبہ مدارس کے مابین ذمہ داران مرکزی جمعیت، اراکین مجلس عاملہ کے علاوہ مختلف اہم دینی، ملی اور علمی شخصیات کے ہاتھوں گراں قدر نقد انعامات ، توصیفی سند،گھڑیاں ، مصحف تقسیم کئے گئی۔ اسی طرح مسابقہ کے جملہ شرکاء کو تشجیعی انعامات، گھڑیاں، اور توصیفی اسناد دی گئیں۔ اس اختتامی اجلاس کا افتتاح مولانا قاری صغیر احمد سلفی استاذ جامعہ اثریہ دار الحدیث ، مئو کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ نظامت کے فرائض شیخ خورشیدعالم مدنی قائم مقام امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث بہارنے انجام دئے اور ناظم مالیات جناب الحاج وکیل پرویز نے مہمانان گرامی وحاضرین کا شکریہ ادا کیا۔
واضح رہے کہ یہ مسابقہ ۹۲اگست ۵۱۰۲ء کی صبح سے شروع ہوکردوروز تک جاری رہا جس میں پورے ملک سے تقریبا پانچ سو حفاظ وقراء اور مدارس اسلامیہ وعصری جامعات کے طلبہ شریک تھے حکم کے فرائض ہندوستان کی اہم دینی جامعات کے سولہ مؤقر اساتذۂ کرام وقراء عظام نے انجام دئی۔یہ مسابقہ کل چھ زمروں پر مشتمل تھا۔
پریس ریلیز کے مطابق سولہ سالوں سے مسلسل منعقد ہورہے اس دو روزہ کل ہند مسابقہ کے تمام چھ زمروں کے پوزیشن حاصل کرنے والے شرکاء کو انعامات سے نوازاگیا جس کی تفصیل اس طرح ہے :
زمرہ اول (حفظ و تجوید قرآن کریم مکمل)میں:
پہلا انعام مظفر عالم کتاب علی ،جامعہ اثریہ دار الحدیث ، مئو ، یوپی
دوسرا انعام محمد عدنان علی محمد،شہزادہ باغ جماعت غرباء اہل حدیث محمد ی مسجد،
ویلفئر ایسوسی ایشن،نئی دہلی۔۵۳
تیسراانعام عبدالحفیظ محمد رستم ،جامعہ اسلامیہ سنابل ،نئی دہلی ـ۵۲
زمرہ دوم( حفظ و تجوید قرآن کریم بیس پاری) میں:
پہلا انعام محمد سعد عبدالعزیز ،جامعہ ریاض العلوم، جامع مسجد، دہلی
دوسرا انعام محمد عادل بن محمد،جامعہ ابو ہریرہ الاسلامیہ لال گوپال گنج،
الہ آباد ، یوپی
تیسرا انعام عبدالجبار محمد ابراہیم،جامعہ اسلامیہ سنابل، نئی دہلی
زمرہ سوم ( حفظ وتجوید قرآن کریم دس پاری) میں:
پہلا انعام اسامہ وصی اللہ،جامعہ اسلامیہ سنابل، نئی دہلی
دوسرا انعام : محمد یعقوب محمد صالح،جامعہ عالیہ عربیہ مئوناتھ بھنجن ، یوپی
تیسرا انعام: محمد مجتبیٰ محمد نسیم اختر،جامعہ اسلامیہ سنابل، نئی دہلی
زمرہ چہارم ( حفظ وتجوید قرآن کریم پانچ پاری) میں:
پہلا انعام محمد سالم حفیظ الرحمن ،جامعہ اثریہ دار الحدیث ، مئو ناتھ بھنجن ، یوپی
دوسرا انعام احمد فراز صبغت اللہ،معہد عثمان بن عفان لتحفیظ القرآن وتجوید
القرآن الکریم ، نئی دہلی
تیسرا انعام محمد وسیم ناظم ،جامعہ اسلامیہ سنابل ، نئی دہلی
زمرہ پنجم ( ناظرہ قرآن کریم مکمل) میں:
پہلا انعام ابراہیم شکیل احمد،جامعہ ابو ہریرہ الاسلامیہ، لال گوپال گنج،
الہ آباد، یوپی
دوسرا انعام انضمام الحق محبوب عالم،جامعہ اسلامیہ سنابل، نیو دہلی
تیسرا انعام ۔ شہنواز شعیب الرحمن ،مدرسہ احمدیہ سلفیہ ملکی محلہ آرہ، ضلع بھوجپور،
بہار
زمرہ ششم(ترجمہ و تفسیر قرآن کریم ( منتخب سورتیں) میں:
پہلا انعام محمدعارف عبدالمالک،جامعہ ریاض العلوم دہلی
دوسرا انعام سعدبدرالزماں،جامعہ اسلامیہ سنابل،نئی دہلی
تیسرا انعام محمدجنیدمحمدرفیق،جامعہ ملیہ اسلامیہ ،نئی دہلی
٭٭٭

The Collective Fatwa against Daish and those of its ilk

ہمارے رسائل وجرائد

http://ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/al-isteqamah2gk-is-214.jpglink
http://ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/islahe-samaj2gk-is-214.jpglink
http://ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/jareeda-tarjumah2gk-is-214.jpglink
http://ahlehadees.org/modules/mod_image_show_gk4/cache/the-symple-truth2gk-is-214.jpglink
«
»
Loading…